فیض کی نظموں کے ساتھ اسلام اور مغلیہ سلطنت کو بھی سی بی ایس ای نصاب سے ہٹایا گیا

سی بی ایس ای کا نصاب تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سی بی ایس ای نے دسویں جماعت کی سوشل سائنس کی کتاب کے نئے نصاب سے اسلام کے قیام، عروج اور توسیع کی کہانی کو ہٹا دیا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سی بی ایس ای کا نصاب تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فیض احمد فیض کی دو نظمیں سی بی ایس ای کی کتاب سے ہٹا دی گئی ہیں۔ حال ہی میں سی بی ایس ای نے نصاب میں بہت سی تبدیلیوں کے ساتھ تعلیمی سیشن کا نیا نصاب جاری کیا ہے۔ جس میں CBSE نے پاکستانی شاعر فیض احمد فیض کی 10ویں جماعت کی سوشل سائنس کی کتاب اور 11ویں جماعت کی تاریخ کی کتاب کے نئے نصاب سے اسلام کے قیام، عروج اور توسیع کی کہانی کو ہٹا دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی 12ویں جماعت کی تاریخ کی کتاب میں مغلیہ سلطنت کے انتظام و انصرام کے باب میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ فیض احمد فیض کی نظم کو ہٹانے اور سلیبس سے اسلام سے متعلق باب کو ہٹانے کے لیے سوشل میڈیا پر جنگ چھڑ گئی ہے۔

اس حوالے سے لوگوں کے طرح طرح کے ردعمل بھی سامنے آرہے ہیں۔ معروف شاعر اور ادیب یش مالویہ کا کہنا ہے کہ نفرت پھیلانے کا یہ دور چل رہا ہے اور فیض احمد فیض جیسے شاعرتوڑنے کی جگہ جوڑنے والے شاعر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ فیض احمد فیض بھلے ہی پاکستان کے شاعر رہے ہوں لیکن ان کی شاعری اردو دنیا کے ہر انسان کی زبان پر ہے۔ وہ پریاگ راج بھی آچکے ہیں اور مہادیوی ورما اور نرالا کے ساتھ ان کی اچھی جگل بندی ہوتی تھی۔


شاعر اور ادیب یش مالویہ کے مطابق حکومتوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ اپنی آنے والی نسل کو کیا دے رہی ہیں۔ ہماری نوجوان نسل گمراہ ہو جائے گی اگر وہ واقعی گنگا جمنی تہذیب اور ہماری جامع ثقافت کے بارے میں نہیں بتائیں گے۔ سی بی ایس ای کی کتابوں سے فیض احمد فیض کی نظم کو ہٹانے کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے وہ باغیانہ لہجہ ان کی شاعری اور غزلوں میں نظر آتا ہے۔ حال ہی میں سی اے اے اور این آر سی کو لے کر ملک بھر میں مظاہروں کے دوران ان کی غزل لوگوں نے خوب گائی ۔

دوسری طرف ماہرین اس پورے تنازع کو اس نقطہ نظر سے نہیں دیکھ رہے ہیں۔ پتنجلی اسکول کی پرنسپل سشمیتا کے مطابق، این سی ای آر ٹی یا سی بی ایس ای وقتاً فوقتاً اپنے نصاب کا جائزہ لیتی ہے اور ضرورت کے مطابق اس میں کچھ نئے مضامین شامل کیے جاتے ہیں اور کچھ مضامین کو ہٹا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ عمل بھی اسی کے تحت کیا جاتا۔اس لیے اس حوالے سے کسی قسم کا اختلاف کرنا مناسب نہیں۔


پتنجلی اسکول میں تاریخ پڑھانے والے استاد سومترا گوہا کا کہنا ہے کہ NCERT کی 11ویں کتاب میں 'دی سینٹرل اسلامک لینڈز' کا باب ہٹا دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کورونا کے دور میں 2 سال قبل ہٹائے گئے 'خانہ بدوش سلطنتوں' کا باب شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، 12ویں کلاس میں ’کنگز اینڈ کرانیکلز مغل کورٹس‘ کا باب ہٹا دیا گیا ہے۔ اس کے بجائے 'تھرو دی آئیز آف ٹریولرز چیپٹر' شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، کووڈ-19 کی وجہ سے نصاب میں 30 فیصد کی کمی کی گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔