ڈاکٹر کفیل کو بلی کا بکرا بنایا

ڈاکٹر کفیل احمد (فوٹو ٹوئٹر)
ڈاکٹر کفیل احمد (فوٹو ٹوئٹر)
user

سید خرم رضا

نئی دہلی، دو دن پہلے تک جو شخص ہیرو تھا اب اس پر الزامات کی بوچھار ہو رہی ہے، اس کو کٹگھرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔ کل تک جس ڈاکٹر کفیل کے بارے میں یہ کہا جا رہا تھاکہ وہ مریض بچوں کے لئے مسیحا ثابت ہوئے اب ا ن پر الزام لگائے جا رہے ہیں کہ وہ آ کسیجن سلینڈر چراتے تھے، اسپتال میں نوکری کے با وجود وہ پرائیویٹ پریکٹس کرتے تھے ، کالج کے پرنسپل کے ساتھ ملکر گھپلےکرتے تھے اور ان کے خلاف ایک خاتون کے ساتھ جنسی استحصال کا معاملہ بھی درج ہے۔ یہ کوئی نیا رجحان نہیں ہے کیونکہ حکومت نہ تو اتنی بہادر ہے کہ وہ اپنی غلطی یا کمیاں تسلیم کر لے اور نہ ہی اتنی با اخلاق ہے کہ ان اموات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اتر پردیش کے وزیر صحت سے استعفی لے لے ۔ جے پور کے سافٹ ویئر انجینئر دھرم ویر سنگھ نے ڈاکٹر کفیل کو ہٹائے جانے پر ٹویٹ کیا ہے ’’کفیل خان کو مجرم ثابت کرنےکے دو فائدے ہوں گے، پہلا تو کارروائی اور دوسرا ہندو مسلم کارڈ بھی کھیل دیا‘‘۔ جس وقت آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی کے مالکان کے گھروں پر چھاپے مارے جانے چاہئے ، وزیر صحت کو اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے مستعفی ہو جاناچاہئے اس وقت اسپتال کے ایک ڈاکٹر پر یہ الزام لگا کر ہٹا دیا گیا کہ وہ اسپتال میں نوکری کرتے ہوئے پرائیویٹ پریکٹس کر رہے تھے اور دو سال قبل ایک خاتون نے ان پر جنسی استحصال کا الزام لگایا تھا۔گورکھپور کے معروف صحافی منوج سنگھ نے قومی آواز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ڈاکٹر کفیل کے تعلق سے جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے اس میں کچھ بھی سچائی نہیں ہے بس ان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس سب کا مقصد یہ ہے کے بچوں کی موت کا مدا پیچھے چلا جائے اور میڈیا میں ڈاکٹر کفیل پر بحث شروع ہو جائے۔ اس سارے معاملے میں ایک تمہید باندھکرسوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی ہےکہ ڈاکٹر کفیل اچھے انسان نہیں ہیں۔سمجھ میں نہیں آ رہا ہےکہ اس طرح کی بے بنیاد باتیں کیسے ہو رہی ہیں‘‘ ۔ آکسیجن سلینڈر چوری کے معاملے پر منوج کا کہنا ہے کہ ’’ بھرے ہوئے آکسیجن سلینڈر اٹھانے کے لئے کم سے کم چار افراد کی ضرورت پڑتی ہے اور پھرلے جانے کے لئے ایک بڑی گاڑی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں ہے جو جیب میں رکھ کر لے جائی جا سکے۔ اس سلینڈر کی قیمت بھی محض دو ہزار روپے ہے ‘‘۔ منوج نے مزید کہا کہ’’ ڈاکٹر کفیل کے تعلق سے دو باتیں اور کہیں جا رہی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ پرائیویٹ پریکٹس بھی کرتے ہیں اور دوسری یہ کہ ان پر کسی خاتوں کے ساتھ جنسی استحصال کا معامالہ درج ہے۔ دونوں ہی معاملے ایسے ہیں کہ جن کا تعلق ان بچوں کی اموات سے کچھ بھی نہیں ہے۔ پرائیویٹ پریکٹس کا معاملہ یہ ہے کہ ان پر ایسی کوئی شرط لاگو نہیں ہوتی کیونکہ وہ کنٹریکٹ پر ہیں اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈاکٹروں پر ایسی کوئی پابندی لاگو نہیں ہوتی۔ دوسرا الزام کسی خاتون کے ساتھ جنسی استحصال کا ہے تو وہ الزام بھی اس وقت کا ہے جب وہ میڈیکل کالج میں نہیں تھے۔ اس معاملے میں کیس درج ہونے کے بعد جانچ بھی ہو چکی ہے اور ابھی تک کچھ بھی ثابت نہیں ہوا اور یہ معاملہ بھی دو سال پہلے کا ہے ۔ اصل میں میڈیا میں ڈاکٹر کفیل کی جو تعریف ہونے لگی تھی اور میڈیکل کالج میں جو چیزیں خراب ہو رہی تھیں ان پر انہوں نے کچھ روز قبل میڈیا میں بیان دیا تھا اور انہی وجہ سے ان کو بلی کا بکرا بنایا جا رہا ہے‘‘۔ منوج نے یہ بھی بتایا کہ ’’ڈاکٹر کفیل کا عہدہ کوئی ایسا عہدہ نہیں ہے جہاں ان کی کسی بھی معاملے میں سیدھی مداخلت ہو۔ وہ تو کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ان کو نوڈل افسر کی ایک علیحدہ ذمہ داری دی گئی ہے‘‘۔ بی آر ڈی کالج کے انسیفلائٹس ڈپارٹمنٹ میں جہاں کے ڈاکٹر کفیل ہیڈ تھے وہاں کی سسٹر انچارج رجنی فرینک اس سارے معاملے پر غمزدہ ہیں اور انہوں نے قومی آواز کو بتایا کہ ’’ ڈاکٹر کفیل پر جو بھی الزام لگائے جا رہے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں۔ وہ بہت ہی اچھے انسان ہیں ۔ آپ ان کے بارے میں وہاں پتہ کرئیے جہاں وہ پہلے تھے وہ آپ کو بتائیں گے کہ وہ کتنے اچھے آدمی ہیں۔ وہاں کے لوگ بتاتے ہیں کہ اگر کبھی کسی غریب کو خون کی ضرورت پڑی ہے تو انہوں نے اپنا خون دیا ہے ۔ایک سال سے میں ان کے ساتھ کام کر رہی ہوں اور اس دوران میں نے دیکھا کہ وہ بہت ہی اچھے انسان ہیں وہ سب کی مدد کرتے ہیں ۔ آپ یہاں کے کسی بھی اسٹاف سے پوچھ لیجئے سب یہ ہی کہیں گے کہ وہ بہت ہی اچھے شخص ہیں‘‘۔ ڈاکٹر عزیز جومشرقی اتر پردیش کے ایک معروف ڈاکٹر ہیں اور احمد اسپتال کے ڈائریکٹر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ ’’ اس میں مسئلہ کچھ بھی نہیں ہے ۔یوگی آدتیہ ناتھ اس لئے خفا ہو گئے کہ لوگوں نے کہا کہ ڈاکٹر کفیل اپنی گاڑی میں سلینڈر بھر کر لائے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آکسیجن کی کمی ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر کفیل کا آکسیجن سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا انہوں نے تو آکسیجن کا انتظام اس لئے کیا کیونکہ مریض پریشان تھے۔ چونکہ ڈاکٹر کفیل مسلمان ہیں اس لئے سب ان کے سر ڈالنا تھا ‘‘۔ ڈاکٹر عزیز نے بتایا کہ ’’جہاں ہم رہتے ہیں وہاں پر ایک بچے کی موت ہو گئی تھی جب ان کے اہل خانہ سے ملنے گئے تو ان لوگوں کا کہنا تھا کہ بس وہاں پر ایک میاں ڈاکٹر تھا جو دیکھ بھال کر رہا تھااس کے علاوہ تو کوئی آتا جاتا نہیں تھا۔ یہاں پر ڈاکٹر کفیل کی تعریف ہو رہی تھی اور اب یہاں ایک گروپ نے یہ کہنا شروع کر دیا ہےکہ یوگی آدتیہ ناتھ کو بدنام کرنے کے لئے ڈاکٹر کفیل یہ سب کچھ کر رہے تھے۔ میں ڈاکٹر کفیل سے کئی سالوں سے واقف ہوں ، وہ انتہائی نیک انسان ہیں‘‘۔ اس سارے معاملے پر ڈاکٹر کفیل نے کچھ بھی بولنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ معاملہ اب عدالت میں ہے لیکن ان کے اوپر جنسی استحصال کے تعلق سے جو میسج موصول ہوا ہے ا س کے مطابق اس معاملے میں ان کو عدالت سے کلین چٹ مل چکی ہے اور یہ معاملہ ان کےبھائی کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے لگایا گیا تھا۔

گورکھپور کے معروف اشخاص سے بات کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معصوم بچوں کی اموات پر حکومت نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اس کو فرقہ پرستی کی چادر سے ڈھکنے کاذہن بنا لیا ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ اب بات یہ ہو کہ ایک ڈاکٹر جسکا تعلق ایک مذہب خاص سے ہےوہ سارے معاملے میں گڑبڑی کر رہا تھا اور اس کی ان گڑبڑیوں کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ یہ کوئی نیا حربہ نہیں ہے جب امر ناتھ یاتریوں پر حملہ ہوا اور خبریں شائع ہوئیں کہ ایک مذہب خاص سے تعلق رکھنے والے ڈرایئور سلیم کی وجہ سے کئی یاتریوں کی جانیں بچیں اور وہ ہیرو بن گیا تو پھر گجرات کے کئی اخباروں نے سلیم کے خلاف مہم چلائی اور اس پر سوال کھڑے کرنے شروع کر دئے تھے۔ پوچھا گیا کہ کہ گاڑی کیوں لیٹ کی ، پنکچر کیسے ہوا وغیرہ وغیرہ ۔ بہادری اور اچھائی اسی میں ہے کہ اپنی غلطی کو تسلیم کر کے اس کو درست کیا جائے اور اچھے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔اب بھی وقت ہے کہ حکومت بی آر ڈی میڈیکل کالج میں جو حادثہ ہوا ہے اس سے سبق لے اور چیزوں کو درست کرے ۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔