’یوگی آدتیہ ناتھ نے ظلم کرنے میں گجرات کا ریکارڈ توڑ دیا‘

مشہور سماجی کارکن اور سماج وادی پارٹی کے قومی ترجمان عمیق جامعی نے الزام لگایا کہ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ظلم کرنے میں گجرات کا ریکارڈ توڑ دیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ کی طرز پر احتجاج کرنے والی خوریجی کی خواتین کو سلام کرتے ہوئے مشہور سماجی کارکن اور سماج وادی پارٹی کے قومی ترجمان عمیق جامعی نے الزام لگایا کہ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ظلم کرنے میں گجرات کا ریکارڈ توڑ دیا۔

انہوں نے کہاکہ 19دسمبر کو قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں پر لکھنؤ سمیت اترپردیش کے مختلف اضلاع میں جس طرح پولیس نے بربریت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے نشانہ بناکر لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور زیادہ تر ان لوگوں کو گرفتار کیا ہے جن کا مظاہرہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ جس طرح اترپردیش میں جمہوریت کی آواز کچلی جارہی ہے اور مظاہرہ کرنے کے جمہوری کے حق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے یہ جمہوریت کے نیک شگون نہیں ہے۔

اتر پردیش میں گرفتار لوگوں کا مقدمہ لڑنے اور ضمانت کرانے والی سماجی کارکن اور وکیل اسماء عزت نے کہاکہ مودی امت شاہ کے ملک اور سماج کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ہماری یہاں بیٹھیں ہماری مائیں بہنیں ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گی اور اس وقت یہ خواتین ملک اور سماج کو بانٹنے والوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پورا ملک آپ کی حمایت میں کھڑا ہے اور آپ اپنے حوصلے کو کمزور نہ ہونے دیں۔

اسماء عزت نے لکھنؤ کی صورت حال بیان کرتے ہوئے کہاکہ پولیس نے مسلمانوں کے گھروں میں سیڑھیاں لگاکر مردوں کو گرفتار کیا ہے حالانکہ ان لوگوں کا دھرنا مظاہرہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے باوجود یہ منظم منصوبہ کے تحت ان لوگوں ایسا تاکہ مسلمانوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کیا جائے۔مردوں کو تھانے لاکر بے رحمی سے مارا پیٹا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک وکیل ہوں اور قانون جانتی ہوں اس کے باوجود پولیس نے میرے ساتھ برا برتاؤ کیا اور گالیاں دیں تاکہ میں غریب مسلمانوں کا مقدمہ نہ لڑسکوں۔انہوں نے کہاکہ ہماری ماؤں بہنوں نے ان مفروضوں کو توڑ دیا ہے کہ نقاب اور چوڑیاں پہننے والی خواتین پسماندگی کا شکار ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر پون راؤ امبیڈکر نے خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ہر غریب’کمزور،بے سہارا اور بے جائداد لوگوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے اترپردیش سمیت دیگر ریاستوں میں پولیس مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہمارے جسم کو لہولہان کرسکتے ہیں لیکن ہمارے جذبے کو لہولہان نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہاکہ اس ملک ہمیشہ ایک طبقہ کو غلام بناکر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور اور فسطائی طاقتیں ایک بار پھر اس طرح کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ سچائی یہ ہے کہ جب بھی کسی تحریک میں خواتین شامل ہوئی ہیں وہ تحریک کامیاب ضروری ہوئی ہیں اور آپ خواتین ملک کو تقسیم کرنے والوں کو اقتدار سے باہر کردیں گی۔ یہ تینوں مقررین نے سیلم پور جعفرآباد میں بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہا رکیا۔

خوریجی میں مظاہرہ کرنے والی خواتین میں سے تبسم نے کہاکہ ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے۔ ہم کیوں کوئی کاغذ دکھائیں جب کہ ہمارے آباء و اجداد سیکڑوں برسوں سے یہاں رہتے آئے ہیں۔ ایک خاتون نے کہاکہ ہم میں کوئی خاتون کبھی کسی مظاہرہ میں شامل نہیں ہوئیں لیکن آج ہم اپنے گھروں سے نکل کر آئی ہیں اور حکومت کو یہ پیغام دینے کے لئے آئی ہیں کہ ہم لوگ آئین اورملک کو بچانے کے لئے کسی حد تک بھی جاسکتی ہیں۔ ایک طالبہ مصباح نے حکومت کے منشا کی طر اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ”جو خواب تونے دیکھا ہے اسے ہم پورا نہیں ہونے دیں گے اور سی اے اے، این اآر سی اور این پی آر نافذ نہیں ہونے دیں گے۔“ اس وقت تک ہمارا مظاہرہ جاری رہے گا جب تک حکومت یہ قانون واپس نہیں لے لیتی۔

شاہین باغ کی طرح جعفرآباد، سیلم پور میں مظاہرہ کرنے والی خواتین نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے احتجاج کرنے کے لئے نکلی ہیں۔ جعفرآباد اور خوریجی میں سخت سردی اور مسلسل ہونے والی بارش کے باوجود خواتین ڈتی ہوئی ہیں۔ ان دونوں جگہ کی خواتین کا کہنا ہے ہماری وجود کے ساتھ ملک کے وجود کی لڑائی ہے۔ ان دونوں جگہ دھرنے کی خوبی ہے کہ رضاکار نہ صرف ٹریفک کے نظام کو بہتر بنائے ہوئے بلکہ روڈ کی صفائی بھی کرتے ہیں تاکہ دوسروں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ خواتین پنڈال میں مظاہرہ کر رہی ہوتی ہیں تو مرد سڑکوں کے کنارے موم بتی جلاکر مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ مظاہر ہ صبح تک چلتا ہے۔

قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف آج ملک کے کچھ حصوں سمیت شاہین باغ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، خوریجی اور جعفرآباد میں بھی سخت سردی اور بارش ہونے کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور اس کا دائرہ بڑھ کے ملک کے کو نے کونے میں پہنچ گیا ہے۔ جمشید پور میں آزاد نگرعیدگاہ میدان میں الہ آباد کے روشن باغ کے منصور پارک میں،پٹنہ کے سبزی باَغ میں شاہین باغ طرز پر گزشتہ چھ روز سے خواتین کا زبردست مطاہرہ ہورہا ہے اور اس مظاہرے میں بھی جانی مانی ہستیاں، سماجی کارکن اور تحریک چلانے والے پہنچ رہے ہیں۔ شاہین کے طرز پر کلتہ کے پارک سرکس میں خاتون مظاہرین ڈتی ہوئی ہیں اور گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین رات دن کا مظاہرہ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بہار کے ارریہ، پورنیہ، کشن گنج، مدھوبنی، دربھنگہ،حیدرآباد، مالیگاؤں، سمیت درجنوں مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔

(عابد انور، یو این آئی)