مودی نے پہلے خواب بیچے، اب مذہب بیچیں گے... ظفرآغا

مودی حکومت کے تقریباً 5 سال مکمل ہونے والے ہیں اور ملک 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دہانے پر کھڑا ہے۔ گزشتہ دو ہفتے کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیجیے، آپ کو احساس ہو جائے گا کہ ملک کی حالت کتنی خستہ ہے۔

آپ کو سال 2014 کے نریندر مودی یاد ہیں! اس وقت ملک کا جو ماحول تھا، اس سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ملک کو ایک انقلابی لیڈر مل گیا ہو۔ بچے بچے کی زبان پر صرف ایک نعرہ تھا ’اَبکی بار مودی سرکار‘۔ مانو ملک کی امیدیں پوری ہونے کا وقت آ گیا ہو۔ بھلا ہر کسی کے ذہن میں یہ امید کیوں نہ جاگتی؟ کبھی چائے پر چرچا تو کبھی انتخابی تقریر کے بیچ مودی جی مسیحا کی طرح ملک کے ہر طبقہ کے مسائل کا حل نکالنے کا راستہ بتا رہے تھے۔ ہر سال نوجوانوں کو دو کروڑ روزگار، کسانوں کو فصل کے بدلے سونے کی قیمت، تاجروں کو سستی شرح پر قرض، متوسط طبقہ کے لیے بینک میں کالے دھن کو واپس لا کر 15 لاکھ روپے، اور ملک کی تو مودی جی ’کایا پلٹ‘ ہی کرنے والے تھے۔ دوبئی جیسا چمکتا ہوا اسمارٹ سٹیز سے سجا ہوا ’سوچھ بھارت‘، جس پر ہندوستانی باشندے فخر کریں اور غیر ملکی جس ہندوستان کی ترقی دیکھ کر حیران رہ جائیں ۔

سال 2014 کے نریندر مودی کے منھ سے نکلا ہر لفظ ہندوستانی باشندوں کے لیے سچے موتی جیسا ’سچ‘ تھا۔ تبھی تو جب 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی ہوئی تو مودی جی نے ملک ہی نہیں بلکہ اپنی پارٹی کو بھی حیران کر دیا۔ وہ ملک جو تقریباً 3 دہائیوں سے مرکز میں ملی جلی حکومت کا عادی بن چکا تھا، اسی ملک نے بی جے پی کو تقریباً مکمل اکثریت دے دی۔ ملک مودی-مودی کے نعرے لگانے لگا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے سبھی کی مرادیں پوری ہو گئی ہوں۔ کیونکہ جو انتخابی نتیجے تھے اس کے بعد مودی کی راہ میں کوئی رخنہ ہی نہیں تھا۔ اب ان کو خالی میدان ملا تھا، بس وہ حلف لیں اور وعدے پورے کریں اور ملک کو محض چین سے کیا امریکہ سے بھی آگے لے جا کر ہندوستانی باشندوں کی خواہشات پوری کریں۔ برسراقتدار ہونے کے بعد بھی ہندوستانی باشندے مودی پریم میں ایسے ڈوبے رہے کہ 8 نومبر 2016 کی رات مودی نے جب نوٹ بندی کا اعلان کیا تو انھیں لگا کہ مودی جی کوئی نیا چمتکار کرنے جا رہے ہیں۔ تقریباً ہر ہندوستانی نے ان کے لفظوں پر بھروسہ کیا اور نوٹ بندی کی پریشانیوں کو برداشت کرنے کا عزم کر لیا۔ خود اپنے پیسوں کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑا رہنا قبول کر لیا۔ حد تو یہ ہے کہ 200 سے زائد ہندوستانی شہریوں نے بینکوں کے باہر لگی طویل قطاروں میں کھڑے کھڑے دنیائے فانی کو الوداع کہہ دیا۔ پھر بھی لوگوں کو بھروسہ تھا کہ مودی جی نوٹ بندی کے ذریعہ کالے دھن کو ختم کر دیں گے، ملک سے دہشت گردی کو مٹا دیں گے اور ملک کا ہر شخص ’کیش لیس‘ سسٹم سے جڑ جائے گا۔

لیکن اب ملک 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مودی حکومت کو تقریباً پانچ سال مکمل ہونے کو ہیں۔ ہندوستان اس وقت چین جیسا تو نہیں، ہاں کسی افریقی ملک سے ملتا جلتا زیادہ لگ رہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتہ کے اخبارات اٹھا لیجیے، آپ کو خود احساس ہو جائے گا کہ ملک کی حالت کس قدر خستہ ہے۔ گزشتہ ہفتہ ملک کی سرکردہ جانچ ایجنسی یعنی سی بی آئی کے اعلیٰ افسران کے درمیان تلواریں کھنچ گئی تھیں۔ آلوک ورما اور راکیش استھانہ آپس میں کتے-بلی کی طرح لڑ رہے تھے۔ بالآخر حکومت کو دونوں کو چھٹی پر بھیجنا پڑا۔ اب معاملہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے۔ اس اٹھا پٹخ میں سی بی آئی کی ساکھ کو دھکا لگا اور ملک کا ایک سرکردہ ادارہ بحران کا شکار ہو گیا۔ یہ کہانی ابھی پرانی بھی نہیں ہوئی تھی کہ وزارت مالیات اور ریزرو بینک کا جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا۔ وزیر مالیات ارون جیٹلی اور ریزرو بینک کے گورنر اُرجت پٹیل ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ یہ وہی اُرجت پٹیل ہیں جو کبھی مودی جی کی آنکھوں کے تارے تھے۔ رگھو رام راجن کی چھٹی کر حکومت نے ریزرو بینک کی چابی اُرجت پٹیل کے ہاتھوں میں دی تھی۔ اب جیٹلی جی کہتے ہیں کہ پٹیل صاحب درمیانے اور چھوٹے تاجروں کو قرض بانٹیے، تو پٹیل جی کہتے ہیں ٹھینگا۔ وزارت مالیات پوچھتا ہے کیوں؟ تو پٹیل جی کہتے ہیں کہ بینک قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، پیسے آئیں تو آئیں کہاں سے۔ اگر اب قرض تقسیم کیا تو معیشت تباہ ہو جائے گی۔ سچ یہ ہے کہ نوٹ بندی نے تو معیشت کو پہلے ہی تباہ کر دیا ہے۔ کاروبار کسی طرح رو دھو کر چل رہے ہیں۔ دیوالی قریب ہے، پھر بھی بازاروں کی رونق غائب ہے۔ ہر کاروبار مندی کا شکار ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، گزشتہ چار پانچ ہفتہ میں شیئر بازار میں شیئر کاروبار سے جڑے متوسط طبقہ کے لاکھوں کروڑ روپے ڈوب چکے ہیں۔

جی ہاں، سی بی آئی کی ساکھ گئی، ریزرو بینک آزادی کے ساتھ کام نہیں کر سکتا، معیشت تباہ ہو رہی ہے، سپریم کورٹ میں گزشتہ سال بڑا ہنگامہ ہو چکا ہے اور ملک کی عدالت عظمیٰ پر انگلیاں اٹھ چکی ہیں۔ ٹی وی پر سرکاری کنٹرول نے میڈیا کو ’گودی میڈیا‘ بنا دیا۔ پارلیمنٹ جس طرح چلتی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اپوزیشن نہیں، اب تو حکومت خود پارلیمنٹ کو ٹھپ کرنے کے بہانے ڈھونڈتی ہے۔ یعنی جمہوریت کے مندر پر بھی بادل چھائے ہیں۔ تو پھر بتایئے اب مودی جی کے مٹانے کو ملک میں بچا ہی کیا ہے؟

اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے باشندے بے وقوف ہیں؟ یعنی ملک کی جو خستہ حالی ہے کیا وہ عام آدمی کو نظر نہیں آ رہا۔ عام آدمی کو تو ملک کے ہر مسئلہ کا سامنا سب سے پہلے کرنا پڑتا ہے، تو پھر بھلا اس کو یہ سمجھ میں کیوں نہیں آئے گا کہ مودی حکومت پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ بھکت کتنا بھی مالا جپیں لیکن سچ تو یہی ہے کہ سال 2014 کا مودی اب تیزی سے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب ملک کے سامنے ایک ایسا مودی ہے جس نے دنیا بھر کے وعدے کر عام آدمی کو دھوکہ دیا اور اب وہی مودی جو ملک کو سدھارنا تو دور کی بات، سنبھال بھی نہیں پا رہا ہے۔ لیکن مودی جی تو 2024 تک وزیر اعظم عہدے سے نہ ہٹنے کی قسم کھا چکے ہیں۔ اب کیا کریں، 2019 کا انتخاب کیسے جیتا جائے! یہ مسئلہ صرف نریندر مودی جی کا نہیں بلکہ پوری سَنگھ فیملی کا ہے۔ کیونکہ مودی جی کو دوسری بار وزیر اعظم بننا ہے تو موہن بھاگوت جی کو ہندوستان کو ’ہندو راشٹر‘ بنانا ہے اور یہ کام 24-2019 کے بیچ ہی ہونا ہے۔ اس لیے 2019 کے خراب شبیہ والے مودی کی دوبارہ مارکیٹنگ کس طرح ہو!

ملک کی حالت تو یہ صاف بتاتی ہے کہ بی جے پی سیاسی جنگ ہار چکی ہے اور 2019 کی کامیابی اس کی گرفت سے تقریباً باہر ہے۔ اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے۔ سیاسی جنگ کو کسی طرح مذہبی جنگ میں بدل دیں تو شاید 2019 میں کشتی پار ہو جائے۔ یہی سبب ہے کہ اب پوری سَنگھ فیملی کو بھگوان رام کا ایودھیا مندر یاد آ رہا ہے۔ سَنگھ میں بھاگوت جی سے لے کر بی جے پی میں امت شاہ تک ہر کسی کی زبان سے یہی بات نکل رہی ہے کہ مذہب کا معاملہ عدالتوں میں حل نہیں ہو سکتا۔ روز بہ روز یہ آواز تیز اور تلخ ہوتی جا رہی ہے۔ اب واضح ہے کہ سَنگھ پریوار نے یہ طے کر لیا ہے کہ 2019 کے انتخابات مذہبی جنگ کی بنیاد پر ہوں گے۔ اس کام کے لیے مودی جی کو ’ہندو ہردے سمراٹ‘ کی شبیہ اختیار کرنی ہوگی۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے تک مودی جی مذہب کی سیاست میں ویسے ہی ڈوب جائیں گے جیسے وہ 2002 کے فسادات کے بعد گجرات میں ڈوبے تھے۔ ایسی حالت میں ملک کہاں جائے، اس کی فکر نہ 2014 میں تھی اور نہ ہی 2019 میں ہی ہوگی۔ نشانہ انتخاب جیتنا ہے، پہلے اس کے لیے خواب بیچے تھے اور اَبکی بار مذہب بیچیں گے۔

سب سے زیادہ مقبول