متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے پر کابینہ کی میٹنگ میں مہر لگنے کا امکان

سرکاری ذرائع کے مطابق تینوں قوانین کو واپس لینے کے فیصلہ پر کابینہ کی میٹنگ میں منظوری کے بعد انہیں واپس لینے کے لئے پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس میں بل لایا جائے گا۔

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو ہونے والی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کے حکومت کے فیصلے پر مہر لگنے کا امکان ہے۔ پی ایم مودی جمعہ کو گرو پرو کے موقع پر قوم کے نام خطاب میں کسان تنظیموں کی مخالفت کو مدنظر رکھتے ہوئے تینوں نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ ان قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے ملک بھر کی کسان تنظیمیں ایک سال سے زیادہ عرصے سے دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دے رہی ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تینوں قوانین کو واپس لینے کے فیصلہ پر کابینہ کی میٹنگ میں منظوری کے بعد انہیں واپس لینے کے لئے پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس میں بل لایا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ان تینوں قوانین کو واپس لینے کے لئے سرمائی اجلاس میں آئینی عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کسان تنظیموں سے اپیل کی تھی کہ وہ احتجاج ختم کر کے اپنے گھروں اور کھیتوں کو لوٹ جائیں۔ ساتھ ہی کسانوں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں ان قوانین کو واپس لینے کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی احتجاج ختم کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔