کیا انتخابات کے بعد پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوگا؟ حکومت کی وضاحت
حکومت نے ان خبروں کو مسترد کیا ہے جن میں انتخابات کے بعد پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ وزارت کے مطابق ایسا کوئی فیصلہ زیر غور نہیں اور سپلائی معمول کے مطابق ہے

مرکزی حکومت نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ جاری اسمبلی انتخابات کے خاتمے کے فوراً بعد ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 25 سے 28 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی منصوبہ نہ تو زیر غور ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تجویز پیش کی گئی ہے۔
پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا ذکر کیا جا رہا ہے، جو مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ وزارت نے کہا کہ حکومت کے سامنے ایسا کوئی معاملہ زیر غور نہیں ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کی خبریں شہریوں میں غیر ضروری خوف اور بے چینی پیدا کرنے کے مقصد سے پھیلائی جاتی ہیں، جو نہ صرف گمراہ کن بلکہ شرارت پر مبنی بھی ہوتی ہیں۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف مستند ذرائع سے آنے والی معلومات پر ہی یقین کریں اور افواہوں سے دور رہیں۔
حکومت نے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے، نیز اس دوران عالمی سطح پر میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت اور سرکاری تیل کمپنیوں نے شہریوں کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے ہیں۔
اس سے قبل روزانہ کی پریس بریفنگ میں بھی وزارت نے بتایا تھا کہ ملک بھر میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کی سپلائی پوری طرح معمول کے مطابق جاری ہے۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ جلدبازی میں ایندھن یا گیس کی غیر ضروری خریداری نہ کریں کیونکہ اس سے مصنوعی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
حکومت کے مطابق گھریلو گیس، پائپ کے ذریعے فراہم کی جانے والی گیس اور کمپریسڈ قدرتی گیس کی سو فیصد سپلائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر پانچ کلو والے چھوٹے گیس سلنڈروں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو مہاجر مزدوروں کے لیے بڑی سہولت ثابت ہو رہے ہیں۔ 23 مارچ 2026 کے بعد سے اب تک ایسے 20 لاکھ سے زائد سلنڈر فروخت ہو چکے ہیں، جبکہ ان کی فراہمی کو دوگنا کر دیا گیا ہے تاکہ ضرورت مند افراد کو آسانی سے رسائی مل سکے۔
اسی کے ساتھ پائپ کے ذریعے گیس کی فراہمی کے منصوبے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ مارچ 2026 کے بعد لاکھوں نئے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں اور مزید کنکشن کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے۔ حکومت نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر صارفین کو اس نظام کو اختیار کرنے کی ترغیب دے رہی ہے اور مختلف رعایتی پیشکشیں بھی دی جا رہی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔