یوگی کی حلف برداری: ہندو-مسلم کے نام پر اقتدار تو حاصل کر لیا، درپیش مسائل سے کس طرح مقابلہ کریں گے ’مہاراج‘؟

یوگی آج یوپی کے وزیر اعلی عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں، یہ پہلا موقع ہے جب یوپی میں کوئی وزیر اعلیٰ مسلسل دوسری مدت کے لیے حلف لے گا، تاہم اپنی دوسری مدت کار کے دوران انہیں مختلف مسائل کا سامنا رہے گا

یوگی آدتیہ ناتھ / تصویر ٹوئٹر / @ANI
یوگی آدتیہ ناتھ / تصویر ٹوئٹر / @ANI
user

کے. سنتوش

لکھنؤ: بی جے پی کے حامی یہ مان رہے ہیں کہ ان کی پارٹی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی جیت جائے گی۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ نریندر مودی 2024 میں یا اگلے سال وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑ دیں گے اور اس کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ سب سے اوپر ہوں گے۔ ابھی تو اسے ان کی خوش فہمی ہی سمجھئے لیکن اتنا ضرور ہے کہ 2024 کے عام انتخابات یوگی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گے۔

یوگی نے اپنے سخت امتحان کے لیے انتخابات کے دوران خود ہی سنکل پتر (عہد نامہ) جاری کیا ہے، لہذا اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا چیلنج ان کے سامنے رہے گا۔ اس کے ساتھ بڑی بات یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے لوک سبھا سے استعفیٰ دے کر ریاست کی سیاست میں سرگرم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس بار سڑک سے اسمبلی تک مضبوط اپوزیشن موجود رہے گی اور اگلے دو سال ہنگامہ آرائی کے ہوں گے۔ ایسے حالات میں پانچ چیلنجز ہیں جن سے یوگی حکومت کو مقابلہ کرنا ہے۔


سنکلپ پتر پر عمل

انتخابات کے وقت جاری کردہ 'لوک کلیان سنکلپ پتر' کے نفاذ کے لیے اضافی 55 ہزار کروڑ کی ضرورت ہوگی۔ کسانوں کو سینچائی کے لیے مفت بجلی، 60 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے روڈویز میں مفت سفر، معذوروں، بیواؤں اور بزرگ شہریوں کو 1500 روپے پنشن دینے کا وعدہ تبھی پورا ہو سکے گا۔ ’وزیر اعلیٰ کنیا سمنگلا یوجنا‘ کے تحت مالی امداد 15 سے بڑھا کر 25 ہزار کر دی گئی ہے اور گنے کے کسانوں کو 14 دنوں میں ادائیگی کا وعدہ پورا کرنا آسان نہیں ہے۔ گنے کے کاشتکاروں کے 5000 کروڑ سے زیادہ کے واجبات ابھی باقی ہیں۔

روزگار

مندر اور ہندو مسلم کارڈ کے نام پر بی جے پی کو ووٹ دینے والے بھی بے روزگاری سے پریشان ہیں۔ اسامیاں اور تعطل کا شکار امتحانات انہیں پریشان کر رہے ہیں۔ ’سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی‘ کی رپورٹ کے مطابق یوپی میں 29.72 لاکھ بے روزگار ہیں۔ ان میں سے 19.34 لاکھ 20 سے 24 سال کی عمر کے ہیں۔ ایس پی حکومت کے آخری سال یعنی 2017 میں بے روزگاروں کی تعداد محض 9.93 لاکھ تھی۔ کورونا کے دور میں تمام نوکریاں ختم ہو گئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق یوپی میں کام کرنے والوں کی تعداد میں تقریباً 16 لاکھ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ایسے میں سب کی نظریں اس پر لگی ہوں گی کہ اگلے پانچ سالوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ شفاف امتحان کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔


پنشن کا پرانا نظام

پرانی پنشن کی بحالی پر پورے الیکشن میں بی جے پی محاصرہ میں رہی۔ لوک سبھا انتخابات سے پہلے یہ مسئلہ اس لیے بھی چیلنج ہے کیونکہ راجستھان-چھتیس گڑھ نے پرانی پنشن بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاملے میں تقریباً 28 لاکھ ملازمین کی ناراضگی کا اندازہ پوسٹل ووٹوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ پوسٹل بیلٹ سے ایس پی کو 51.5 فیصد ووٹ ملے اور 304 سیٹوں پر ایس پی اتحاد کو برتری بھی حاصل ہوئی۔ واضح رہے کہ سرکاری ملازمین پرانی پنشن کی امید میں ایس پی کے ساتھ گئے تھے۔ وزیر اعلی کے ضلع گورکھپور میں ہی بی جے پی کو 9 اسمبلی حلقوں میں سے صرف ایک پر برتری حاصل ہوئی ہے۔ گورکھپور یونیورسٹی کے پروفیسر۔ ہرش کمار سنہا کا ماننا ہے کہ 'پوسٹل بیلٹ میں ایس پی کے لیے زیادہ حمایت کی وجہ پرانی پنشن کا مطالبہ ہے'۔

نظم و نسق عرف بلڈوزر بابا!

مافیا پر کارروائی کرنے کے سبب یوگی آدتیہ ناتھ کو ’بلڈوزر بابا‘ کا لقب حاصل ہوا لیکن یوپی میں حزب اختلاف کی جانب سے یوگی حکومت کو دن دیہاڑے قتل اور ذات پات پر مبنی مجرموں پر نرمی کے لیے لگاتار ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ بے لگام بیوروکریسی اور آمرانہ پولیس پر موثر کنٹرول بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔


آوارہ جانور

یوپی انتخابات میں آوارہ جانوروں کا مسئلہ ہر گاؤں شہر میں اہم طور پر چھایا رہا۔ وزیر اعظم مودی کو بھی 19 فروری کی انتخابی میٹنگ میں تسلیم کرنا پڑا کہ یہ مسئلہ اتنا بڑا ہے، پتہ نہیں تھا۔ اس کے لیے 10 مارچ کے بعد قومی پروگرام بنانے کا وعدہ بھی کیا لیکن 15 دن گزرنے کے باوجود آج تک کچھ نہیں ہوا۔ جانوروں کی اسمگلنگ کو روکنے کے اقدامات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن یوگی حکومت کے دوران گئو رکشا کے نام پر فسادات اتنے بڑھ گئے کہ اپنے جانور کو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں لے جانا بھی مشکل ہو گیا۔ اب مویشی مالکان دودھ نہ دینے والے جانوروں پر خرچہ نہیں کرنا چاہتے، اس لیے مسائل کم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔

ریاستی حکومت نے صرف تین سالوں میں آوارہ جانوروں پر 400 کروڑ سے زیادہ خرچ کیے لیکن یہ مسئلہ ذرا بھی کم نہیں ہوا۔ ریاست کی 6000 گئوشالاؤں اور مویشی پالنے والوں کے ذریعے 9 لاکھ سے زیادہ آوارہ جانوروں کے تحفظ کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، لیکن ’کانہا اپون‘ اور گئوشالوں میں گائیوں کی ہلاکت کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔ اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وزیر اعظم مودی چھتیس گڑھ حکومت کے ماڈل کو نافذ کر کے گوبر گیس کو فروغ دینا چاہتے ہیں لیکن یہ منصوبہ ایک دن میں تو لاگو ہونے سے رہا، اس لیے آوارہ جانور حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بنے رہیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔