ظفر آغا کی رحلت صحافتی دنیا کے لیے عظیم خسارہ، شاہ مرداں میں نماز جنازہ، حوض رانی قبرستان میں تدفین

ظفر آغا کی رحت صحافتی دنیا کے لیے عظیم خسارہ ہے، انہیں قومی کی ہمدردی اور دوستانہ مزاج کے لیے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ ان کی نماز جنازہ شاہ مرداں میں دوپہر 1.30 بجے جبکہ تدفین حوض رانی قبرستان میں ہوگی

<div class="paragraphs"><p>قومی آواز</p></div>

قومی آواز

user

سہیل ہاشمی

نئی دہلی: قومی آواز کے چیف ایڈیٹر ظفر آغا کا جمعہ کو علی الصبح 5.30 بجے انتقال ہو گیا، وہ 70 برس کے تھے۔ ظفر آغا شدید نمونیا اور چھاتی کے انفیکشن میں مبتلا تھے۔ انہوں نے دہلی کے فورٹس اسپتال، وسنت کنج میں آخری سانس لی۔ ظفر آغا کے بیٹے مونس آغا آخری وقت تک ان کے ساتھ تھے۔ ظفر آغا کی رحت صحافتی دنیا کے لیے عظیم خسارہ ہے اور ان کو قومی کی ہمدردی اور دوستانہ مزاج کے لیے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

اسپتال کی خانہ پری کے بعد ظفر آغا کے جسد خاکی کو دہلی کے شاہ مرداں (بی کے دت کالونی)، جور باغ میں لے جایا جائے گا۔ اس کے بعد ان کو غسل دیا جائے گا اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ تدفین شام 4 بجے پریس انکلیو، ساکیت سے متصل حوض رانی قبرستان میں عمل میں لائی جائے گی۔


ظفر صاحب نے 1979 میں لنک میگزین سے بطور صحافی اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 45 سال سے زائد عرصے تک اس پیشے میں سرگرم رہے۔ اس دوران انہوں نے پیٹریاٹ، بزنس اینڈ پولیٹیکل آبزرور، انڈیا ٹوڈے کے پولیٹیکل ایڈیٹر، ای ٹی وی اور روزنامہ انقلاب کے ساتھ کام کیا۔

ظفر آغا نے اپنے آخری دور میں نیشنل ہیرالڈ گروپ کے ساتھ بطور چیف ایڈیٹر قومی آواز اور بعد میں نیشنل ہیرالڈ گروپ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنے صحافتی کیریئر کے علاوہ انہوں نے 2017 تک قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی اداروں کے رکن اور بعد ازاں باضابطہ چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔


ظفر آغا 1954 میں الہ آباد میں پیدا ہوئے اور یادگار حسینی انٹر کالج اور الہ آباد یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہ انگریزی ادب کے طالب علم تھے اور الہ آباد یونیورسٹی میں وہ ترقی پسند طلبہ تحریک میں شامل ہوئے اور زندگی بھر بائیں بازو اور جمہوری سیاست سے وابستہ رہے۔ دہلی یونین آف جرنلسٹس کے ساتھ سرگرم ظفر آغا نے 1979 میں دہلی میں دی لنک میگزین میں شامل ہونے سے پہلے سورت میں انگریزی کے استاد کے طور پر کام شروع کیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔