کرناٹک LIVE: بی جے پی کے لوگ ریسورٹ میں گھسے، ہوئی ہارس ٹریڈنگ کی کوشش

جے ڈی ایس ممبران اسمبلی کو بھی دوسری جگہ شفٹ کیا جائے گا

کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد تیزی سے بدلے ماحول میں کانگریس اور جے ڈی ایس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنے ممبران اسمبلی کو متحد رکھنا ہے۔ خبروں کے مطابق جے ڈی ایس نے اپنے ممبران اسمبلی کو بنگلورو سے کہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کا ذہن بنا لیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے ابھی تک فیصلہ نہیں لیا ہے کہ کہاں جانا ہے۔ آج دیر رات ہم طے کریں گے کہ ہمیں کہاں جانا ہے۔ ہمارے پاس کئی متبادل تھے، ان میں سے ایک متبادل راشٹرپتی بھون کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا بھی ہے۔‘‘

بی جے پی کے لوگوں نے ریسورٹ میں گھس کر پیسوں کا آفر دیا: رام لنگا ریڈی

کانگریس لیڈر رام لنگا ریڈی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایگلٹن ریسورٹ کے باہر سے پولس سیکورٹی ہٹائے جانے کے بعد بی جے پی کے لوگ ریسورٹ کےا ندر گھس آئے اور روپے کی پیشکش کرنے لگے۔ ریڈی نے الزام عائد کیا کہ وہ لوگ لگاتار فون پر ہمارے لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دیوگوڑا نے راہل گاندھی سے ٹیلی فون پر بات کی

جنتا دل سیکولر کے قومی صدر ایچ ڈی دیوگوڑا نے کانگریس صدر راہل گاندھی سے کرناٹک کے موجودہ سیاسی صورت حال پر فون سے گفتگو کی۔

دہلی کے راج گھاٹ پر کانگریس لیڈروں نے کی دعا

کرناٹک میں اکثریت کے نمبر سے دور ہونے کے باوجود بی جے پی کو حکومت بنانے کے لیے مدعو کرنے کے فیصلے کے خلاف گورنر کی مخالفت میں کانگریس لیڈروں نے جمعرات کی شام کو دہلی کے راج گھاٹ پر ایک دعائیہ جلسہ منعقد کیا۔ اس دعائیہ جلسہ میں دہلی پردیش کے کئی بڑے لیڈروں کے علاوہ بڑی تعداد میں کارکنان موجود رہے۔

بی جے پی کے لوگ خرید و فروخت کر رہے ہیں، یہ جمہوریت کے خلاف: سدارمیا

کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد پارٹی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اکثریت ثابت کرنے سے متعلق ہے۔ بی جے پی کی جانب سے بی ایس یدیورپّا کے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔

کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ غیر اخلاقی ہے اور جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ کوئی بھی ممبر اسمبلی ان کے بہکاوے میں نہیں آنے والا۔

یدیورپّا کا 4 آئی پی ایس افسروں کے تبادلہ کا فیصلہ حیرت انگیز: کماراسوامی

کرناٹک میں حلف لیتے ہی وزیر اعلیٰ بی ایس یدیورپّا نے اس ریسورٹ سے پولس سیکورٹی ہٹا لی ہے جہاں کانگریس اور جے ڈی ایس کے ممبران اسمبلی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی نے کہا ہے کہ اپنے ممبران اسمبلی کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یدیورپّا کے رویے پر انھیں حیرانی ہے۔ یدیورپّا نے جس طرح 4 آئی پی ایس افسروں کا تبادلہ کر دیا وہ حیرت میں ڈالنے والا ہے۔

کل صبح جیت ہماری ہوگی: کانگریس

کانگریس کے ڈی کے شیو کمار نے میڈیا کے سامنے کہا ہے کہ کرناٹک میں جمہوریت کا قتل ہوا ہے، لیکن کل صبح ہماری جیت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کل ہمارے حق میں فیصلہ آئے گا۔

ایگلٹن ریسورٹ سے سبھی ایم ایل اے دوسری جگہ بھیجے جائیں گے

ایگلٹن ریسورٹ سے سیکورٹی ہٹائے جانے کے بعد کانگریس اور جے ڈی ایس کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں اور یہاں جمع ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر کانگریس ان ممبران اسمبلی کو یہاں سے ہٹا کر دوسری ریاست میں بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ انھیں کیرالہ یا پنجاب بھیجا جا سکتا ہے۔

ایگلٹن ریسورٹ پر تعینات سیکورٹی ہٹائی گئی

کرناٹک میں کانگریس-جے ڈی ایس کے سبھی ممبران اسمبلی جس ریسورٹ میں ایک ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں اس کے باہر سیکورٹی کے لیے تعینات پولس کے جوانوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ کرناٹک میں انتخابی نتائج آنے کے بعد حکومت بنانے کے لیے جاری کھینچ تان کے درمیان اپنے ممبران اسمبلی کو یکجا رکھنے کے لیے جے ڈی ایس اور کانگریس نے سبھی کو ایگلٹن ریسورٹ میں ٹھہرایا تھا جس کے بعد وہاں کی سیکورٹی کے لیے کثیر تعداد میں پولس جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ لیکن جمعرات کی صبح بی جے پی کے بی ایس یدیورپّا کے حلف لینے کے بعد ریسورٹ کے باہر تعینات جوانوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔

امت شاہ پیسہ، طاقت اور سرکاری ایجنسی کا غلط استعمال کرتے ہیں: تیجسوی

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے پٹنہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کرناٹک میں بی جے پی کس طرح اکثریت ثابت کرے گی؟ انھوں نے کہا کہ امت شاہ کے پاس ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے خرید و فروخت کرنا اور دوسری پارٹی کے ممبران اسمبلی کے پیچھے سی بی آئی اور ای ڈی جیسی ایجنسیوں کو لگا دینا۔ تیجسوی نے کہا ’’یہ بی جے پی کی تاناشاہی ہے۔ اگر آج ہم متحد نہیں ہوئے تو کل بہار میں ایسا ہی ہوا، آج کرناٹک میں ہو رہا ہے اور کل مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

ناراض کانگریس نے پورے ملک میں دھرنا کا اعلان کیا

کرناٹک میں کانگریس-جے ڈی ایس کے پاس اکثریت ہونے کے باوجود گورنر کے ذریعہ بی جے پی کو حکومت بنانے کا موقع دیے جانے کو برسرعام جمہوریت کا قتل قرار دیتے ہوئے کانگریس نے اس کے خلاف ملک بھر میں جمعہ کو مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں کانگریس کے تنظیمی سکریٹری اشوک گہلوت نے ملک کے سبھی ریاستی کانگریس سربراہوں کو خط جاری کر ہدایت دی ہے کہ جمعہ کو سبھی ریاستی صدر دفاتر اور ضلع صدر دفاتر پر سبھی لیڈر اور کارکنان دھرنا دیں گے۔ خط میں گہلوت نے سبھی ریاستی سربراہوں اور دیگر لیڈروں کو لازمی طور پر پریس کانفرنس کر کے میڈیا میں مضبوطی سے اپنی بات رکھنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

گورنر کے فیصلہ کے خلاف یشونت سنہا دھرنا پر بیٹھے

کرناٹک میں گورنر کے ذریعہ بی جے پی کو حکومت بنانے کا موقع دیے جانے کے خلاف سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر رہ چکے یشونت سنہا دہلی میں راشٹرپتی بھون کے سامنے دھرنا پر بیٹھ گئے ہیں۔ اس سلسلے میں یشونت سنہا نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بی جے پی کے ذریعہ کرناٹک میں غیر آئینی طریقے سے جو حکومت بنائی گئی ہے اس کے خلاف میں راشٹرپتی بھون کے سامنے دھرنے پر بیٹھا ہوں۔ آپ سبھی سے گزارش ہے کہ جمہوریت بچانے کے لیے میرے ساتھ آئیے۔‘‘

بی جے پی 104 کا عدد 112 بنانے کی سازش میں مصروف: کانگریس

پریس کانفرنس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سرجے والا نے کہا کہ ’’مودی جی، امت شاہ جی، وجوبھائی والا اور یڈی-ریڈی گینگ 104 کا عدد 112 بنانے کی سازش میں مصروف ہیں۔ ملک کے لوگوں کی حمایت جمہوریت کے لیے ہے، پارٹی پالیٹکس کے لیے نہیں۔‘‘

کانگریس کی پریس کانفرنس...

کرناٹک کے موجودہ صورت حال کے پیش نظر دہلی میں کانگریس کی پریس کانفرنس شروع ہو چکی ہے۔ پریس کو کانگریس میڈیا سیل انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا خطاب کر رہے ہیں۔

کرناٹک کو سامنے رکھ کر گوا میں حکومت سازی کا دعویٰ کرے گی کانگریس

کرناٹک میں بی جے پی کی دلیلوں کے مدنظر کانگریس نے انتہائی اہم قدم اٹھاتے ہوئے گوا میں حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کانگریس نے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے بی جے پی کی پالیسی پر کام کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں اب گوا میں کانگریس کے 16 ممبران اسمبلی جمعہ کو راج بھون تک مارچ کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ 2017 کے گوا انتخابات میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی لیکن عین وقت پر بی جے پی نے ممبران اسمبلی کو جوڑ-توڑ کر اپنی حکومت بنا لی۔ بی جے پی نے اس وقت کے مرکزی وزیر دفاع منوہر پاریکر کو گوا کا وزیر اعلیٰ بنا دیا تھا۔ اب کرناٹک کا حوالہ دے کر کانگریس گوا میں مورچہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

گورنر نے بے وقوفی بھرا قدم اٹھایا: رام جیٹھ ملانی

کرناٹک کے تازہ سیاسی حالات کے پیش نظر سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بی جے پی نے گورنر سے ایسا کیا کہا جو انھوں نے ایسا بے وقوفی بھرا قدم اٹھایا؟ گورنر کے اس فیصلے سے بدعنوانی ہی بڑھے گا۔‘‘

ملک نے اتنا برا دن کبھی نہیں دیکھا: اشوک گہلوت

کانگریس جنرل سکریٹری اشوک گہلوت نے کرناٹک کی موجودہ حالت سے متعلق بی جے پی پر حملہ کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اس ملک نے اتنا برا منظرنامہ کبھی نہیں دیکھا، جہاں مخالفت کرنے والی آوازوں کو بری طرح سے دبایا جا رہا ہے۔ اقتدار اور کنٹرول کے لیے ان کی پیاس نہ صرف حیران کرنے والی ہے بلکہ جمہوریت میں ایک خطرناک روایت ہے۔ بی جے پی نہ صرف غیر اخلاقی وسائل سے ریاستوں میں اقتدار پر قبضہ جما رہی ہے بلکہ وہ پورے ملک کے سسٹم کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔‘‘

گورنر کے فیصلہ کے خلاف آر جے ڈی بھی کرے گی دھرنا

کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والا کے فیصلہ کے خلاف آر جے ڈی نے بھی دھرنا و مظاہرہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ساتھ ہی اس نے بہار کے گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ بی جے پی نے کرناٹک میں جو دلیل پیش کی ہے اس کے مطابق بہار میں بھی اسمبلی تحلیل کر کے آر جے ڈی کو حکومت سازی کی دعوت دی جانی چاہیے۔ آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے اس سلسلے میں ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’کرناٹک میں جمہوریت کے قتل کے خلاف کل پٹنہ میں آر جے ڈی کا یک روزہ دھرنا ہوگا۔ ہم گورنر محترم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ موجودہ بہار حکومت کو تحلیل کر کے کرناٹک کی طرز پر ریاست کی سب سے بڑی پارٹی آر جے ڈی کو حکومت بنانے کا موقع دیں۔ میں بی جے پی کی دلیل پر یہ دعویٰ ٹھوک رہا ہوں۔‘‘

کرناٹک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہی لوک سبھا انتخابات میں بھی ہوگا: یشونت

کرناٹک میں موجودہ سیاسی صورت حال پر بی جے پی کے سابق لیڈر یشونت سنہا نے ایک بار پھر ٹوئٹ کیا ہے۔ انھوں نے اس ٹوئٹ میں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’کرناٹک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ لوک سبھا انتخابات سے قبل کا ریہرسل ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد دہلی میں بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔‘‘

امبیڈکر کے آئین کو تباہ کرنے کی سازش: مایاوتی

مایاوتی نے اپنے بیان میں کہا، ’’یہ بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ وہ (بی جے پی) جب سے اقتدار میں آئے ہیں اس وقت سے سرکاری مشینری کا غلط استعمال ہوا اور جمہوریت پر حملہ کیا گیا۔‘‘

آئین پر حملے ہو رہے ہیں: راہل گاندھی

چھتیس گڑھ کے رائے پور میں ’سوراج سمیلن‘ میں شرکت کے لئے پہنچے کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا کہ’’ آرایس ایس اور بی جے پی نہیں چاہتے کہ ملک کے غریب عوام کی آواز سنی جائے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی نظر میں عورت کا کام صرف کھانا بنانا ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی نظر میں دلتوں کا کام صرف صفائی کرنا ہے، پڑھنے کا نہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے کہ آج ملک میں آئین پر حملے ہو رہے ہیں۔ کانگریس صدر نے کہا ’’کرناٹک میں ایک طرف ارکان اسمبلی کھڑے ہیں تو دوسری جانب گورنر۔ جے ڈی ایس کا کہنا ہے کہ ارکان اسمبلی کو 100-100 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی۔‘‘

کرناٹک معاملہ کی جلد سماعت کے لئے سپریم کورٹ میں عرضی

کرناٹک معاملہ کی فوری سماعت کے لئے سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ سے یہ مطالبہ کیا۔ لیکن سپریم کورٹ کی بنچ نے رام جیٹھ ملانی کو کل متعلقہ بنچ کے سامنے اس معاملہ کو رکھنے کی ہدایت دی۔

جے ڈی ایس کے ایچ ڈی دیو گوڑا بھی احتجاج میں شامل

یدی یورپا کی کرناٹک وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف برداری کے خلاف کانگریس کا دھرنا جاری ہے۔ دریں اثنا سابق وزیر اعظم اور جے ڈی ایس رہنما ایچ ڈی دیو گوڑا بھی دھرنے میں شامل ہونے کے لئے پہنچ گئے ہیں۔

ہمیں ملک کے مفاد میں متحد ہونا ہوگا: کماراسوامی

ایچ ڈی کمارا سوامی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنے والد (ایچ ڈی دیو گوڑا) سے درخواست کروں گا کہ وہ آگے آئیں اور تمام علاقائی جماعتوں سے بات چیت کریں کہ بی جے پی کس طرح جمہوری نظام کو درہم برہم کر رہی ہے۔ ہمیں ملک کے مفاد میں متحد ہونا ہوگا۔‘‘

کمارا سوامی نے مزید کہا ’’مودی حکومت مرکز کے تحت آنے والے اداروں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ مجھے خبرملی ہے کہ ارکان اسمبلی کو دھمکی دی جا رہی ہے۔ آنند سنگھ (کانگریس رکن اسمبلی) کا کہنا ہے کہ ای ڈی میں میرا کیس چل رہا ہے وہ مجھے پھنسا دیں گے۔ معاف کرنا مجھے اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کرنی ہے۔ یہ بات مجھے دوسرے کانگریس رکن اسمبلی نے بتائی ہے۔‘‘

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈی کے سریشن نے کہ ،’’آنند سنگھ کو چھوڑ کر تمام ارکان اسمبلی دھرنے میں موجود ہیں۔ ان پر مودی کا شکنجہ ہے۔‘‘

کانگریس کا اسمبلی میں احتجاج، دو آزاد ارکان اسمبلی بھی شامل

کرناٹک میں یدی یورپا کے حلف لینے کے بعد سیاسی الٹ پھیر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گورنر کی طرف سے کانگریس-جے ڈی ایس اتحاد کو حکومت سازی کے لئے مدعو نہ کئے جانے کے خلاف کانگریس رہنما احتجاج کر رہے ہیں۔ دھرنے میں حیرت انگیز طریقہ سے دو آزاد امیدوار ناگیش اور شنکر بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔

حالانکہ کانگریس کے دو ارکان اسمبلی اس دھرنے میں شامل نہیں ہیں لیکن کانگریس کا کہنا ہے کہ وہ کہیں نہیں گئے ہیں اور دونوں ارکان اسمبلی پر پارٹی کو پورا اعتماد ہے۔

دریں اثنا کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا اسمبلی پہنچ گئے ہیں۔

امت شاہ کا کانگریس پر نشانہ

بی جے پی صدر امت شاہ نے ٹوئٹ میں کہا ’’جمہورت کا قتل اس وقت ہوا جب کانگریس نے جی ڈی ایس کو ’موقع پرست‘ پیشکش کی وہ کارناٹک کے خیر سگالی کے لئے نہیں بلکہ سیاسی مفاد کے لئے اتحاد کیا ہے۔

خوشی ہے کہ میں نے بی جے پی چھوڑ دی: یشونت سنہا

بی جے پی سے علیحدگی اختیار کر چکے سابق وزیر خزانہ یشونت سنگھ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے وہ پارٹی چھوڑ دی جو بے شرمی کے ساتھ کرناٹک میں جمہوریت کو ختم کر رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے ٹوئٹر پر کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آئندہ لوک سبھا میں بھی بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی تو وہ اس وقت بھی وہ ایسا ہی کرے گی۔

کرناٹک اسمبلی میں کانگریس اور جے ڈی ایس کا احتجاج

بی جے پی کو حکومت سازی کے لئے مدعو نہ کئے جانے اور بی ایس یدی یورپا کے وزیر اعلیٰ عہدے کا حلف لینے کے خلاف کرناٹک اسمبلی میں کانگریس اور جے ڈی ایس کے ارکان اسمبلی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کانگریس اور جے ڈی ایس کے ارکان اسمبلی مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے جمع ہوئے اور نعرے بازی کی۔ اس احتجاج میں سابق وزیر اعلیٰ سدا رمیا، غلام نبی آزاد اور کانگریس کے جنرل سکریٹری اشوک گہلوت بھی موجود ہیں۔

یدی یورپا کا اصل امتحان شروع

سپریم کورٹ سے حلف برداری تقریب اسٹے نہ ہونے کے بعد بی جے پی کے بی ایس یدی یورپا نے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے لیا ہے۔ لیکن اقتدار پر قابض ہونے کے بعد اب ان کا اصل امتحان شروع ہو چکا ہے۔ بی جے پی کے پاس 104 ارکان اسمبلی ہیں یعنی کہ اسے اکثریت ثابت کرنے کے لئے 8 ارکان درکار ہونگیں۔ ایسے حالات میں بی جے پی کے سامنے اکثریت ثابت کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

معاملہ سپریم کورٹ میں ہے جہاں جمعہ کی صبح 10.30 بجے سماعت ہونی ہے، ایسے حالات میں بی جے پی کے پاس محض ایک دن کا ہی وقت ہے جس میں اسے حمایت حاصل کرنی ہے۔

واضح رہے کہ کرناٹک اسمبلی کی 222 سیٹوں کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے اور بی جے پی کے حصہ میں 104 سیٹیں آئیں ہیں۔ کانگریس کو 78 اور جے ڈی ایس کو 37 سیٹ جبکہ بی ایس پی کو ایک اور دیگر کو 2 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔

یدی یورپا نے وزیر اعلیٰ عہدے کا حلف لیا

بی ایس یدی یورپا نے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے لیا ہے۔ گورنر وجو بھائی والا نے انہیں حلف دلوایا۔ وہ تیسری مرتبہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔

جب وہ راج بھون جانے کے لئے نکلے تو راستہ میں انہوں نے رادھا-کرشن مندر میں پوجا کی۔ یدی یورپا کے حلف لینے کے بعد بی جے پی میں جشن کا ماحول ہے۔ بنگلورو واقع بی جے پی کے صدر دفتر میں پارٹی حامیوں کا ہجوم دیکھنے کو مل رہا ہے اورخوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

Watch Live from Bengaluru: BS Yeddyurappa takes oath as Karnataka Chief Minister

Posted by Asian News International (ANI) on Wednesday, May 16, 2018

کرناٹک میں بی جے پی کی حکومت سازی جمہوریت کا مذاق: راہل

کرناٹک کے گورنر وجو بھائی والا کی طرف سے یدی یورپا کو حلف دلوانے کے معاملہ پر راہل گاندھی نے بی جے پی نشانہ لگایا ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ ’’کرناٹک میں بی جے پی کے پاس اکثریت کا ہدف نہ ہونے کے باوجود حکومت سازی کرنا آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ صبح جب بی جے پی اپنی کھوکھلی جیت کا جشن منائے گی تو پورا ہندوستان جمہوریت کی ہار پر سوگ منائے گا۔‘‘

یدی یورپا کی حلف برداری 9 بجے، تیاریاں پوری

کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان منگل کے روز کیا گیا اور اس کے بعد سے ریاست کی سیاسی صورت حال بارہا تبدیل ہوتی رہی۔ بدھ کی شام گورنر وجو بھائی والا نے بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دے ڈالی۔ یدی یورپا صبح 9 بجے وزیر اعلیٰ عہدے کا حلف لیں گے۔ یدی یورپا کو 15 دنوں کے اندر اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا وقت دیا گیا ہے۔

وہیں اس معاملہ پر بدھ کی رات ہی کانگریس نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ لیکن سپریم کورٹ نے گورنر کے فیصلے پر اسٹے لگانے سے انکار کر دیا۔

یدی یورپا کی حلف برداری تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ موجود نہیں رہیں گے۔

گورنر بی جے پی کی کٹھ پتلی کی طرح کام کر رہے ہیں: کانگریس

کانگریس نے کرناٹک میں کانگریس-جنتا دل (سیکولر) اتحاد کے پاس کافی ممبر اسمبلی ہونے کے باوجود حکومت بنانے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو مدعو کرنے کو لے کر گورنر وجوبھائی والا کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے ہاتھوں میں ایک کٹھ پتلی کی طرح کام کر رہے ہیں۔

وجوبھائی والا کی طرف سے بی ایس يدی یورپا کو وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لینے کی دعوت دیئے جانے کے بعد کانگریس کے میڈیا انچارج رنديپ سرجےوالا نے یہاں نامہ ناگاروں سے کہا ’’بی جے پی کو مدعو کرکے کرناٹک کے گورنر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور بی جے پی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ گورنر نے اپنی عہدے کو شرمندہ کردیا ہے‘‘۔

کرناٹک کے راج بھون میں یدی یورپا کو حلف دلانے کی تیاریاں، 9.00 بجے حلف لیں گے۔

سب سے زیادہ مقبول