’کیا کسی افسر کو دلت ہونے کی سزا دی جائے گی؟‘، آئی اے ایس افسر رنکو سنگھ راہی کے استعفیٰ پر کانگریس کا سخت ردعمل

راجندر گوتم نے کہا کہ ’’آج بھی جب کوئی دلت نوجوان محنت کر کے آئی اے ایس افسر بنتا ہے، تو اسے ہراساں کیا جاتا ہے۔ حالات ایسے بنتے ہیں کہ وہ افسر اپنی نوکری سے استعفیٰ دینے کو مجبور ہو جاتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راجندر گوتم (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ملک میں دلتوں کے ساتھ ہو رہے امتیازی سلوک کے حوالے سے کانگریس نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ایس سی ڈپارٹمنٹ کے قومی صدر راجندر پال گوتم نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں اس حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ’’آج ہی کے دن 2 اپریل 2018 کو، جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ’شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائب (پریوینشن آف ایٹراسٹی) ایکٹ 1989‘ کو کمزور کرنے کی بات آئی تھی۔ ایسے میں ملک کے نوجوانوں نے آئینی طریقے سے ایک بڑا احتجاج کیا، جس میں پولیس اور نسل پرست غنڈوں کی گولیوں سے 14 بہوجن نوجوانوں کی جانیں چلی گئیں۔ ایک طرف یونیورسٹیوں میں دلت طلبہ کے ساتھ ناانصافی اور امتیازی سلوک ہوتا ہے، تو دوسری طرف اتنی جدوجہد کے بعد بچوں کو ملازمتوں میں آنے سے روکا جاتا ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے آئی اے ایس افسر رنکو سنگھ کے استعفیٰ کے حوالے سے کہا کہ ’’آج بھی جب کوئی دلت نوجوان محنت کر کے آئی اے ایس یا پی سی ایس افسر بنتا ہے، تو اسے ہراساں کیا جاتا ہے۔ حالات ایسے بنتے ہیں کہ وہ افسر اپنی نوکری سے استعفیٰ دینے کو مجبور ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک افسر رنکو سنگھ راہی ہیں۔ رنکو سنگھ راہی جب پی سی ایس افسر تھے، تب انہوں نے ایک ایسے گھوٹالے کو بے نقاب کیا جس میں کروڑوں روپے کی چوری کی گئی تھی۔ اس وقت ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور انہیں گولیاں ماری گئیں۔ اس حملے کے نتیجے میں وہ اپنے ایک جبڑے اور ایک آنکھ سے محروم ہو گئے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ملک کی خدمت کا جذبہ دیکھیے کہ رنکو سنگھ ٹھیک ہو کر واپس لوٹے اور آئی اے ایس افسر بنے، لیکن انہیں ان کی ایمانداری کی سزا ملتی رہی اور مسلسل تبادلے ہوتے رہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ گزشتہ 8 ماہ سے انہیں کوئی کام ہی نہیں دیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی بھی اہم عہدہ سونپا جا رہا ہے۔ ایسے میں رنکو نے تنخواہ لینے سے انکار کر دیا اور ٹیکنیکل طور پر استعفیٰ دے دیا۔‘‘


راجندر گوتم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’آئی اے ایس رنکو سنگھ راہی کو 8 ماہ سے کوئی کام نہیں دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی افسر بدعنوانی کا پردہ فاش کرتا ہے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں ایسے ایماندار افسران کی ضرورت نہیں؟ کیا کسی افسر کو دلت ہونے کی سزا دی جائے گی؟‘‘

پریس کانفرنس کے دوران راجند گوتم نے کہا کہ ’’میں ملک کی صدر جمہوریہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آئی اے ایس رنکو سنگھ راہی  کا ٹیکنیکل استعفیٰ قبول نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی یوپی حکومت کو یہ ہدایت دی جائے کہ آئی اے ایس رنکو کو کام دیا جائے۔ ساتھ ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی  سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جن بچوں نے ’شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب (انسداد مظالم) ایکٹ، 1989‘ کو کمزور کرنے کے خلاف تحریک چلائی تھی، ان کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔ وہ بچے کوئی مجرم نہیں ہیں، ان لوگوں نے آئینی طریقے سے احتجاج کیا تھا، لیکن وہ آج بھی عدالت کے چکر کاٹ رہے ہیں۔‘‘ 

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔