میڈیا میں خواتین: ’کام تو ملتا ہے، صلاحیتوں کا استعمال نہیں ہوتا‘

شعبہ خواتین کی اسسٹنٹ سیکریٹری رحمت النساء نے کہا ’’ اکثر صحافیاؤں کو ان کی صلاحیتوں کے برعکس کمتر کاموں میں لگا دیا جاتا ہے اور کم اہمیت والے حلقوں میں ان سے رپورٹنگ کرائی جاتی ہے‘‘

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: جماعت اسلامی حلقہ دہلی کے شعبہ خواتین کی جانب سے جمعہ کے روز ’میڈیا میں خواتین‘ کے عنوان سے ایک مباحثہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس مباحثہ میں مختلف میڈیا اداروں میں کام کر رہی خاتون صحافیوں کے علاوہ صحافت کی طالبات اور دیگر شعبوں سے وابستہ خواتین نے شرکت کی۔ یہ مباحثہ مرکز جماعت اسلامی ہند کے ابولفضل انکلیو، اوکھلا میں واقع دفتر پر منعقد ہوا۔

جماعت اسلامی کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق، مباحثہ کی صدارت کرتے ہوئے شعبہ خواتین کی اسسٹنٹ سیکریٹری رحمت النساء نے کہا ’’ آج خواتین اپنے کیرئیر کے طور پر صحافت کا انتخاب کر رہی ہیں لیکن ان کی صلاحیتوں اور قابلیت کا پورا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ اکثر صحافیاؤں کو ان کی صلاحیتوں کے برعکس کمتر کاموں میں لگا دیا جاتا ہے اور کم اہمیت والے حلقوں میں ان سے رپورٹنگ کرائی جاتی ہے۔‘‘

نیشنل ہیرالڈ/ قومی آواز کی صحافیہ ایشلِن میتھیو نے میڈیا میں خواتین کی تعداد پر اعداد و شمار کی روشنی میں کہا کہ خاتون صحافی شاید ہی کبھی سیاسی اہمیت کی حامل رپورٹ کر پاتی ہیں۔ انہوں نے سروے رپورٹ کی روشنی میں کہا کہ خاتون صحافی صرف 32 فیصد ہی خبریں کوور کر پاتی ہیں۔ تاہم خوش آئند پہلو یہ ہے کہ کچھ صحافیاؤں نے خود کے لئے جگہ بنائی ہے اور وہ خالص سیاسی ایشوز پر رپورٹنگ کر رہی ہیں۔‘‘

دی ٹائمز آف انڈیا سے وابستہ خاتون صحافی اریبہ فلک نے میڈیا کے ذریعہ عورتوں کی کردار کشی اور اسے پیش کرنے کے طریقے پر سوال اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی وی کے اشتہارات عورتوں کو ایک مادی وسائل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ان کے اصل مسئلے اور ایشوز پر ٹھیک سے بات نہیں کی جاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا اداروں میں تفریق کا عام ماحول ہے جس سے انھیں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں کافی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔

تہلکہ میگزین کی ذکیہ جعفری نے صحافیاؤں کے کام کے دوران ہونے والی پریشانیوں اور مشکلات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی میڈیا کے ادارے کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے یہاں کام کر رہی صحافیاؤں کی سیکورٹی کو بہتر بنائے اور اسے ہر طرح سے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی کوشش کرے۔ خواتین کی آواز تبھی سنائی دے گی جب اس کی نمائندگی پارلیمنٹ اور عدلیہ میں بہتر انداز سے ہو ساتھ ہی لوگوں کی ذہنیت تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

صحافیہ عظمیٰ اشرف نے مسلم اور دیگر کمزور طبقہ کے صحافیاؤں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لئے آزمائشوں کی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے۔ گھر سے آفس اور اپنے کاموں کے تمام مقامات پر آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ میڈیا کی طالبہ عائشہ اور فرخندہ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین حجاب پہن کر کیوں نیوز ریڈر اور اینکرنگ نہیں کر سکتی؟ کیوں مسلم خواتین کو میڈیا میں جانبدارانہ رویہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

اس مذاکرہ میں حصہ لیتے ہوئے خواتین شرکاء نے کہا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے ایسی گفتگو ہمیشہ منعقد کرنی چاہئے ساتھ ہی عورتوں کو اپنی اسلامی شعار کے ساتھ اس میدان میں بہتر انداز سے نمائندگی کرنی چاہئے۔ آج عورتوں کو جس طریقے سے میڈیا پیش کر رہی ہے وہ کافی تکلیف دہ ہے ساتھ ہی مسلم خواتین کو صرف چند ایک مسئلے تک ہی محدود کر دیا جاتا ہے۔

پروگرام میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ہمیں تعلیم کے میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے اور میڈیا کے میدان میں عورتوں کو آگے لانے کی ضرورت ہے۔

پروگرام کی نظامت جوویریا ریمی نے کی۔ حلقہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری عطیہ صدیقہ، دہلی کی سیکریٹری یاسمین، جی آئی او کی صدر نکہت فاطمہ اور دہلی کی صدر شائستہ رفعت نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔

Published: 15 Nov 2019, 9:11 PM