یچوری نے صدر سے جموں و کشمیر کے چیف جسٹس کو ہٹانے کی درخواست کی، آئین کے خلاف بیان دینے کا الزام

سیتارام یچوری نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پنکج متھل پر ہندوستان کے آئین کے خلاف بیان دینے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے انہیں عہدے سے فوری طور ہٹانے کا مطالبہ کیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی-ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پنکج متھل پر ہندوستان کے آئین کے خلاف بیان دینے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے انہیں ان کے عہدے سے فوری طور ہٹانے کا مطالبہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے کیا ہے۔

یچوری نے جمعرات کو صدر جمہوریہ کو لکھے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ جسٹس متھل نے ہندوستان کے آئین کے دیباچے میں ’سیکولر‘اور ’سوشلسٹ ‘ کے الفاظ شامل کئے جانے کو ملک کی روحانی شبیہ کو ’کمپریس‘ کرنے والا بتا کرناقابل معافی جرم کیا۔


سی پی آئی (ایم) لیڈر کا دعویٰ ہے کہ جسٹس متھل نے 5 دسمبر کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ اکھل بھارتیہ ایڈوکیٹ کونسل کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب میں یہ بیانات دیے تھے ۔’سیکولر‘ اور ’سوشلسٹ‘ الفاظ کو تمہید میں شامل کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ،جسٹس نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ بعض اوقات ہم اپنی ضد کی وجہ سے ترمیم لاتے ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کے لیڈر نے کہا کہ سیمینار میں دیے گئے چیف جسٹس کے بیانات کو میڈیا میں بڑے پیمانے پر نشرکیا گیا۔

متعدد بارراجیہ سبھا کے رکن رہے یچوری نے کہا کہ چیف جسٹس متھل کا یہ طرز عمل ان کے جانب سے لیے گئے حلف کی خلاف ورزی اور ہندوستان کے آئین کے خلاف ہے ۔ لہٰذا آئین کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔