پلوامہ حملے کی ذمہ داری کسی نے کیوں نہیں لی: بگھیل

بھوپیش نے کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سے کپڑے بدلنے کے نام پر استعفی کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن پلوامہ حملے کے بعد اب تک کسی نے بھی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفی کیوں نہیں دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بھوپال: چھتیس گڑھ کے وزیراعلی بھوپیش بھگیل نے مرکزی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سے کپڑے بدلنے کے نام پر استعفی کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن پلوامہ حملے کے بعد اب تک کسی نے بھی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفی کیوں نہیں دیا۔

بگھیل نے ریاستی کانگریس دفتر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ جموں سے لے کر پلوامہ تک کی سڑک پوری طرح محفوظ ہے۔ وہاں دہشت گرد گھس آئے۔ دہشت گردوں کو کیسے معلوم ہوا کہ سلامتی فورس کی گاڑی بلٹ پروف نہیں ہے اور انہوں نے اسی میں دھماکہ کیا۔ اس پورے معاملے کی جانچ کیوں نہیں ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کے بعد سوٹ بدلنے کے نام پر اس وقت کے وزیرداخلہ سے استعفی کا مطالبہ کیا گیا لیکن پلوامہ حملے کے بعد کسی نے بھی ذمہ داری لیتے ہوئے استعفی کیوں نہیں دیا۔ بگھیل نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ہی حکومت میں مسعود اظہر کو پاکستان بحفاظت پہنچایا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ کے وزیراعلی بگھیل یہاں پارٹی امیدوار اور سابق وزیراعلی دگ وجے سنگھ کے انتخابی مہم کے سلسلے میں آئے ہیں۔

بی جے پی کارکنان مودی کے نام پر اور مودی فوج کے نام ووٹ مانگ رہے ہیں، بھوپیش بگھیل

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بکھیل نے کہا کہ یہ المیہ یہ ہے کہ بی جے پی کارکنان اپنے امیدواروں کے لئے وزیر اعظم مودی کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں اور مودی فوج کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے اور وہ نام نہاد قوم پرستی کے نام پر الیکشن لڑ رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

بھوپیش بگھیل نے کہا، ’’فوج کے افسران کا کہنا ہے کہ ان کے نام پر ووٹ نہ مانگے جائیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس مقصد سے مسلح افواج کا استعمال نہیں ہونا چاہئے لیکن بی جے پی رہنما لگاتار مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی کے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور وہ نام نہاد قوم پرستی کے نام پر چناؤ لڑ رہے ہیں۔‘‘