2029 سے پہلے خواتین کو ریزرویشن نہیں مل سکتا، راجیہ سبھا میں جے پی نڈا کا اعتراف!

راجیہ سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پر بحث کے دوران بی جے پی کو او بی سی مخالف ٹھہرائے جانے پر نڈا نے کہا کہ ’’ہندوستان کو پہلا او بی سی وزیر اعظم بی جے پی نے ہی دیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جے پی نڈا، تصویر ویڈیو گریب</p></div>

جے پی نڈا، تصویر ویڈیو گریب

user

قومی آوازبیورو

خاتون ریزرویشن بل 20 ستمبر کو لوک سبھا سے پاس ہو گیا، اور 21 ستمبر یعنی آج اس بل پر راجیہ سبھا میں بحث جاری ہے۔ بحث کے دوران بیشتر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے بل کی حمایت تو کی، لیکن اس کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی زور و شور سے یہ مطالبہ بھی رکھا گیا کہ 33 فیصد خواتین کے لیے طے کردہ ریزرویشن کے اندر او بی سی خواتین کے لیے ریزرویشن بھی یقینی بنایا جائے۔ ان معاملوں پر بی جے پی صدر اور رکن پارلیمنٹ جے پی نڈا نے راجیہ سبھا میں اپنا موقف واضح الفاظ میں پیش کیا۔

جے پی نڈا نے راجیہ سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 2029 سے پہلے خواتین کو ریزرویشن نہیں مل سکتا۔ دراصل انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’خواتین کو کس سیٹ پر ریزرویشن ملنا چاہیے، کس سیٹ پر نہیں ملنا چاہیے، یہ فیصلہ حکومت نہیں کر سکتی۔ یہ فیصلہ کمیشن کرے گا۔ اس سے پہلے ضروری ہے کہ مردم شماری ہو، اور پھر حد بندی کا عمل انجام پائے۔ اس لیے آج بل پاس ہونے کے بعد 2029 میں 33 فیصد خواتین اراکین پارلیمنٹ بن کر آ جائیں گے۔ اور اگر یہ بل آج پاس نہین ہوتا تو یہ طے ہے کہ 2029 میں بھی 33 فیصد خواتین اراکین پارلیمنٹ نہیں بن پائیں گی۔‘‘


آج اپنے خطاب میں جے پی نڈا نے خاتون ریزرویشن بل (ناری شکتی وَندن ادھینیم) کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’21ویں صدی خواتین کی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستان کی خواتین خود کو قائد کے کردار میں لے کر آئی ہیں۔ بہت سے ایسے ممالک ہیں جنھوں نے خواتین کو ووٹنگ رائٹس دینے کے لیے طویل جدوجہد کی تھی۔ ہمارا نظریہ خواتین کے تعلق سے بے چاری، بے بس عورت جیسا کبھی نہیں رہا۔ ہم نے ہمیشہ خواتین کا احترام کیا ہے۔ ناری شکتی وَندن ادھینیم لا کر ہم خواتین کو عزت دینے کا کام کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ خواتین میں فیصلے لینے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ تحقیقی یہ بھی بتاتی ہے کہ نشہ کے خلاف خواتین نے آواز اٹھائی ہے۔ جہاں خواتین قائد کے کردار میں ہیں وہاں بدعنوانی کم ہوتی ہے۔‘‘

راجیہ سبھا میں خاتون ریزرویشن بل پر بحث کے دوران بی جے پی کو او بی سی مخالف ٹھہرائے جانے پر نڈا نے کہا کہ ’’ہندوستان کو پہلا او بی سی وزیر اعظم بی جے پی نے دیا ہے۔ آج 27 وزیر او بی سی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی جے پی کے 303 اراکین پارلیمنٹ میں سے 29 فیصد او بی سی ہیں۔ یہ تو صرف لوک سبھا کا نمبر ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;