دہلی پولس نے دھرنا کیوں دیا؟ کمشنر کو قانونی نوٹس بھیج کر وکیل نے پوچھا سوال

سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے نوٹس کے ذریعے وکیل نے کمشنر سے کہا ہے کہ سڑک پر میڈیا کی موجودگی میں، حولدار، اور سپاہیوں کے دھرنے سے معاشرے میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو سراسر غیر قانونی ہے

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایک وکیل نے دہلی پولس کمشنر کو قانونی نوٹس بھیج کر یہ پوچھا ہے کہ آخر پولس اہلکار نے اپنے ہی محکمہ کے صدر دفتر پر دھرنا کیوں دیا! نوٹس کے ذریعے وکیل کا کہنا ہے کہ پولس اہلکار نے 5 نومبر بروز منگل دہلی پولس ہیڈ کوارٹر پر جو دھرنا دیا وہ غیر قانونی تھا۔

خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، دہلی کے کمشنر کو قانونی نوٹس موصول ہوا ہے یا نہیں اس کی تصدیق فی الحال نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، وکیل کا یہ قانونی نوٹس سوشل میڈیا میں ضرور وائرل ہو رہا ہے۔ نوٹس کے ذریعے وکیل نے پولس کمشنر سے کہا ہے کہ سڑک پر میڈیا کی موجودگی میں، حولدار، اور سپاہیوں کے اس دھرنے سے وکلاء اور معاشرے میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جو سراسر غیر قانونی ہے۔


پولس ہیڈ کوارٹرز کے باہر دھرنے سے پریشان حال وکیل نے پولس کمشنر سے تمام قانونی دفعات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں صحیح اور غلط کی ترغیب دی ہے۔ نوٹس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ عوامی مقام پر فورس اپنے مطالبات کے لئے کوئی مطالبہ، مظاہرہ نہیں کر سکتی۔ لہذا، منگل کے روز کیے جانے والے دھرنے کو غیر قانونی کہا جائے گا۔

وکیل نے نوٹس کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاجی مظاہرے میں شامل پولس والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے دھرنے میں شامل پولس والوں کو فوری سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ کمشنر آف پولس کو مخاطب کر کے لکھے گئے اس قانونی نوٹس میں ہفتہ کے روز تیس ہزاری عدالت میں پولس اور وکلاء کے مابین ہونے والی اس جھڑپ کا کوئی ذکر نہیں ہے، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہے۔ بھیجے گئے نوٹس کے آخر میں ورون کمار ٹھاکر کا نام اور دستخط موجود ہیں، تاہم اس کی موزونیت کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 06 Nov 2019, 3:11 PM