عالمی یومِ خواتین: عزت و احترام کی طلبگار مسلم خواتین آج بھی ظلم کی شکار

مسلم خواتین کا ماننا ہے کہ صرف ’عالمی یومِ خواتین‘ منانے سے حالات بہتر نہیں ہو سکتے بلکہ اس دن ایسی مہم یا ایسی تحریک چلانی ہوگی جو خواتین کو مردوں کے شانہ بہ شانہ لا کھڑا کرے۔

By نیاز عالم

آج یعنی 8 مارچ کو پوری دنیا میں ’یومِ خواتین‘ منایا جا رہا ہے لیکن ہندوستان کی مسلم خواتین خود کو کتنا محفوظ سمجھتی ہیں اور مرکزی حکومت سے وہ کس طرح کے توقعات رکھتی ہیں، اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ویسے تو ہندوستان میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی خواتین خستہ حالی کی شکار ہیں لیکن گزشتہ کچھ دہائیوں میں ان کے اندر کچھ حد تک بیداری ضرور پیدا ہوئی ہے۔ پھر بھی مسلم خواتین کی حالت کافی دگر گوں ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، بہار میں شعبۂ خواتین کی کو آرڈینیٹر ڈاکٹر مہ جبیں ناز کہتی ہیں کہ ’’مرکزی حکومت خواتین کے نام پر بھی سیاست کرتی ہے۔ نربھیا کا معاملہ ہو یا استحصال کا کوئی دوسرا معاملہ خواتین آج بھی مظالم کی شکار ہیں اور وہ سڑکوں پر اتر رہی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر مہ جبیں سماجی خدمات انجام دینے والی تنظیم الشہیدہ غفور کی ڈائریکٹر بھی ہیں اور وہ خواتین کی بدحالی کے لیے مرکزی حکومت کو سب سے زیادہ ذمہ دار تصور کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ہر کسی کے یوم پیدائش پر ٹوئٹ کرنے والی حکومت خواتین کے معاملہ میں کبھی ٹوئٹ نہیں کرتی۔ حکومت محض خواتین کے کندھوں پر بندوق رکھ کر سیاست کرتی ہے۔‘‘انہوں نے حکومت کے ذریعہ مسلم خواتین کو نظر انداز کیے جانے سے متعلق کہا کہ’’ حکومت ہمیں مسلم خاتون سمجھ کر نہیں بلکہ ہندوستانی خاتون سمجھ کر حقوق فراہم کرے۔ کچھ مسلم خواتین آج اگر میٹنگ کرنا چاہیں تو ان کے پیچھے آئی بی کو لگا دیا جاتا ہے۔ حکومت ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھنا بند کرے۔ ‘‘

پوری دنیا میں خواتین میں بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے منائے جانے والے ’یومِ خواتین‘ کے متعلق ریسرچ اسکالر ذہین فاطمہ سے جب بات کی گئی تو انھوں نے بتایا کہ ’’خواتین کے تئیں عزت و احترام کا جذبہ ظاہر کرنے کے لیے 'یوم خواتین' منانا اچھی بات ہے لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عزت و احترام صرف اسی دن کے لیے منسوب نہ کر دیا جائے۔ اسکول ٹیچر نازیہ کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ’’مرد اور عورت کے درمیان تفریق سے کوئی ناآشنا نہیں ہے۔ جنسی برابری کی بات تو خوب ہوتی ہے لیکن عملی طور پر کم ہی لوگوں کا رویہ ایسا ہوتا ہے۔ 'یوم خواتین' اس جنسی برابری کو تقویت پہنچانے کا بہترین موقع ہوتا ہے جب سیاسی، سماجی اور گھریلو سطح پر خواتین کو اعزاز بخشا جاتا ہے اور ان کی اہمیت و افادیت کا اعتراف پوری دنیا کرتی ہے۔‘‘

ہاؤس وائف شہناز نے بھی خواتین کے تئیں احترام کا جذبہ عام کرنے کے لیے ’عالمی یومِ خواتین‘ کا بہتر استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں تو بس یہی سوچتی ہوں کہ خواتین بھی مردوں کی طرح انسان ہوتی ہیں اور ان کا ہمیشہ اسی طرح احترام کیا جانا چاہیے جیسے مردوں کا کیا جاتا ہے۔ سماج میں جنسی نابرابری کو ختم کرنے کے لیے سال میں ایک دن یوم خواتین کی شکل میں تحریک چلائی جاتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔‘‘