کیا کورونا وائرس ختم کر پائے گا ’شاہین باغ مظاہرہ‘؟ سپریم کورٹ میں عرضی داخل

کچھ سوشل میڈیا یوزر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر شاہین باغ کی خاتون مظاہرین کو چاہیے کہ وہ اپنا دھرنا کچھ دنوں کے لیے روک دیں اور وائرس کا اثر ختم ہونے کے بعد نئی طاقت کے ساتھ واپسی کریں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خواتین کا مظاہرہ پچھلے تین مہینے سے جاری ہے اور آج اس کے تین ماہ مکمل بھی ہو گئے۔ 16 دسمبر سے جاری اس مظاہرے کو ختم کرنے کے لیے کئی کوششیں ہوئیں اور کچھ عرضیوں پر تو سپریم کورٹ میں سماعت بھی چل رہی ہے۔ لیکن اس وقت پوری دنیا میں قہر بن کر پھیل رہے کورونا وائرس کی وجہ سے ہندوستان بھی پریشان ہے اور اس کا اثر شاہین باغ مظاہرہ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ قابل ذکر یہ ہے کہ اس وائرس کی وجہ سے شاہین باغ مظاہرہ ختم کرنے کی ایک عرضی سپریم کورٹ میں داخل بھی کر دی گئی ہے۔

عرضی گزار نے کورونا وائرس کی وجہ سے احتیاطی اقدام کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے شاہین باغ میں جمع خواتین کو ان کے گھر بھیجنے اور مظاہرہ ختم کیے جانے کی اپیل عدالت عظمیٰ سے کی ہے۔ ساتھ ہی عرضی گزار نے یہ بھی اپیل کی ہے کہ شاہین باغ کے دھرنا و مظاہرہ کے ساتھ ساتھ اس طرح دیگر ریاستوں میں ہو رہے دھرنے و مظاہرے کو ختم کرنے کا بھی حکم صادر کیا جائے تاکہ کورونا وائرس کو بہت زیادہ پھیلنے سے بچایا جا سکے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق یہ عرضی بی جے پی کے سابق ایم ایل اور شاہین باغ معاملہ میں اہم عرضی گزار نند کشرو گرگ نے داخل کی ہے۔ انھوں نے اپنی عرضی میں واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’’کورونا وائرس لوگوں کے رابطے میں آنے سے پھیلتا ہے اور جب سپریم کورٹ سے لے کر سبھی عدالتوں میں کورونا وائرس کے وبا سے بچنے کی کوشش ہو رہی ہے، اور اسکول، کالج، مال و سنیما گھر وغیرہ بند کر دیے گئے ہیں، تو ایسے میں دھرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی۔‘‘

اس عرضی کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ جس شاہین باغ مظاہرہ کو ختم کرنے کی لاکھوں کوششیں اب تک ناکام ہو گئیں، کیا اس مظاہرہ کو کورونا وائرس ختم کر دے گا؟ یہاں قابل ذکر ہے کہ دہلی حکومت نے بھی اس طرح کا حکم صادر کیا ہے کہ کسی بھی جگہ پر 50 سے زیادہ لوگوں کے ایک ساتھ جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ دہلی حکومت نے جِم، نائٹ کلب اور ہفتہ واری بازار تک پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو شاہین باغ مظاہرہ اثرانداز ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ شاہین باغ میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں خواتین بیٹھی ہوئی نظر آتی ہیں اور شام ہوتے ہوتے خواتین و مردوں کی تعداد کبھی کبھی ہزاروں میں پہنچ جاتی ہے۔

کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ’شاہین باغ کا مظاہرہ ختم کیا جائے یا نہیں؟‘ اس موضوع پر بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کچھ سوشل میڈیا یوزر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرے کو دیکھتے ہوئے شاہین باغ کی خاتون مظاہرین کو چاہیے کہ وہ اپنا دھرنا و مظاہرہ کچھ دنوں کے لیے روک دیں، اور جب اس وائرس کا اثر ختم ہو جائے تو پھر ایک نئی طاقت کے ساتھ شہریت ترمیمی قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف آواز اٹھائیں۔

next