ٹرمپ کو کشمیر پر ثالثی میں اتنی دلچسپی آخر کیوں؟

فرانس میں ہونے والے جی-7 کے سربراہی اجلاس میں امریکی صدر اور پی ایم مودی کی متوقع ملاقات سے پہلے وہائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے کہا کہ ’’امریکہ وادیٔ کشمیر کے حالات پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔‘‘

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا

قومی آواز تجزیہ

کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان سے زیادہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ فکر مند نظر آ رہے ہیں۔ پیر کے روز فرانس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ملاقات متوقع ہے لیکن اس سے پہلے ٹرمپ نے کشمیر کے مدے پر ایک مرتبہ پھر بیان دیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے ایک افسر کے مطابق امریکی صدر کشمیر مدے پر پاکستان اور ہندوستان کی مدد کے لئے تیار ہیں لیکن وہ ایسا اسی وقت کریں گے جب دونوں فریق اس کے لئے ان سے کہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر وادی کے حالات اور اس کے وسیع اثرات کو لے کر کافی فکر مند ہیں۔

فرانس میں ہونے والے جی-7 کے سربراہی اجلاس میں امریکی صدر اور وزیر اعظم نریندر مودی کی متوقع ملاقات سے پہلے وہائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے کہا ہے کہ ’’امریکہ وادیٔ کشمیر کے حالات پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہم (امریکہ) لگاتار امن اور صبر سے کام لینے کے لئے کہہ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم کشمیر کے حالات کی وجہ سے پڑنے والے وسیع اثرات اور علاقہ میں ممکنہ عدم استحکام کے خدشات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ صدر اس کو لے کر بہت سنجیدہ ہیں ۔‘‘

امریکی افسر نے مزید کہا کہ ’’انہوں نے (ٹرمپ نے) اشارہ دیا ہے کہ وہ دونوں فریق میں تناؤ کم کرنے کے لئے مدد کرنے کو تیار ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان نے رسمی طور پر ثالثی کے لئے درخواست نہیں کی ہے۔‘‘ انہوں آگے یہ بھی کہا کہ ’’ صدر ٹرمپ فرانس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں جاننا چاہیں گے کہ کشیدگی کم کرنے اور انسانی حقوق کے احترام کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر ہندوستان کا کیا منصوبہ ہے‘‘۔

ٹرمپ نے منگل کو دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی تھی لیکن ہندوستان نے واضح کر دیا تھا کہ ہندوستان کو کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ ڈونالڈ ٹرمپ اس طرح کی پیش کش کر چکے ہیں۔ جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے دورے پر گئے تھے تو اس وقت بھی انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی جاپان میں ان سےکشمیر پر ثالثی کے لئے کہا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک مرتبہ پھر ثالثی کی بات دہرائی تھی۔ کشمیر معاملہ میں امریکی صدر کی دلچسپی کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان کے بار بار ’نہ‘ کہنے کے با وجود ثالثی کی بات دہرا رہے ہیں۔ ویسے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سلسلے میں ٹرمپ سے فون پر بات ضرور کی ہے۔

Published: 23 Aug 2019, 7:10 PM