مظفر نگر فساد متاثرین پر یوگی حکومت کی ’زبردست چوٹ‘،38 مقدمے ہوں گے واپس

مقدمات واپس لیے جانے کے فیصلہ پر سماجوادی پارٹی نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی برسراقتدار ہوئی توان سبھی ملزمین پردوبارہ مقدمے کیے جائیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا 
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

مظفر نگر فساد متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اس فساد سے جڑے 38 کیسوں کو واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان 38 کیسوں کو واپس لیے جانے کے بعد 100 سے زائد ملزمین پر درج مقدمے بھی واپس ہو جائیں گے۔ اس تعلق سے اسپیشل سکریٹری جے پی سنگھ اور انڈر سکریٹری ارون کمار کے ذریعہ تیار کردہ خط گزشتہ ہفتہ ہی مظفر نگر ضلع مجسٹریٹ کو بھیجا جا چکا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق مظفر نگر فساد سے منسلک جن 38 کیسوں کو واپس لینے کا فیصلہ لیا گیا ہے ان میں ڈکیتی، آگ زنی، مذہبی مقام کو ناپاک کرنے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے معاملے شامل ہیں۔ عدالت میں جو رپورٹ یوگی حکومت کے ذریعہ بھیجی گئی ہے اس میں گورنر کی اجازت کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ جس خط کی بات کی جا رہی ہے وہ گزشتہ 29 جنوری کو ہی مظفر نگر ضلع عدالت کو بھیجا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے 2013 میں 6 پولس تھانوں میں درج 119 معاملوں کی واپسی سے متعلق مشورہ مانگا تھا۔ موجود دستاویزات کا تجزیہ احتیاط کے ساتھ کیا گیا اور اس کے بعد ضلع عدالت کے سامنے معاملوں کی واپسی کی درخواست کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ لکھنؤ میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنجیو بالیان نے کئی مواقع پر مظفر نگر فساد معاملہ پر درج مقدمات کی واپسی کی بات کہی تھی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ مل کر بھی انھوں نے کئی بار اس طرف قدم بڑھائے جانے کی بات کہی تھی۔ بالیان کا الزام ہے کہ حکومت کے ذریعہ تشکیل ایس آئی ٹی نے بااثر اور امیر لوگوں کو کلین چٹ دے دی تھی جبکہ غریب لوگوں کو پھنسا دیا۔

کیس واپسی کے فیصلہ کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے یوگی حکومت کی تنقید شروع کر دی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کی حکومت آنے پر ان سبھی کے خلاف دوبارہ مقدمہ درج کیے جائیں گے جن کے مقدمے واپس لیے گئے ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنجیو بالیان نے کیس واپسی کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہندو ہونا کوئی جرم نہیں ہے، میں ان کے لیے ہمیشہ لڑوں گا اور میں وزیر اعلیٰ کا شکرگزار ہوں کہ انھوں نے کیس کو واپس لینے کا فیصلہ لیا۔‘‘