سرمائی اجلاس: مظفر نگر جنسی زیادتی معاملہ کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں کرانے کا مطالبہ

عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا میں بیٹیوں کی حفاظت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اتر پردیش کے مظفرنگر میں لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعہ کی فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت کرائے جانے کا مطالبہ کیا

راجیہ سبھا میں ہنگامہ
راجیہ سبھا میں ہنگامہ
user

یو این آئی

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سنجے سنگھ نے جمعہ کے روز راجیہ سبھا میں بیٹیوں کی حفاظت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اتر پردیش کے مظفر نگر میں لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعہ کی فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت کرائے جانے کا مطالبہ کیا۔

وقفہ صفر کے دوران یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ 18 نومبر کو مظفر نگر سے 17 لڑکیوں کو پریکٹیکل امتحان کے نام پر لے جا کر پرائیویٹ اسکول میں رکھا گیا تھا۔ بعد میں نشہ آور چیز ملی کھچڑی کھلاکر اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان لڑکیوں کو ڈرایا دھمکایا گیا تاکہ وہ اس واقعے کی اطلاع نہ دیں۔ ان میں سے ایک لڑکی نے واقعے کے کئی دن بعد گھر والوں کو اس کی اطلاع دی۔ گھر والوں نے پولیس میں ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کی لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ سے شکایت کرنے کے بعد معاملہ درج کیا گیا۔

سنجے سنگھ نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں ہونی چاہیے تاکہ مجرموں کو چھ ماہ کے اندر سزا دی جا سکے ، جس سے اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہو سکیں۔


کانگریس کے کے ٹی ایس تلسی نے کہا کہ سر پر میلہ ڈھونے لعنت اب بھی جاری ہے اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی اس کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2016 سے اب تک ملک میں سیوروں اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران 472 افراد کی موت ہوچکی ہیں لیکن حکومت تکنیکی وجوہات کی بنا پر اسے قبول نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ دہلی کے منڈاولی میں ایک شخص کی موت ہوئی تھی لیکن سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ذمہ داری سے بچنے کے لیے سر پر میلہ ڈھونے کی بات تسلیم نہیں کرتی۔ حکومت اگر مسئلہ کو سمجھے تو اسے حل کیا سکتا ہے۔

بہوجن سماج پارٹی کے رام جی نے گزشتہ برس درج فہرست ذات و قبائل ایکٹ کی بحالی کی تحریک کے دوران درج کئے گئے مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے نوجوانوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی وجہ سے نوجوانوں کو ملازمت کے وقت پریشانی ہوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف اتر پردیش میں اس طرح کے تقریباً 15000 کیس درج ہیں۔


سماج وادی پارٹی کی ریوتی رمن سنگھ نے الہ آباد کے موتی لال میڈیکل کالج اسپتال میں ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دل کی بیماری اور دیگر کئی بیماریوں کے علاج کی کوئی سہولت نہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو باہر جانا پڑتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔