’شوہر کے بغیر نہیں جی سکتی‘، یہ لکھ کر خاتون نے اپنے دو بچوں سمیت خودکشی کرلی

خاتون نے خودکشی کرنے سے قبل ایک خط لکھا ہے اور اپنی والدہ اور اہل خانہ سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود کشی کررہی ہے کیونکہ وہ اپنے شوہر کے بغیر نہیں جی سکتی۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

کورونا کے باعث ہوئی شوہر کی موت کے غم سے نڈھال ایک خاتوں نے اورنگ آباد میں خودکشی کر لی۔خودکشی سے قبل اس نے اپنے ایک لڑکے اور لڑکی کو بھی ہلاک کرنے کی کوشش کی، اس سانحہ میں خوش قسمتی سے لڑکا بچ گیا ہے لیکن لڑکی ہلاک ہو گئی ہے۔

اورنگ آباد کے علاقے پنڈالیکن نگر میں کرونا کی وجہ سے شوہر کی موت کے بعد ایک خاتون نے اس کی جودائی کا غم برداشت نہ کرتے ہوئے دونوں بچوں سمیت خودکشی کر لی۔ اس معاملے میں لڑکا خوش قسمتی سے بچ گیا ہے۔ اس واقعہ سے علاقے میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ خاتون نے خودکشی کرنے سے قبل ایک خط لکھا ہے اور اپنی والدہ اور اہل خانہ سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود کشی کررہی ہے کیونکہ وہ اپنے شوہر کے بغیر نہیں جی سکتی۔


پتا چلا کہ اس عورت نے اپنے دونوں بچوں کے ہاتھوں کی رگیں کاٹ ڈالیں اور پھر صبح ہی ان کا گلا دبا دیا۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت ثمینہ رستم شیخ (42)، عائشہ رستم شیخ (17) اور سمیر رستم شیخ کے نام سے ہوئی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ ثمینہ کے شوہر رستم شیخ ایک بلڈر تھے۔ 25 سال قبل انھوں نے لو میرج کی تھی ۔ کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بند تھا جس کے باعث شوہر رستم شیخ تین ماہ سے گھر سے باہر نہیں گیا تھا ۔ لیکن یکم جون کے بعد ، اس نے اپنا کام شروع کردیا۔ اس کے بعد وہ کورونا سے متاثر ہوئے اور 31 جولائی کو ان کا انتقال ہوگیا۔ شوہر کے انتقال کے بعد ثمینہ پریشان ہوگئی۔ اس نے کہا تھا کہ اب وہ زندہ نہیں رہے گی جس پر افراد خاندان نے اسے سمجھایا تھا۔


منگل کی شب ، انہوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھانا کھایا اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر لوٹی۔ رات کے وقت، اس نے اپنے بچوں کے ہاتھوں کی رگیں کاٹ دیں ، پھر اپنی بیٹی عائشہ کا گلا گھونٹا۔ چونکہ دوپہر تک دروازہ نہیں کھولا گیا ، شہریوں نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن اندر سےکوئی جواب نہیں دے رہا تھا، شہریوں نے دروازہ توڑ دیا۔ ثمینہ اور عائشہ کا گلا گھونٹا گیا جب ان کا بیٹا سمیر بستر پر پڑا تھا۔ پولیس کی مدد سے اسے گھٹی اسپتال پہنچایا گیا۔ڈاکٹروں نے عائشہ اور ثمینہ کو مردہ قرار دے دیا اور سمیر زیر علاج ہے، واقعے کے بعد پولیس نے گھر پر چھاپہ مارا اور ثمینہ کا لکھا ہوا خط ملا۔ خط میں ، انہوں نے اپنی والدہ سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ بیان نہیں کرسکتی ہیں کہ انہوں نے کس طرح رستم کے بغیر پانچ دن گزارے ہیں اور وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں۔ یہ معاملہ پنڈالیک نگر پولیس میں درج کیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 07 Aug 2020, 7:40 AM