ٹوئٹر چیلنج سے بہت پہلے نہرو نے لکھ دیا تھا ’یوگا میں عدم تشدد اور سچائی کا جذبہ ضروری‘

پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’ڈسکوری آف انڈیا‘ میں لکھا تھا کہ یوگا میں جسم ہی نہیں دماغ کی ورزش بھی ہوتی ہے۔ یوگا میں دماغ کو ڈسپلن کرنے کے لیے عدم تشدد اور سچائی کا جذبہ ضروری ہے۔

Getty Images
Getty Images

ایشلن میتھیو

یوگا آج ایک سستا، ٹی آر پی بٹورنے والا سامان بن گیا ہے۔ وزارت برائے اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ وہ ایک فیصلہ ساز بورڈ کی تشکیل کرے گا جو ٹی وی چینلوں اور اخباروں پر نظر رکھے گا کہ کون سب سے اچھا پروگرام چلا رہا ہے اور مضمون شائع کر رہا ہے۔ اس سارے ہنگامے کے درمیان یہ بھول جانا کافی آسان ہے کہ یوگا من کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا جسم کے لیے۔

بہت سارے لوگ بھول جاتے ہیں کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’ڈسکوری آف انڈیا‘ میں یوگا کے بارے میں لکھا تھا اور وہ مستقل یوگا کرنے والوں میں شامل تھے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ پتنجلی کا یوگا سسٹم خاص طور پر جسم اور دماغ کے ڈسپلن کا ایک طریقہ ہے جو ذہنی اور روحانی ٹریننگ دیتا ہے۔ ہم نے اس بات کو نظر انداز کر دیا ہے کہ 1952 میں راجیہ سبھا میں پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک تجویز پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یوگا ملک میں تعلیم کا ایک حصہ ہونا چاہیے۔

یہاں یہ یاد دلا دینا ضروری ہے کہ نہرو نے لکھا ہے کہ یوگا کو بہت کم سمجھا گیا ہے اور یہ مختلف عملوں سے جڑا ہوا ہے۔ خاص طور سے بدھ کی طرح بیٹھ کر ’نابھی‘ یا ’ناک‘ کی نوک پر دھیان سے دیکھنے کی کوشش۔ اس عمل کی تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ عجیب جسمانی کرتب سیکھتے ہیں اور مغرب میں اس طریقے پر اپنا حق جتاتے ہیں اور اسے اپنانے والوں و عقیدت مندوں کا استحصال کرتے ہیں۔

نہرو نے لکھا تھا کہ یوگا سسٹم اس عمل سے کہیں زیادہ ہے جو کہ اپنایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ اس سوچ پر مبنی ہے کہ من کی مناسب تربیت سے شعور کی اعلیٰ سطح تک پہنچا جا سکتا ہے۔ انھوں نے لکھا ’’یہ حقیقت کے تصوراتی اصول یا کائنات کی جگہ خود کے لیے چیزوں کو تلاش کرنے کا ایک طریقہ ہے۔‘‘ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج مودی اور ان کے ساتھیوں نے یوگا کو صرف ورزش اور ٹوئٹر چیلنج تک محدود کر دیا ہے۔

یہاں یہ یاد رکھا جانا ضروری ہے کہ نہرو بتاتے ہیں کہ ایشور میں عقیدت نظام کا ایک لازمی حصہ نہیں ہے، لیکن یہ بتاتا ہے کہ انفرادی ایشور میں یقین اور اس کے تئیں خود سپردگی، من کو پرسکون کرنے میں مدد کرتا ہے اور یہ ایک تجرباتی مقصد کو پورا کرتا ہے۔ غیر مستقل یوگا کے خلاف سمجھاتے ہوئے نہرو کہتے ہیں کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ غیر مستقل یوگا کا نتیجہ کبھی کبھی برا نکلتا ہے، کیونکہ شخص کا دماغ جڑا ہوتا ہے۔ کیا یہ خطرے کی گھنٹی نہیں ہے؟

یوگا پریکٹس کے ساتھ ہمیشہ اخلاقی تیاری کرنی ہوتی ہے، جس میں جسم کو ڈسپلن کرنے کے لیے صحیح چیزیں کھانا اور پینا اور غلط چیزوں سے بچنا شامل ہے۔ ذہن کو ڈسپلن کرنے کے لیے یوگا میں ’’عدم تشدد، سچائی، مستقل مزاجی‘‘ شامل ہے۔ نہرو اس بات کو نشان زد کرتے ہیں کہ تشدد کا مطلب جسمانی تشدد سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ نفرت اور برائی سے علیحدگی ہے۔ کیا ہم ملک کے موجودہ وزیر اعظم کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں جنھوں نے 2002 کے گودھرا فسادات کے بارے میں پوچھے جانے پر اس میں مرنے والوں کا موازنہ کتّے کے پلّے کے مرنے سے کیا تھا۔

نہرو کہتے ہیں کہ یوگا کے مطابق سوچ ایک عمل ہے اور صرف عمل ہی سوچ کو کسی قابل بنا سکتی ہے۔ وویکانند کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ترغیب سبھی کی بھلائی کے لیے ہونی چاہیے اور نام یا شہرت یا شخصی فائدہ کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ہمیشہ دنیا کی بھلائی کے لیے ہونی چاہیے۔

جب سوامی سے تاجر بنے رام دیو جیسے لوگ یوگا کو اپناتے ہیں تو یوگا اپنی اصلیت سے تقریباً محروم ہو جاتا ہے۔ آج یوگا پر منعقد پروگراموں اور اخباروں میں چھپ رہے ادارتی مضامین کے درمیان عدم تشدد یا سچائی یا صبر کی وکالت کرنے والا کوئی نہیں دکھائی دیتا۔

Published: 21 Jun 2019, 10:10 AM