قومی

کیا مظفرنگر اور بلندشہر میں ہونے والے فسادات کی وجہ مسلمانوں سے حسد ہے؟

مسلمان غیر زرعی شعبوں سے زیادہ جڑے تھے لہذا اقتصادی اصلاحات کا فائدہ انہیں زیادہ ملا۔ لیکن اس کے بعد انہیں حسد کی نظر سے دیکھا جانے لگا اور اسی کا سیاسی پارٹیوں نے فائدہ اٹھایا۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے بلند شہر میں جو واقعات پیش آئے ہیں وہ منصوبہ بند تھے۔ راجستھان انتخابات سے عین قبل تشدد بھڑکائے گئے، ابتدائی جانچ کے مطابق معاملہ کو دوسرا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

’دی کوئنٹ ‘ ہندی پر مینک مشرا کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں وہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر اترپردیش کے لوگ بھڑکانے میں کیوں آ جاتے ہیں اور وہ بھی چناؤ کے نزدیک ہونے پر؟۔

حال ہی میں اتر پردش کا مظفرنگر فسادات سے دوچار ہوا اور اس کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک کھائی پیدا ہوئی۔ مظفرنگ فساد اگست-ستمبر 2013 میں ہوئے تھے اس کے بعد لوک سبھا چناؤ سے پہلے تک مغربی اترپردیش میں کئی جھڑپیں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق 2013 میں ملک بھر میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں 18 فیصد کا اضافہ ہوا جس میں 30 فیصد اکیلے اتر پردیش میں پیش آئے۔

کیا اس کی وجہ اتر پردیش میں مسلمانوں کی خاطر خواہ تعداد ہے جسے سیاسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا؟ جہاں محض 30 فیصد ووٹ حاصل کرنے پر ہار جیت کا فیصلہ ہو جائے وہاں کچھ فیصد ووٹ حاصل کرنے کے لئے فرقہ پرستی اہم ہتھیار ہو سکتی ہے۔ اس لئے چناؤ سے پہلے ہمیشہ یہاں فساد بھڑکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن یو پی کے عوام اس سیاسی کھیل میں آخر پھنس کیوں جاتے ہیں؟ کیا اس کی وجہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے دلوں میں فاصلہ کا بڑھنا ہے؟۔

معروف سیاسی تجزیہ کار اے کے ورما نے 2012 کے مقامی بلدیاتی انتخابات کا تجزیہ کچھ یوں کیا تھا، ’’اتر پردیش میں جون-جولائی 2012 میں شہری بلدیاتی انتخابات میں مسلمانوں کی حیران کن واپسی کے اشارے ملتے ہیں۔ اور2007 میں یو پی اسمبلی میں 13.8 فیصد (403 میں سے 56 ارکان اسمبلی) مسلم طبقہ سے آئے تھے۔ پھر 2012 میں ان کی تعداد 17.12 فیصد (403 میں سے 69 ) ہو گئی۔ 2004 کے پارلیمانی انتخابات میں یو پی سے 13.74 فیصد (80 میں سے 11 سیٹیں) مسلم امیدوار منتخب ہوئے لیکن 2009 میں ان کی تعداد محض 8.756 فیصد (80 میں سے 7) رہ گئی۔ اتر پردیش میں 18.5 فیصد مسلمان ہیں اور لوک سبھا چناؤ میں ان کی نمائندگی آبادی کے تناسب سے کم رہی ہے۔ حالانکہ حال ہی میں ہوئے شہری بلدیاتی انتخابات میں یہ نمائندگی 31.5 فیصد ہو گئی تھی۔‘‘

اسمبلی انتخابات (2017 سے پہلے والے) اور بلدیاتی انتخابات میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ شاید ان کی معاشی طاقت بڑھنے کی نشانی ہے۔ حالانکہ یو پی کا ڈیٹا تو دستیاب نہیں ہے لیکن ملک بھر کے اعداد و شمار سے یہی اشارے ملتے ہیں۔

مسلم متوسط طبقہ کی مضبوطی میں اضافہ

نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن (این ایس ایس او) ڈیٹا کی بنیاد پر ماہر سماجیات سندھیا کرشنن اور نیرج ہٹے کر نے مختلف طبقات کے حساب سے 1999-2000 سے 2011-12 کے درمیان نئے متوسط طبقہ کا حساب لگایا ہے۔ جو لوگ روزانہ 130 سے 650 روپے خرچ کرتے ہیں انہیں تحقیق میں نئے متوسط طبقہ کا حصہ مانا گیا ہے۔ این ایس ایس او ڈیٹا کے مطابق 1999-2000 سے 2011-12 کے درمیان مسلم متوسط طبقہ میں 86 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ اس دوران نئے متوسط ہندو طبقہ کی تعداد محض 76 فیصد بڑھی۔ حالانکہ ہندو با رسوخ ذاتوں (غیر او بی سی، غیر ایس سی اور ایس ٹی) کے 45 فیصد لوگ ہی نئے متوسط طبقہ میں شامل ہو سکتے۔

مینک مشرا لکھتے ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی حیثیت کے حوالہ سے سچر کمیٹی کی رپورٹ میں ان سوالوں کے جواب ملتے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلم زرعی شعبوں میں دیگر طبقات کے بہ نسبت بہت کم جڑے ہوئے ہیں اور تخلیق کاری اور تجارت کے شعبہ میں ان کی شراکت داری (بالخصوص مردوں) دوسرے مذہبی طبقات سے کہیں زیادہ ہے۔ تعمیراتی کاموں میں بھی مسلمانوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تعمیرات کے علاوہ ہول سیل اور ریٹیل کاروبار، سامان لانے لے جانے، آٹو رپیئر، تمباکو مصنوعات کی تخلیق، ٹیکسٹائل اور اپیرل و فیبریکیٹڈ میٹل پروڈکٹس کاروبار سے کافی مسلمان جڑے ہوئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اعتدال پسندی کی شروعات کے بعد زرعی شعبہ کی ترقی محدود رہی لیکن تخلیق کاری اور خدمات (بالخصوص تجارت) میں تیزی آئی ہے۔ چونکہ روایتی طور پر مسلمان غیر زرعی علاقوں سے وابستہ رہے ہیں اس لئے اقتصادی اصلاحات کا فائدہ انہیں دوسرے طبقات کے مقابلہ میں زیادہ حاصل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ متوسط طبقہ میں دیگر طبقات کے مقابلہ مسلمانوں کی زیادہ تعداد شامل ہوئی۔

کیا دلوں کے فاصلہ اور فرقہ ورانہ ٹکراؤ کی وجہ مسلمانوں سے حسد ہے؟

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی خوش حالی کے بعد انہیں شبہ کی نظر سے دیکھا جانے لگا اور کئی مرتبہ یہی ان کے خلاف نفرت میں تبدیل ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جن علاقوں میں دلوں میں دوریاں پیدا ہوئی ہیں وہاں مسلمانوں کے تئیں توہین آمیز باتیں آپ کو سننے کو مل جائیں گی۔ مینک مشرا کے مطابق ’’کچھ سال پہلے مغربی اتر پردیش کے میرٹھ میں مجھ سے ایک ہندو کاروباری نے کہا تھا، ان کی کیا اوقات تھی؟ لیکن اب ان کے بچے اچھی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر مال جاتے نظر آ جاتے ہیں اور ہماری لڑکیوں سے آنکھ لڑاتے ہیں۔‘‘

ملک کے کئی علاقوں میں آپ کو مسلمانوں کے تئیں ایسی زبان سننے کو مل جائے گی۔ یو پی کے کچھ علاقوں میں مسلمانوں کے تئیں اس طرح کی تلخی صاف نظر آتی ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے چند لوگ ایسے ہیں جو موقع پرست ہیں اور اس صورت حال کو بھنانے کو بے تاب رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی طبقہ چناؤ سے قبل فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے میں کامیاب رہتا ہے۔ سخت مقابلہ والے اتر پردیش میں سیاسی پارٹیوں کے لئے تقسیم کاری سے کچھ فیصد ووٹ سوئنگ منافع کا سودا ہے۔ اس لئے سب سے زیادہ آبادی والی اس ریاست میں بار بار مظفرنگر اور بلند شہر دہرائے جاتے ہیں۔