قومی

یوم خواتین پر خاص :آسمان چھونے کو بیتاب ہیں مسلم بیٹیاں

خواتین کی پرواز میں مسلم سماج کی بیٹیاں بھی اب ہر جگہ دستک دے رہی ہیں۔ خوشبو مرزا، رضیہ زیدی، سارہ گل، ام الخیر، رضیہ سلطانہ جیسی بے شمار بیٹیاں مختلف شعبوں میں قوم و ملت کا نام روشن کر رہی ہیں۔

تصویر قومی آواز

قومی آوازبیورو

خواتین کی ہمت افزائی اور محبت کا اظہار ہونا چاہیے

دہلی: زندگی کا کون سا ایسا شعبہ ہے جہاں خواتین نہیں ہیں ۔ آسمان میں اڑنے سے لے کر کھیل کے میدان تک زندگی کے ہر شعبہ میں خواتین اپنا لوہا منوا رہی ہیں ۔ خواتین کی اس پرواز میں مسلم سماج کی بیٹیاں بھی اب ہر جگہ دستک دے رہی ہیں ۔ اسرو (ISRO) میں کام کر رہی خشبو مرزا ہوں یا ہاکی کے میدان پررضیہ زیدی ، مسلم بیٹیاں کسی شعبہ میں پیچھے نہیں ہیں اور وہ آسمان چھونے کو بیتاب ہیں۔ یوم خواتین کے موقع پر ملٹی نیشنل کمپنی میں اسسٹنٹ کنسلٹنٹ کی پوسٹ پر کام کر رہیں سارہ گل رخسار کا کہنا ہے کہ ’’میرے خیال میں یوم خواتین کی اپنی اہمیت ہے اور چاہے کتنی بھی کم کیوں نہ ہو ، خواتین کی ہمت افزائی اور ان کے ساتھ محبت کا اظہار ہونا چاہئے ،کیونکہ اس کا اثر بہت دور تک جاتا ہے ۔ اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ خواتین کے ان مسائل پر توجہ ضرور دینی چاہئے جن کا روزمرہ کی زندگی میں سامنا ہے جیسے تفریق ، گھریلو تشدد اور زیادتیاں‘‘۔

دہلی یونورسٹی سے سائیکولوجی میں ایم اےکرنے کے بعد سارہ گل رخسار مسلم خواتین کے مستقبل سے پر امید ہیں لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ خواتین کو چار دیواری سے باہر آنا ہوگا ’’جہاں تک مسلم خواتین کا تعلق ہے تو میں تو یہی کہوں گی کہ ویسے تو تمام خواتین کی آواز سننے کی ضرورت ہے اور ان کا احترام کرنے کی بھی ضرورت ہے لیکن مسلم خواتین کو اس کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ وہ جس سماج سے باہر آ رہی ہیں وہاں زیادہ حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ مسلم خواتین کو بھی زیادہ سے زیادہ باہر نکل کر سماجی زندگی میں حصہ لینا چاہئے اور بند کمرے سے باہر نکلنا چاہئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ طے کریں کہ ان کے لئے کیا بہتر ہے۔ مسلم خواتین اگر بند کمرے میں رہیں گی تو وہ خود بھی ترقی نہیں کریں گی اور مسلم سماج بھی ترقی نہیں کرے گا‘‘۔

ام الخیربنی آئی اے ایس : ماں گھر گھر برتن مانجھتی تھی، باپ پھیری لگاتا تھا

دہلی: ام الخیر کا خاندان راجستھان سے 25 سال قبل دہلی میں آیا تھا،غربت کی حالت میں وہ جھگی میں رہیں۔ بچوں کو 100 روپے ماہانہ ٹیوشن پڑھاتی تھیں ۔ ان کی زندگی کا امتحان بہت سخت تھا کیوں کہ ام الخیر ایسے مرض میں مبتلا تھیں کہ ان کی ہڈیاں اکثر ٹوٹ جایا کرتی تھیں۔ ان کی ہڈی 18 بار ٹوٹی لیکن حوصلہ نہیں ٹوٹا اور انہوں نے آئی اے ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔

ام الخیر کے قریبی افراد کا کہنا ہے کہ وہ بہت ہمت والی لڑکی تھیں اور ان کے لبوں پر ہمیشہ یہ جملہ رہتا تھا کہ ’’مجھے بہت دور تک جانا ہے۔‘‘ آئی اے ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ سول سروسز کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ معذور افراد کو حوصلہ دینے کے لئے دنیا بھر میں انہیں آج مدعو کیا جاتا ہے۔ ام الخیر جے این یو دہلی سے تعلیم یافتہ ہیں اور ان کے ساتھی طلباء کہتے ہیں کہ وہ اس یونیورسٹی کا کوہ نور ہیں۔

بیٹیوں کو فروغ دے رہا مظفر نگر کا ایک گاؤں

مظفر نگر : میرٹھ مظفرنگر شاہراہ سے 4 کلومیٹر کے فاصلہ پر کھتولی تحصیل میں واقع تین ہزار کی آبادی والا لوہدّا گاؤں بیٹیوں کو فروغ دینے والے گاؤں کے نام سے مشہور ہو چکا ہے۔ اس گاؤں میں 700 گھروں کی دیواروں پر مالک مکان کے طور پر بیٹیوں کے نام درج ہیں۔

لوہدا کی ہر دہلیز بیٹی کے نام سے پہچانی جاتی ہے اور اس منفرد اقدام نے یہاں کی بیٹوں کا خود اعتماد آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ گاؤں کے پردھان ستیندر پال کا کہنا ہے کہ ’’اس مہم سے ترغیب لے کر ملحقہ گاؤں کے پردھانوں نے بھی یہ مہم شروع کر دی ہے۔ اس کی وجہ سے بیٹیوں کی عزت و وقار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ‘‘ کھتولی کے ایس ڈی ایم دھرمیندر کمار اس اقدام کو شاندار قرار دیتے ہیں۔

ہاکی کے میدان سے جلوہ افروز ہونے والی رضیہ زیدی

بجنور: سال 1982 کے ایشیائی کھیلوں میں سینٹر فارورڈ پوزیشن پر ہاکی کھیلنے والی رضیہ کا چہار سو ذکر ہوتا ہے۔ وہ خاتون ہاکی ٹیم کی کپتان تھیں اور اسی ٹیم نے ایشائی کھیلوں میں طلائی طمغہ حاصل کیا تھا۔ یو پی کے بجنور میں ہاکی کسی دوسرے ضلع کی بہ نسبت زیادہ مقبول ہے۔

بجنور نغمہ، شیرین اور اقصیٰ جیسی لڑکیاں قومی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلا چکی ہیں اور یہ شاید اسی لئے ممکن ہو پایا کیوں کہ انہوں نے رضیہ سے ترغیب حاصل کی۔ رضیہ کواپنے شاندار کھیل کے دم پر ریلوے میں سی او کی ملازمت حاصل ہوئی۔

رضیہ زیدی کا کہنا ہے ’’مجھے مشکلات سے لڑنا اچھا لگتا ہے۔ وہ زمانہ ہاکی کا تھا آج کرکٹ کا ہے۔ مجھے کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن میں نے کسی کی پرواہ نہیں کی۔ ‘‘ ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے ان کی حمایت کی اور انہیں سر آنکھوں پر بیٹھایا ۔ ان سے ترغیب حاصل کرنے والی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ’رضیہ میم‘ نے ان کے لئے بند دروازوں کو کھول دیا۔

کے بی سی کی پہلی ’کروڑپتی ‘ فاطمہ کی روحانی کہانی

سہارنپور : امیتابھ بچن کے زیر بحث ٹی وی شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں سہارنپور کی رہائشی فاطمہ نے 2013 میں حصہ لیا اور ایک کروڑ روپے جیتنے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ فاطمہ کا خواب سول سروسز میں جانے کا تھا لیکن گھر کی حالت سے وہ مجبور ہو گئیں۔ کے بی سی سے انہوں نے 70 لاکھ روپے (30 لاکھ ٹیکس کاٹنے کے بعد) جیتے ۔

دولت اور شہرت حاصل کرنے کے بعد فاطمہ کی زندگی میں اس وقت اہم موڑ آیا جب وہ عمرہ کرنےکے لئے مدینہ گئیں۔فاطمہ اب روحانی زندگی گزار رہی ہیں اور دوسروں کو بھی اسلام کے راستہ پر چلنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ فاطمہ سہارنپور کے سنسارپورکی رہائشی ہیں جو کافی پسماندہ علاقہ ہے ، جہاں لڑکیوں کی خواندگی کی شرح بھی کافی کم ہے۔ فاطمہ کی کامیابی کے بعد یہاں کی لڑکیوں میں بھی تعلیم کا رجحان پیدا ہوا اور ان کو ’رول ماڈل ‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

رضیہ سلطانہ، فٹ بال کی سلائی کر کے گھر چلایا، پہلا ملالہ ایوارڈ حاصل کیا

میرٹھ : گاؤں کمبھا کی رہائشی 19 سالہ رضیہ سلطانہ نے اپنے علاقہ کا نام دنیا میں روشن کر دیا ہے۔ رضیہ کے گاؤں کے کافی لوگوں نے اقوام متحدہ کا نام تک نہیں سنا اور انہوں نے اس کی طرف سے دیا جا نے والا پہلا ملالہ ایوارڈ حاصل کر لیا۔ جس طرح ملالہ یوسف زئی دنیا بھر کی لڑکیوں کے لئے مثال ہیں اسی طرح رضیہ سلطانہ بھی اپنے علاقہ کی شان ہیں ۔ رضیہ نے (چائلڈ لیبر)اطفال مزدوری کر رہے 48 بچوں کو آزاد کرایا اور ان کا داخلہ اسکول میں کرایا۔ ان کے اس کارنامہ کی آواز اقوام متحدہ تک پہنچی جس کے سبب انہیں 2013 میں ایوارڈ سے اس وقت نوازا گیا جب وہ محض 15 سال کی تھیں۔

رضیہ آج بھی بچوں کے تئیں جرائم کے خلاف کام کر رہی ہیں ۔ انہیں کاموں کی بنا پرانہیں ’اطفال پنچایت ‘ کا قومی سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

کشمیر میں بنت حوا پر ظلم و جبر

جموں و کشمیر: یوم خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جہاں پوری دنیا میں سیمنار اور پروگراموں کاا نعقاد کیا جارہا ہے اور تحفظ نسواں کو مستحکم و پائیدار بنانے کے لئے مختلف اقدامات اٹھا ئے جا رہے ہیں، وہیں وادی کشمیر میں صورت حال اس کے برعکس ہے عورت خواہ بیٹی، بہن، بیوی ، ماں یاکسی اور روپ میں ہو اس کے بغیر انسانی معاشرہ نامکمل ہے۔

اسلام میں عورت کو انتہائی بلند مقام دیا گیا ہے۔ بیٹی ہے تو والدین کے لئے رحمت ہے۔ ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی گئی ہے۔لیکن ہمارے ملک میں بسنے والی عورت پر آج بھی دور جاہلیت کے رسم و رواج کا اطلاق ہو تا ہے۔ گینگ ریپ، زنا بالجبر، جبری مشقت، مار پیٹ، بچیوں کی مرضی کے خلاف شادی، عزت کے نام پر قتل، وراثت سے محرومی اور سوا بتیس روپے حق مہر جیسے غیر عادلانہ، غیر منصفانہ، ظالمانہ اقدامات اور جاہلانہ رسم و رواج کے سبب عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہو رہی ہے ، جبکہ شریعت اسلامیہ اور شرعی قوانین سے ان رسم و رواج کا دور دور تک کا بھی واسطہ نہیں۔ بلکہ یہ سب کچھ شعائر اسلامی کےخلاف اور اسلام کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش کے مترادف ہے۔ کشمیر کے مہذب سماج میں بنت حوا پر مردوں کی یلغار جاری ہےشرافت کے لئے مشہور کشمیری سماج میں آج دیمک نے جگہ بنالی ہے اور بنت حوا پر ظلم و جبر کے پہاڑ ٹوٹ پڑ ےہیں ، ستم زدہ ماحول کے درمیان کشمیر میں کچھ ایسی خواتین بھی ہیں جو نام نہاد مہذب سماج کی صعوبتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں ۔

ضلع اننت نا گ کے ایک دور افتادہ گاؤں کی ایک اپاہج خاتون فہمیدہ بھی اپنے حقوق کے لئے جستجو کر رہی ہے ۔کئی سال پہلے محکمہ سوشل ویلفئر میں بحیثیت آنگن واڑی ورکر کے بطور تعینا ت ہوئی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیساکھیوں کا سہارا لے کر آنگن واڑی ورکرز یونین کی چیئر پرسن بن کر اپنے ملازمین کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اپاہج ہونے کےباوجود وہ اپنے کام میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی اور اثر دار فرائض انجام دے کر سرخیوں میں بنی ہوئی ہیں۔

پرانی دہلی کی خواتین بیدار، لیکن وسائل کی کمی

دہلی: پرانی دہلی کی باشندہ فرزانہ کی عربی سیکھنے کی خواہش بہت پرانی تھی جس کے مدنظر انھوں نے عربی کورس میں داخلہ لیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں نے عربی کورس میں داخلہ لیا۔ اس میں مجھے پریشانی تو بہت ہوئی لیکن میں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔‘‘ پرانی دہلی میں خواتین کے تحفظ سے متعلق وہ کہتی ہیں کہ ’’ حفاظتی نقطہ نظر سے بات کروں تو پرانی دہلی میں مجھے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔‘‘ اس علاقے میں مسلم بچیوں میں تعلیمی بیداری قابل دید ہے۔ فرزانہ اس سلسلے میں بتاتی ہیں کہ ’’ جہاں تک مسلم بچیوں اور خواتین کا سوال ہے، تو تعلیمی نقطہ نظر سے وہ خودمختار ہو رہی ہیں۔ تعلیمی شعبہ میں مضبوط ہونے کے سبب انھیں اپنا مستقبل طے کرنے میں زیادہ پریشانی نہیں ہوتی ہے۔‘‘

فرزانہ کا کہنا ہے کہ تعلیم اور تحفظ سے متعلق لڑکیوں میں بیداری بہت ہے۔ پرانی دہلی میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں وسائل کی بہت کمی ہے۔ مثلاً کوئی لڑکی ڈاکٹر بننا چاہتی ہے تو اسکول میں سائنس نہیں ہے، کامرس نہیں ہے۔ ایسی صورت میں لڑکیوں کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو پاتا ہے۔

(اتر پردیش سے آس محمد کیف اور کشمیر سے خالد منتظر کی رپورٹ کے ساتھ)