’آپ کو جتنا پریشان کرنا ہے کر لو، ہم نہیں رکیں گے‘، پارٹی کارکنان کے خلاف پولیس کارروائی سے کانگریس ناراض

ایل پی جی کی بڑھائی گئی قیمت کے خلاف خاتون کانگریس کے عہدیداروں نے آواز اٹھائی، تو انھیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔ اس معاملہ میں خاتون کانگریس کی صدر الکا لامبا نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایل پی جی کی بڑھی ہوئی قیمتوں اور ملک کے موجودہ حالات سے مایوس مہیلا کانگریس کی لیڈران مظاہرہ کرتی ہوئیں، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’’ہردیپ پوری نے 9 فروری کو کہا تھا کہ ملک میں ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے، گودام بھرے ہوئے ہیں۔ لیکن پورے ملک سے خبریں آ رہی ہیں کہ ہر جگہ ایل پی جی سلنڈر کی کمی ہو چکی ہے۔ پورا ملک اس قلت کی زد میں آ چکا ہے۔ جس دن ایل پی جی سلنڈر کی قیمت بڑھی تھی، تبھی ہم ہردیپ پوری سے ملنے گئے تھے، لیکن انھوں نے ملنے سے انکار کر دیا۔ لیکن ہم رکے نہیں، ہم نے آواز کو بلند کیا۔ نتیجہ یہ رہا کہ عوام کی آواز اٹھانے کے لیے ہمارے اوپر ایف آئی آر درج کر دی گئی۔‘‘ یہ بیان آج مہیلا کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا نے ایک پریس کانفرنس میں دیا۔ انھوں نے میڈیا سے کہا کہ وزیر اعظم مودی ’کمپرومائزڈ‘ ہو چکے ہیں، اسی لیے ملک میں ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں۔

پریس کانفرنس میں الکا لامبا نے جو ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی، اس پر ’پی ایم اِز کمپرومائزڈ‘ لکھا ہوا تھا۔ ساتھ ہی وہ اس کے لیے دلیلیں بھی پیش کر رہی تھیں کہ امریکہ اور ٹرمپ کے سامنے پی ایم مودی کے ’سمجھوتہ‘ کرنے کا انکشاف کس طرح ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج وہائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کا بیان وائرل ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا– ہم نے ہندوستان کو روس سے تیل لینے کے لیے منع کیا اور ہندوستان نے ویسا ہی کیا۔ اب ہم نے انھیں ایک ماہ روس سے تیل لینے کی اجازت دے دی ہے۔‘‘ الکا کہتی ہیں کہ ’’اس بیان سے صاف جھلکتا ہے کہ کمپرومائزڈ نریندر مودی نے ٹرمپ کے آگے ’سرینڈر‘ کر دیا ہے اور ملک کے وقار کو تار تار کر دیا ہے۔‘‘ وہ عزم ظاہر کرتی ہیں کہ ’’ہم یہ برداشت نہیں کریں گے، اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور تحریک چلائیں گے۔‘‘


خاتون کانگریس کارکنان کے خلاف ہوئی پولیس کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ ’’کل ہماری مہیلا کانگریس کی عہدیداروں کو شام 8-6 بجے تک تھانہ لے جا کر بٹھایا گیا۔ جب میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو ہم سے کہا گیا کہ ’پی ایم اِز کمپرومائزڈ‘ کی مہم بند کر دیجیے اور ہردیپ پوری کے گھر کے آگے احتجاج مت کیجیے۔ ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ ملک میں کچھ بھی غلط ہوگا تو ہم جمہوری حق کے تحت تحریک چلائیں گے۔ آپ کو جتنا پریشان کرنا ہے کر لو، لیکن ہم نہیں رکیں گے۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے امریکہ اور ٹرمپ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور ان کی خارجہ پالیسی پوری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس کا اثر ملک میں صاف دکھائی دے رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا، اسرائیل کو ’فادر‘ بتا دیا اور ان کے ہندوستان لوٹتے ہی اسرائیل نے جنگ شروع کر دی۔ آج ہندوستان بھی امریکہ-اسرائیل اور ایران کی جنگ میں جھلس رہا ہے۔‘‘


ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے مہیلا کانگریس صدر نے کہا کہ ’’مودی حکومت نے گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت 60 روپے اور کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت 115 روپے بڑھا دی۔ ملک کے پٹرولیم وزیر ہردیپ پوری جوابدہی سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں پارلیمنٹ اجلاس چل رہا ہے اور مودی جی تمل ناڈو میں انتخابی تشہیر کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے میڈیا اہلکاروں کے سامنے کہا کہ ’’ہم نریندر مودی سے کہنا چاہتے ہیں، مودی جی! دہلی واپس آئیے اور جو آپ نے گٹر سے گیس بنانے کی ٹیکنالوجی بتائی تھی، اس کا فائدہ ملک کے لوگوں کو دیجیے۔ لوگوں کی مشکل کو ختم کیجیے۔‘‘

الکا لامبا نے وزیر اعظم مودی کے تئیں اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ وہ عوام کو اکثر مشکل میں ڈال دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں قطار میں لگنا پڑ جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی کی حکومت میں پہلے نوٹ بندی سے پورے ملک کو قطار میں کھڑا کر دیا گیا، پھر کورونا میں لگوں کو آکسیجن کے لیے قطار میں کھڑا ہونا پڑا حتیٰ کہ شمشان گھاٹ میں بھی قطار دیکھی گئی، اور اب ملک میں ایل پی جی کی قلت ہے اور لوگ قطار لگا کر کھڑے ہیں۔‘‘ انھوں نے اس بات پر شدید فکر ظاہر کی کہ اس مشکل دور میں ہندوستان تیل کس ملک سے خریدے گا، اس کا فیصلہ بھی امریکہ کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج ہمارے ملک میں تیل کب اور کہاں سے لیا جائے گا، اس کا فیصلہ امریکہ کر رہا ہے۔ نریندر مودی نے خود کو بچانے کے لیے پوری طرح سرینڈر کر دیا ہے، کیونکہ امریکہ ایپسٹین فائل دکھا کر نریندر مودی کو ڈرا رہا ہے اور بلیک میل کر رہا ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔