تہاڑ جیل کے ایک کمرے میں تنہا رہے گا یاسین ملک، نہیں ملے گا کوئی کام!

جیل ڈائریکٹر جنرل سندیپ گویل نے بتایا کہ یاسین ملک پہلے سے ہی جیل نمبر 7 میں ہے اور فی الحال وہیں رہے گا، وہ اپنے کمرے میں تنہا ہے، اسے زیادہ سیکورٹی والے گھیرے میں رکھا جائے گا۔

تصویر ویپن
تصویر ویپن
user

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر میں ’علیحدہ‘ علاقہ بنانے کا خواب دیکھنے والے علیحدگی پسند لیڈر یاسین ملک کی باقی زندگی دنیا سے الگ تھلگ تہاڑ کی جیل نمبر-7 میں گزرے گی۔ اسے جیل میں بھی باقی 13 ہزار قیدیوں سے الگ رکھا جائے گا، کیونکہ وہ اپنے کمرے میں تنہا رہے گا اور اس سے کوئی کام بھی نہیں لیا جائے گا۔ فی الحال اس کے جیل کے آس پاس کی سیکورٹی کافی سخت کر دی گئی ہے۔

56 سالہ یاسین ملک کو بدھ کے روز دہلی کی ایک خصوصی این آئی اے کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ گزشتہ سماعت کے دوران ملک نے عدالت سے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنے کی کوئی خواہش نہیں ظاہر کی تھی۔ وہ اعلیٰ عدالتوں میں سزا کو چیلنج بھی پیش نہیں کر سکتا کیونکہ اس نے خود گناہ قبول کر لیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک اپنی باقی زندگی جیل میں گزارے گا۔


اہم بات یہ ہے کہ یاسین ملک کو صرف باہری دنیا سے ہی الگ نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ اسے جیل کے اندر بھی تقریباً 13 ہزار قیدیوں سے دور تنہا رکھا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل (جیل) سندیپ گویل نے بتایا کہ ’’وہ پہلے سے ہی جیل نمبر 7 میں ہے اور فی الحال وہیں رہے گا۔ وہ اپنے کمرے میں تنہا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ اسے زیادہ سیکورٹی والے گھیرے میں رکھا جائے گا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’قصوروار دہشت گرد ہمیشہ سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی میں رہے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ عدالت نے بدھ کے روز قصوروار یاسین ملک کو دو معاملوں میں تاحیات قید اور دیگر معاملوں میں بھی الگ الگ سخت سزائیں سنائی ہیں۔ سخت قید کا مطلب مجرم کو اس طرح سے قید کرنا ہے جو مجرم کو جیل میں خصوصی انتظام کے تحت جرائم کی نوعیت کی بنیاد پر جیل کی مدت کی مشکلات کو بڑھاتا ہے۔


حالانکہ عدالت کے حکم کے باوجود ملک کو جیل کے اندر کوئی کام نہیں دیا جائے گا۔ جیل کے اعلیٰ افسر نے کہا کہ ’’اسے سیکورٹی اسباب کی بنا پر بالکل بھی کام نہیں سونپا جائے گا۔‘‘ انھوں نے کہ سیکورٹی سے متعلق باتوں کو دیکھتے ہوئے کام نہیں سونپنے کا فیصلہ لیا گیا ہے اور فیصلہ جیل ضابطوں کے مطابق لیا جاتا ہے۔ اس درمیان افسران نے جیل نمبر 7 میں یاسین ملک کے وارڈ کے باہر سیکورٹی انتظامات بڑھا دیے ہیں۔

جیل میں یاسین ملک کے رویہ سے متعلق رپورٹ کے مطابق جیل کے اندر اس کا سلوک اطمینان بخش رہا ہے۔ جیل کے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ اس کے خلاف کوئی جیل کی سزا درج نہیں کی گئی ہے۔ سزا کے حکم میں کہا گیا ہے کہ ’’اصلاح کے تئیں مجرم کے جھکاؤ کے سلسلے میں یہ پیش کیا جاتا ہے کہ قید کے دوران ساتھی قیدیوں کے ساتھ جیل انتظامیہ کے تئیں مجرم کا سلوک اچھا اور پرامن رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مجرم اصلاح کی طرف جھکا ہوا ہے۔‘‘


واضح رہے کہ تہاڑ جیل کا بیرک نمبر 7 ہمیشہ سرخیوں میں رہا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ اس میں کئی ہائی پروفائل قیدی رہے ہیں، جن میں سابق وزیر مالیات پی چدمبرم، سابق مرکزی وزیر اے راجہ، سہارا چیف سبرت رائے، کرسچین مشیل سمیت کئی دیگر شامل ہیں۔ گزشتہ سال 12 اکتوبر کی ہی بات ہے، جب تہاڑ جیل کے 32 افسران کو یونی ٹیک کے سابق پروموٹروں کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے پایا گیا تھا۔ الزام ہے کہ چندرا برادران اجئے چندرا اور سنجے چندرا تہاڑ جیل کے اندر سے جیل ملازمین کی ملی بھگت سے کاروبار کر رہے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ سبھی 32 جیل افسر تہاڑ کے جیل (بیرک) نمبر 7 میں تعینات تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔