کیا ہندوستان میں جلد ہی کورونا کی تیسری لہر کی پیک ہوگی ؟

کورونا کے مریضوں کی تعداد مستقل بڑھ رہی ہے اور جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے اشارے مل رہے ہیں کہ تیسری لہر کی پیک جلد ہو سکتی ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ملک گیر پیمانہ پر کورونا کے نئے معاملوں میں زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے جس نے زبردست تشویش پیدا کر دی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2,67,345 نئے مریض سامنے آئے ہیں یعنی ہر نئے دن اس کے اعداد و شمار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جس شدت سے اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ آنے والے دن اچھے نہیں ہیں اور کورونا کی تیسری لہر کی پیک کچھ ہی دنوں میں دیکھنے کو مل سکتی ہے۔آ ج تک نیوز پورٹل پر شائع خبر کے مطابق دہلی کے جی ٹی بی اسپتال کے ڈاریکٹر ڈاکٹر سبھاش گری کا کہنا ہے کہ پازیٹیویٹی ریٹ سےلگاتار کورونا متاثرین کی تعداد بڑھے گی ۔انہوں نے کہا کہ جنوری کے آخری یا فروری کے پہلے ہفتہ میں اس لہر کی پیک ہو سکتی ہے اور مارچ تک یہ پیک گر جائے گی۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگو ں نے ٹیکہ نہیں لگوایا ہے یا ٹیکہ کی ایک بھی ڈوز نہیں لگوائی ہے تو ایسے لوگوں کے لئے یہ لہر بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔ پوری دنیا سے مل رہے اشاروں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کورونا کے نئے وائرس اومیکرون ان لوگوں کے لئے جان لیوا نہیں ہے جن لوگوں کے دونوں ٹیکے لگے ہوئے ہیں اور یہ ٹیکہ حفاظت کا کام کر رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔