’یوگی حکومت مخالفین کے آئینی حقوق تلف کر رہی ہے‘

تاریخی مقام گھنٹہ گھر پر سی اے اے کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے کے 60 دن پورے ہوگئے ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق پولیس نے آج 17 نامزد اور 150 نامعلوم افراد کے خلاف 10 دفعات کے تحت مقدمے درج کیے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: اتر پردیش حکومت پر شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف آئینی طور سے آواز بلند کرنے والوں کو خائف کرنے کا الزام لگاتے ہوئے رہائی منچ نے منگل کو کہا کہ ریاستی حکومت سی اے اے مخالفین کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے آئینی حقوق تلف کر رہی ہے۔

ریاستی راجدھانی کے تاریخی مقام گھنٹہ گھر پر شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے کے 60 دن پورے ہوگئے ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق پولیس نے آج 17 نامزد اور 150 نامعلوم افراد کے خلاف 10 دفعات کے تحت مقدمے درج کیے ہیں۔

رہائی منچ کے صدر شعیب ایڈوکیٹ نے ریاستی پولیس پر الزام لگایا کہ دفعہ 144 کے بہانے شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف یک طرفہ کارروائی کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ رہائی منچ ٹھاکر گنج پولیس کی جانب سے اس ضمن میں درج کی گئی ایف آئی آر اور گرفتاریوں کی مذمت کرتی ہے۔

لمبے عرصے تک دفعہ 144 کے نفاذ کو سپریم کورٹ کی ہدایات کے خلاف قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس تبصرے کے باوجود لمبے عرصے تک دفعہ 144 نہیں لگائی جاسکتی، اترپردیش حکومت نا صرف سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی کر رہی ہے بلکہ اپنی طاقت کا استعمال کر کے آئینی حقوق تلف کر رہی ہے۔

ایڈوکیٹ شعیب نے پولیس پر 19 دسمبر کو پیش آئے تشدد میں گرفتاری کے بعد رہا ہونے والے نوجوانوں کو ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس لگاتار راتوں کو نوجوانوں کے گھروں پر چھاپہ مار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پولیس کے ذریعہ اس طرح کی دبش سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین
next