منا بجرنگی کو مردہ سمجھنا دہلی پولس کو کتنا مہنگا پڑا!

منا بجرنگی گولی لگنے کے بعد بے سُدھ سڑک پر پڑا ہوا تھا جسے پولس نے مردہ سمجھ کر اسپتال پہنچا دیا۔ لیکن جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی سانسیں چل رہی ہیں تو پولس والوں کے ہوش اڑ گئے۔

20 سال پہلے 1998 میں دہلی واقع مکربا چوک کے پاس جی ٹی روڈ پر شمالی ضلع پولس کے ایک مبینہ انکاؤنٹر میں منابجرنگی کو 11-10 گولیاں لگی تھیں۔ اس واقعہ میں منا بجرنگی کا ایک ساتھی مارا گیا تھا لیکن وہ بچ گیا تھا۔ دراصل منا بجرنگی کو پولس نے مردہ سمجھ کر اسپتال لے گئی، لیکن وہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی سانس چل رہی ہیں۔ فوری طور پر ڈاکٹروں نے اس کا علاج شروع کر دیا اور بالآخر منا بچ گیا۔

جب پولس کو پتہ چلا کہ منا بجرنگی زندہ بچ گیا ہے، تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ انھیں خوف ستانے لگا کہ کہیں منا انکاؤنٹر کی قلعی نہ کھول دے۔ اس پولس ٹیم میں شمالی ضلع کے ڈی سی پی ایس این شریواستو اور اے سی پی راجبیر سنگھ بھی شامل تھے۔ جیسے ہی منا کے بچنے کی خبر انھیں ملی، سبھی افسران کی حالت خستہ ہو گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق منا بجرنگی نے ایس ڈی ایم کو جو بیان دیا اس کی بنیاد پر ایس ڈی ایم نے پولس افسروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے جانچ کرانے کی تیاری کر لی۔ یہ پتہ چلتے ہی بہادری ایوارڈ کی امید لگائے بیٹھے افسروں کے پیروں تلے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس وقت شمال مغربی ضلع کے ایک پولس افسر نے ایس ڈی ایم کو سمجھایا اور جس کے بعد ایس ڈی ایم نے منا بجرنگی کے بیان کی بنیاد پر صرف مناسب کارروائی کرنے کا ہی حکم دیا۔ اس حکم کے بعد پولس افسروں نے راحت کی سانس لی۔

پولس ذرائع کے مطابق منا بجرنگی کی دونوں ہتھیلیوں او انگلیوں میں گولیاں لگی تھیں جس سے ظاہر تھا کہ پولس کی گولیوں سے خود کو بچانے کے لیے اس نے ہتھیلیاں آگے کر دی تھیں۔ اس سے یہ بھی لگتا ہے کہ اس نے گولی نہیں چلائی تھی۔ منا اپنے ساتھی کے ساتھ ہریانہ سے کار میں آیا تھا۔ سمئے پور بادلی تھانہ علاقہ میں جی ٹی روڈ پر یہ مبینہ انکاؤنٹر ہوا۔ منا کے سر میں بھی گولی لگی تھی۔ اتنی گولیاں لگنے کے بعد بھی اس کے زندہ بچ جانے پر سبھی حیران ہو گئے تھے۔

اس معاملے سے جڑے ایک سینئر پولس افسر نے بعد میں بتایا کہ منا بجرنگی نے اسپتال میں کہا تھا کہ یہاں بھی اس پر دشمن حملہ کر سکتے ہیں اس لیے پولس کا پہرہ بڑھا دو۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کا بے رحمی سے قتل کرنے والا منا بجرنگی اپنے دشمنوں سے ہمیشہ ڈرا رہتا تھا۔ بہر حال، پریم پرکاش عرف منا بجرنگی کے دشمنوں نے انھیں 9 جولائی 2018 کو ختم کر ہی دیا۔ ان کا قتل باغپت جیل میں گولی مار کر کیا گیا۔

سب سے زیادہ مقبول