وادی میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ شروع، 3 دنوں میں گئیں 3 جانیں

بی جے پی حکومت کے ذریعہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد تشدد بڑھنے کا اندیشہ اب سچ ثابت ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ کشمیر میں یکے بعد دیگرے تشدد کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

گلزار بھٹ

وادی میں موجود دہشت گردوں نے حملے تیز کر دیئے ہیں اور گزشتہ تین دن میں تین غیر کشمیریوں کی جان چلی گئی ہے۔ بدھ کو دہشت گردوں نے پلوامہ ضلع کے ایک گاؤں میں چھتیس گڑھ کے ایک مزدور کا گولی مار کر قتل کر دیا۔ پولس کے مطابق اس حادثہ کے کچھ گھنٹے بعد دہشت گرد شوپیاں ضلع میں نظر آئے اور انھوں نے پنجاب کے ایک سیب تاجر کی جان لے لی جب کہ ایک دیگر زخمی ہو گیا۔

اسی طرح پیر کے روز وادی میں تقریباً 70 دن بعد پوسٹ پیڈ موبائل خدمات بحال ہوتے ہی سیب باغانوں والے شوپیاں ضلع میں دہشت گرد دکھائی دیئے اور انھوں نے ایک غیر کشمیری ٹرک ڈرائیور کا قتل کر دیا۔ یہ ٹرک ڈرائیور وادی سے باہر سیب لے کر جانے والا تھا۔

گزشتہ 5 اگست کو جب دفعہ 370 ہٹانے کا فیصلہ ہوا تھا تو سیکورٹی اور سیاسی ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ اب غیر کشمیریوں کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھیں گے۔ سیکورٹی ایجنسیاں جہاں ٹرک ڈرائیور کے قتل کو دہشت گردوں کی مایوسی سے جوڑ رہی ہیں، وہیں غیر کشمیری مزدور کے قتل پر خاموش ہیں۔

پولس کے مطابق دہشت گرد لگاتار پھل فروشوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ وادی میں فصل کا وقت ستمبر کے آس پاس شروع ہوتا ہے۔ وادی کی سیب پٹی میں کئی جگہ چسپاں پوسٹروں میں لگاتار کسانوں کو سیب نہ توڑنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ بارہمولہ میں سیب تاجر کا اس کے ہی گھر میں گھس کر قتل کے بعد دھمکی صحیح ثابت ہوئی ہے۔

حالانکہ کئی علاقوں کے کسان فصل توڑنا شروع کر چکے ہیں، لیکن شوپیاں اور سوپور کی بڑی منڈیاں بند ہیں۔ شوپیاں کے ایک سیب فروش جاوید احمد کہتے ہیں کہ ’’میں صرف سیب توڑ کر انھیں پیک کر رہا ہوں۔ لیکن ٹرک ڈرائیور کے قتل کے بعد اب فصل کو باہر بھیجنا مشکل ہو جائے گا۔‘‘

دھیان رہے کہ دہشت گردوں کی دھمکیوں کے مدنظر حکومت نے ستمبر کی شروعات میں کہا تھا کہ وہ نیفیڈ کے ذریعہ کسانوں سے سیدھے سیب خریدے گی۔ لیکن زیادہ تر سیب فروش نیفیڈ کو اپنی فصل فروخت کرنے سے بچتے رہے۔ ایک سیب فروش نظیر احمد کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کسانوں نے دہلی اور دوسری جگہوں کے تاجروں سے ایڈوانس لے رکھا ہے، ایسے میں ان کے پاس اپنی فصل وہاں بھیجنے کے علاوہ دوسرا متبادل نہیں ہے۔

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ غیر کشمیریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سے واضح ہے کہ اب ایشو پہچان کا اور کلچر کا بن گیا ہے جو ریاست کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد سامنے آ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جو لوگ اپنی پہچان کو لے کر متفکر ہیں، ان کے لیے یہ واقعات ایک تنبیہ جیسی ہیں۔

نام شائع نہ کرنے کی شرط پر ایک سیاسی ماہر نے کہا کہ ’’صرف پھلوں کے کاروبار سے جڑے لوگ ہی نشانہ نہیں بن رہے ہیں، اینٹ بھٹوں میں کام کرنے والے باہر سے آئے مزدور کا قتل ایک خطرناک ٹرینڈ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ غیر کشمیری مزدوروں کو اس سے پہلے کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ان کے مطابق ’’ان قتل واقعات کے پیچھے جو بھی لوگ ہیں وہ غیر کشمیریوں کو ایک بڑا پیغام دینا چاہتے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد جنوب پنتھی لیڈروں کے کچھ غیر ذمہ دارانہ بیان سامنے آئے، جس کے بعد لوگوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ ان کی پہچان خطرے میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے بیانات سے نہ صرف وادی کے لوگوں کی بے عزتی ہوتی ہے بلکہ یہ دہشت گردوں کو اکسانے کا کام بھی کرتے ہیں۔