راج ٹھاکرے نے الیکشن میں بغیر اترے ہی کیا بی جے پی-شیوسینا کی ناک میں دَم

مہاراشٹر میں راج ٹھاکرے لگاتار مودی حکومت کی قلعی کھول رہے ہیں۔ ایم این ایس سربراہ ان دنوں اپنی ریلیوں میں اسٹیج پر دو بڑے بڑے ایل ای ڈی اسکرین لگواتے ہیں اور پھر مودی حکومت کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سجاتا آنندن

بہار اور مشرقی یو پی میں جب کوئی کہتا ہے کہ ’ذرا لاؤ رے‘، تو اس کا مطلب یہ نکالا جاتا ہے کہ وہ اپنا ہتھیار لانے کو کہہ رہا ہے۔ ایسا عام طور پر دبنگ لوگ ہی کہتے ہیں۔ لیکن مہاراشٹر نو نرمان سینا (این این ایس) سربراہ راج ٹھاکرے جب ایسا ہی جملہ مراٹھی میں بولتے ہیں تو اس کا مطلب ہے، ذرا اس ویڈیو کلپ (پی ایم مودی کے) کو آن کرو۔

یہ جملہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پوری ٹیم کے لیے خوفزدہ کرنے والا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ راج ٹھاکرے مہاراشٹر میں مودی حکومت کی قلعی کھول رہے ہیں۔ راج ٹھاکرے ان دنوں اپنی ریلیوں میں اسٹیج پر دو بڑے بڑے ایل ای ڈی اسکرین لگواتے ہیں۔ اس پر وہ مختلف قسم کے دعوے کرتے ہوئے مودی کے ویڈیو کلپس دکھاتے ہیں اور پھر اپنی باتیں رکھتے ہیں۔


مثال کے لیے وہ مودی کا ایک ویڈیو کلپ دکھاتے ہیں جس میں وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بہار میں 8 لاکھ 50 ہزار بیت اخلا ایک ہفتے میں ہی بنا دیے گئے۔ راج ٹھاکرے کہتے ہیں کہ سا کا مطلب ہوا کہ ہر پانچ سیکنڈ میں 7 بیت الخلاء بنا دیے گئے۔ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ جتنی دیر میں آپ بیت الخلاء جا کر لوٹ آتے ہیں، اس سے بھی کہیں کم وقت میں ایک بیت الخلاء بن کر تیرا ہو جاتا ہے، تو لوگوں کی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔

راج ٹھاکرے نیشنلزم کے ایشو پر بھی مودی کو اچھے طریقے سے گھیر رہے ہیں۔ وہ پلوامہ واقعہ اور اسی طرح بالاکوٹ ائیر اسٹرائیک پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ ’’آپ ہی سوچو، اگر ہماری ائیر اسٹرائیک سے ایک بھی پاکستانی مرا ہوتا تو کیا پاکستان وِنگ کمانڈر ابھینندن کو کچھ ہی دنوں میں زندہ لوٹنے دیتا؟ کیا عمران خان پاکستان کے لوگوں کے تئیں ذمہ دار نہیں ہے؟ ایسے میں امت شاہ کس بنیاد پر دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم لوگوں نے 250 پاکستانیوں کو مار گرایا!‘‘ پھر بھی وہ بی جے پی کو اپنے بیان کے لیے حملہ کا موقع نہیں دیتے ہیں کیونکہ وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ وہ فوج پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے، صرف اس ایشو کے سیاسی استعمال کو سامنے لا رہے ہیں۔


راج ٹھاکرے طنزیہ اور جارحانہ انداز سے پہلے بھی بولتے رہے ہیں، لیکن یہ ان کا نیا انداز ہے۔ اس میں کسی کو بھی شیو سینا سربراہ بال ٹھاکرے کا عکس نظر آئے گا۔ بال ٹھاکرے اپنی ریلیوں میں اخبار بھی لاتے تھے۔ ان میں کئی جملے لال سیاہی سے نشان زد کیے رہتے تھے۔ وہ انھیں پڑھ کر بتانے کے ساتھ لوگوں کو دکھاتے بھی تھے۔ اب یہ آڈیو-ویڈیو کا زمانہ ہے، تو راج اسی وسیلہ کا استعمال کر رہے ہیں۔

حالانکہ راج ٹھاکرے کی پارٹی نے اس الیکشن میں اپنے امیدوار نہیں اتارے ہیں۔ وہ کسی پارٹی کے ساتھ مشترکہ ریلی بھی نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف نریندر مودی-امت شاہ کو ہرانا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے راج ٹھاکرے کئی کام ایک ساتھ کر رہے ہیں۔ راج اپنی ریلیوں کے ذریعہ شیو سینا کے ووٹ بینک کو بھی اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی راج مودی-شاہ برادران بنام پورا ملک کا مسئلہ لوگوں کے سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


ممبئی میں گجراتی-مراٹھی کا جھگڑا برسوں سے ہو رہا ہے اور وہ زخم ابھی بھرے نہیں ہیں۔ وہ بقیہ مہاراشٹر میں مودی کی شبیہ جھوٹ بولنے والے کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ یہ راج ٹھاکرے کا اس معاملے میں بھی نیا روپ ہے کہ پہلے وہ مودی کے حامی رہے ہیں، لیکن اب انھوں نے گروپ کیوں بدل لیا، یہ پوچھے جانے پر وہ کہتے ہیں کہ مودی نہ صرف غلط دعوے کرتے ہیں بلکہ ملک کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ راج ٹھاکرے کہتے ہیں کہ الیکشن صرف اس بارے میں نہیں ہے کہ کون جیتتا ہے بلکہ بی جے پی کی شکست یقینی کرنی ہے تاکہ ملک بچ جائے۔

راج ٹھاکرے کے اس عمل سے بی جے پی-شیو سینا اتحاد حیران ہے۔ انھیں سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ راج ٹھاکرے کے حملوں کا جواب کس طرح دیں۔ ان کی پارٹی تو اس الیکشن میں لڑ ہی نہیں رہی ہے، اس کے باوجود وہ عظیم ریلیاں کر کے مودی حکومت اور بی جے پی کو لگاتار گھیر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں خاص کر بی جے پی کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ راج ٹھاکرے 29 اپریل کو مہاراشٹر میں آخری مرحلہ کی ووٹنگ کے بعد دوسری ریاستوں میں جا کر بھی اسی طرح کی ریلیاں کرنے والے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔