سال 2018 : بہار کی سیاست میں سال بھر ہوتا رہا الٹ پھیر، بدلتے رہے دوست و دشمن

سال 2018 بہار میں نہ صرف سیاسی جوڑ توڑ اور الٹ پھیر کے لیے یاد کیا جائے گا بلکہ اس ایک سال کو سیاسی دوستی کے خاندانی رشتے میں بدلنے اور پھر اس کے ٹوٹنے کے لیے بھی جانا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بہار میں سال 2018 سیاسی اٹھا پٹخ کی شکل میں یاد کیا جائے گا۔ سال کے آغاز سے نئے سیاسی فارمولے بننے-بگڑنے کا جو کھیل شروع ہوا سال کے آخر تک جاری رہا جس کی وجہ سے پرانے سیاسی دوست دشمن بن گئے اورکئی سیاسی دشمن آپس میں گلے ملتے ہوئے نظر آئے۔ اس سیاسی اتھل پتھل کی وجہ سے بہار نے پورے ملک میں سرخیاں بٹوریں۔

سال 2018 کے شروع میں ہی بہار میں برسراقتدار این ڈی اے کو جھٹکا دیتے ہوئے ہندوستان عوام مورچہ یعنی ’ہم‘ کے لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے اتحاد کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ بعد میں وہ آر جے ڈی اور کانگریس کے اتحاد میں شامل ہو گئے۔ مانجھی نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ناراضگی کے بعد خود اپنی پارٹی ’ہم‘ بنا لی تھی اور این ڈی اے کے ساتھ چلے گئے تھے۔ لیکن بعد میں انھوں نے پلٹی مار لی۔

غور سے دیکھا جائے تو بہار میں یہ ایک سال این ڈی اے کے لیے خوش کن ثابت نہیں ہوا۔ بہار میں ویسے تو این ڈی اے کی حکومت چلتی رہی، لیکن ایک ایک کر کے اس کے ساتھی چھوڑتے رہے۔ سال کے شروع میں اگر مانجھی آر جے ڈی کی قیادت والے مہاگٹھ بندھن کے ساتھ ہو لیے تو سال کے آخر آتے آتے این ڈی اے کے ساتھ طویل سفر طے کرنے والے مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا کی پارٹی آر ایل ایس پی نے بھی این ڈی اے سے باہر ہونے کا اعلان کر دیا۔ کشواہا نے نہ صرف مرکزی وزیر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا بلکہ این ڈی اے مخالف خیمہ مہاگٹھ بندھن میں شامل ہونے کا اعلان بھی کر دیا۔

کشواہا پہلے سے ہی بہار کی لوک سبھا سیٹوں کی تقسیم کو لے کر ترجیح نہیں دیے جانے سے ناراض تھے، لیکن انھوں نے این ڈی اے میں عزت نہ دیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ ویسے نتیش کمار نے جب سے آر جے ڈی سے رشتہ توڑ کر این ڈی اے میں شمولیت اختیار کی تھی، اسی وقت سے کشواہا اچھا محسوس نہیں کر رہے تھے۔ ایسے ماحول میں بی جے پی کے ذریعہ جنتا دل یو کے ساتھ سیٹ تقسیم پر گفتگو کرنا آر ایل ایس پی کو پسند نہیں آیا اور کشواہا نے این ڈی اے سے الگ راہ اختیار کر لی۔

سال کے آخر میں بی جے پی صدر امت شاہ کے قریبی تصور کیے جانے والے اور پچھلے لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے کا ساتھ دینے والے مکیش سہنی نے بھی مہاگٹھ بندھن میں جانے کا اعلان کر بی جے پی کو جھٹکا دے دیا۔ ’سَن آف ملاح‘ کے نام سے مشہور مکیش سہنی کو شروع سے ہی بی جے پی کے ساتھ مانا جا رہا تھا، لیکن سال کے آخر میں اس سیاسی واقعہ کو بہار کی سیاست میں بڑا الٹ پھیر مانا جا رہا ہے۔

ویسے، اس سال بہار کی سیاست کی سرخیوں میں سابق وزیر اعلیٰ داروغہ رائے کی پوتی ایشوریہ رائے اور آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کے بیٹے اور ریاست کے سابق وزیر صحت تیج پرتاپ یادو کی شادی بھی رہی۔ اس شادی کے بعد بہار کے دو سیاسی خاندانوں کے درمیان فیملی رلیشن بن گئے۔ لیکن اسی درمیان شادی کے کچھ ہی دنوں کے بعد تیج پرتاپ نے پٹنہ کی ایک عدالت میں طلاق کی عرضی دے کر بیوی ایشوریہ سے ناطہ توڑنے کا اعلان کر سب کو حیران کر دیا۔ بہر حال، ابھی یہ معاملہ عدالت میں چل رہا ہے، لیکن یہ معاملہ پورے ملک میں سرخیاں بٹورتا رہا۔

بہر حال، اس ایک سال میں بہار کی سیاست میں بنتے بگڑتے رشتوں کے درمیان اب سبھی کی نظر نئے سال پر ہے جہاں کون کون سے نئے فارمولے بنیں گے اور پرانے بگڑیں گے۔ اب آنے والے سال میں سیاست کا مہاکمبھ ہونے جا رہا ہے جس کی بہار میں ساری تیاری سال 2018 میں ہی ہو گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 31 Dec 2018, 9:09 PM