’آپ فیل نہیں ہوئے ہیں، اس لیے خود کو سزا مت دیجیے‘، امتحانات میں بے ضابطگی کا سامنا کر رہے طلبا سے کانگریس کی اپیل
کانگریس لیڈر کنہیا کمار نے کہا کہ ’’ملک میں بڑے بڑے عہدوں پر نااہل لوگوں کو بٹھایا جا رہا ہے، اور ہم جب سوال اٹھاتے ہیں تو ہم پر سیاست کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔‘‘

’’میری سبھی طلبا سے اپیل ہے کہ آپ فیل نہیں ہوئے ہیں، اس لیے خود کو سزا مت دیجیے۔ راہل گاندھی جی، کانگریس پارٹی آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ آنے والے وقت میں ’چھاتروں کی گونج‘ پورے ملک میں صدائے احتجاج کی شکل اختیار کرے گی۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس کے نوجوان لیڈر اور این ایس یو آئی انچارج کنہیا کمار نے دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے طلبا کو بھروسہ دلایا کہ امتحانات میں جو بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں، ان کے خلاف جنگ میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پریس کانفرنس کے آغاز میں موجودہ تعلیمی نظام پر فکر کا اظہار کرتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ ’’اڈیشہ کے نصاب میں سائنسدانوں کو پائلٹ بتا دیا گیا۔ ایسی کئی غلطیاں ہیں۔ وہیں راجستھان میں امتحان میں سوالنامہ کی جگہ جوابی شیٹ دے دی گئی۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ لوگوں کو ناخواندہ رکھ کر ملک کو ترقی یافتہ کیسے بنایا جائے گا؟ جب ملک میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں، تو ہندوستان ترقی یافتہ کیسے بنے گا؟‘‘ طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’پرچی والے وزیر اعظم کے راج میں تعلیم کو ’پروڈکٹ‘ بنا دیا گیا ہے۔ آج تعلیم کسی کے لیے آسان نہیں ہے اور اس کے ذمہ دار وہ نااہل لوگ ہیں جو عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ دراصل مودی حکومت کا تعلیم کو لے کر زاویۂ نگاہ ہی گڑبڑ ہے۔‘‘
وزیر اعظم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے جملہ دیا تھا– ہم ہارورڈ والے نہیں، بلکہ ہارڈ ورک (سخت محنت) والے ہیں۔ ان کا یہی ہارڈ ورک ہے کہ پیپر لیک ہو جا رہا ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ جو حکومت ’ووٹ چوری‘ کرے گی، وہ پیپر چرائے گی۔ جس حکومت میں بیٹھے لوگ ایجوکیشن کا ’ای‘ نہیں جانتے، وہ ایسا ہی شگوفہ چھوڑیں گے اور ٹیلیگرام پر پابندی لگا دیں گے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’پیپر لیک روکنے کے لیے سخت قدم اٹھانے ہوں گے، این ٹی اے پر پابندی لگانی ہوگی۔ لیکن ’پریکشا پر چرچہ‘ کرنے والے پی ایم مودی پیپر لیک پر ایک لفظ نہیں بولتے۔ آج کوئی ایسا امتحان نہیں جس کا پیپر لیک نہ ہو رہا ہو۔ اب سوال یو پی ایس سی جیسے امتحان پر بھی اٹھ رہا ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ان سب کے لیے مودی حکومت میں بیٹھے لوگوں کے ناکارے پن کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ’’حکومت میں تعلیم کے تئیں سنجیدگی کی کمی نے تعلیم جیسے اہم نظام کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ ’’راہل گاندھی نے صاف صاف کہا ہے، ہم تعلیم پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن آج ہر ماں باپ کو ڈر لگ رہا ہے کہ ہمارا بچہ کچھ کر نہ لے۔ بچے شدید ڈپریشن میں ہیں۔ لیکن بی جے پی کا ایک بھی لیڈر یہ نہیں کہہ رہا کہ نیٹ کا امتحان دوبارہ ہو رہا ہے۔ وہ ذمہ داری لینے کی جگہ راہل گاندھی سے سوال پوچھ رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ سوال پوچھا کہ کیا مرکز میں کانگریس پارٹی کی حکومت ہے، جو راہل گاندھی سے سوال کیا جا رہا ہے۔ پی ایم مودی کو راہل گاندھی جی کی بات سننی چاہیے، کیونکہ تعلیم سیاست کا مسئلہ نہیں ہے۔
نیٹ پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگی سے افسردہ کچھ طلبا کی مبینہ طور پر خودکشی کا حوالہ دیتے ہوئے کنہیا کمار کہتے ہیں کہ ’’آج تعلیمی نظام پر سے عام لوگوں کا بھروسہ ٹوٹ گیا ہے۔ طلبا سے خواب دیکھنے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ ملک کی حکومت عوام کی جیب کاٹ رہی ہے۔ مودی حکومت نے تعلیم کو ’پروڈکٹ‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ملک میں بڑے بڑے عہدوں پر نااہل لوگوں کو بٹھایا جا رہا ہے، اور ہم جب سوال اٹھاتے ہیں تو ہم پر سیاست کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پیپر لیک کروانا حب الوطنی کا کام ہے؟‘‘
تعلیمی نظام اور تعلیمی بجٹ سے متعلق کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’آج تعلیم کے مجموعی بجٹ سے زیادہ لوگ اپنی جیب سے خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ان کے بچوں کو معیاری تعلیم ملے گی۔ کانگریس پارٹی کے لیے تعلیم کا معاملہ بہت اہم ہے، اور ہم لگاتار سڑکوں پر جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’مودی حکومت ٹیلیگرام پر پابندی لگا کر معاملہ رفع دفع کر رہی ہے۔ پیپر لیک کا پتہ تب چلا جب کچھ لوگوں کو کروڑوں روپے میں فروخت کیے گئے پیپر کو ٹیلیگرام پر شیئر کر دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت نے تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے، لوگوں کا تعلیمی نظام سے بھروسہ اٹھ گیا ہے، طلبا ڈپریشن میں ہیں اور خودکشی جیسے قدم اٹھا رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی لیڈران اور وزراء کے بچے بیرون ملک میں پڑھ رہے ہیں۔‘‘
پریس کانفرنس کے آخر میں کنہیا کمار نے پی ایم مودی کے بیرون ملکی دورہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’پی ایم مودی کو جب بھی ورلڈ ٹور سے چھٹی ملے، تب وہ پیپر لیک پر خاموشی توڑیں، دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لیں، این ٹی اے پر پابندی لگائیں، پیپر لیک کے سبھی قصورواروں پر سخت کارروائی کریں، شفاف امتحان کرانے کے لیے اہل ادارہ قائم کریں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے طلبا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’میری سبھی طلبا سے اپیل ہے کہ آپ فیل نہیں ہوئے ہیں، اس لیے خود کو سزا مت دیجیے۔ راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ آنے والے وقت میں ’چھاتروں کی گونج‘ پورے ملک میں صدائے احتجاج بلند کرے گی۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
