ہندوستان میں ’انسانی غلاظت‘ ہاتھوں سے صاف کرنے کا ’غیر انسانی‘ چلن برقرار کیوں ہے؟

انسانی غلاظت ہاتھوں سے صاف کرنے پر 2013 سے ہی قانوناً پابندی عائد ہے، تاہم بڑی تعداد میں لوگ اب بھی یہ ’غیرانسانی‘ کام کر رہے ہیں۔ اس کام میں 97 فیصد افراد 'نچلی ذات کے سمجھے جانے والے' دلت ہیں

علامتی تصویر / ڈی ڈبلیو
علامتی تصویر / ڈی ڈبلیو
user

ڈی. ڈبلیو

نئی دہلی: وزارت برائے سماجی انصاف نے پارلیمان کو بتایا کہ گوکہ ملک میں انسانی فضلہ ہاتھوں سے صاف کرنے کا کام غیر قانونی ہے تاہم تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 58 ہزار افراد یہ کام کر رہے ہیں اور اس میں 97 فیصد افراد 'نچلی ذات کے سمجھے جانے والے' دلت ہندو ہیں۔

اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان منوج جھا نے سماجی انصاف کی وزارت سے سوال پوچھا تھا کہ انسانی فضلہ ہاتھوں سے صاف کرنے والے افراد کی ذات پر مبنی تعداد کیا ہے؟ اس روایت کو پوری طرح ختم کرنے کے لیے حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں؟ اور ان کی بہبود کے لیے کیا منصوبے بنائے گئے ہیں؟

مودی حکومت نے اس سوال کے جواب میں پارلیمان کو بتایا کہ سن 2013 کے ایک قانون کے تحت انسانی فضلہ ہاتھوں سے اٹھانا قانوناً ممنوع ہے اس کے باوجود وزارت برائے سماجی انصاف کی طرف سے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق ملک میں اب بھی 58 ہزار 98 افراد یہ کام کر رہے ہیں۔

ہاتھوں سے انسانی فضلہ اٹھانے والوں میں 97 فیصد دلت

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ ہاتھوں سے انسانی فضلہ اٹھانے والوں کی ذات کی بنیاد پر شناخت کا کوئی قانون نہیں ہے تاہم قانون کے بعض التزامات کے تحت ان کی شناخت کے لیے سروے کرائے گئے۔

جن 58 ہزار سے زائد افراد کی ہاتھوں سے انسانی فضلہ اٹھانے والوں کے طورپر شناخت ہوئی ہے ان میں سے صرف 43 ہزار 797 افراد کی ذات کی بنیاد پر اعداد و شمار دستیاب ہے۔ ان میں 42 ہزار 594 یعنی 97 فیصد سے بھی زیادہ دلت ہیں۔ 421 افراد قبائلی ہیں، 431 کا تعلق دیگر پسماندہ طبقات سے ہے جب کہ 351 دیگر ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔


ہاتھوں سے انسانی فضلہ اٹھانے والے افراد کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ایک عرصے سے یہ کہتی رہی ہیں کہ یہ کام 'نچلی ذات کے سمجھے جانے والے' دلت ہندووں سے ہی کرایا جاتاہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

مودی حکومت نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ انسانی فضلہ ہاتھوں سے اٹھانے والوں کے لیے آمدنی کے متبادل فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت ایک خاندان کے ایک فرد کو چالیس ہزار روپے کی ایک بار امدادی رقم دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ایسے افراد کو دو سال کی ووکیشنل ٹریننگ بھی دی جا رہی ہے۔ اس دوران ہر ماہ تین ہزار روپے کا وظیفہ دیا جاتا ہے۔ تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف 18 ہزار لوگوں کو ہی تربیت دی گئی ہے۔ حکومت ایسے افراد کو خود روزگار اسکیم کے تحت پانچ لاکھ روپے تک کا قرض دیتی ہے۔ حکومت کے مطابق اب تک صرف 1562 لوگوں کو قرض دیا گيا ہے۔


غیر سرکاری تنظیموں کا دعویٰ

گوکہ حکومت نے ملک میں ہاتھوں سے انسانی فضلہ اٹھانے والوں کی تعداد صرف 58 ہزار کے قریب بتائی ہے تاہم غیر سرکاری تنظیم ’صفائی کرمچاری آندولن‘ کا کہنا ہے کہ بھارت میں اب بھی 26 لاکھ' ڈرائی لیٹرین' ہیں جن کی صفائی کوئی نہ کوئی شخص کرتا ہی ہے۔ اس کے علاوہ 36 ہزار سے زائد افراد ریلوے اسٹیشن پر ریلوے کی پٹریوں پر گرنے والے انسانی فضلات صاف کرتے ہیں۔

اس تنظیم کا کہنا ہے کہ 7.7 لاکھ لوگ سیوروں کی صفائی کا کام ہاتھوں سے کرتے ہیں۔ نالوں میں زہریلی گیسوں کی وجہ سے صفائی ملازمین کی موت کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں۔ ’صفائی کرمچاری آندولن‘ کے مطابق اب تک ایسی 1760 اموات ہو چکی ہیں۔ حالانکہ حکومت صرف 941 لوگوں کی ہلاکت کو تسلیم کرتی ہے۔

انسانی غلاظت نہ اٹھانے پر زیادتی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سن 2019 کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ قانون کے نفاذ کے فقدان اور کمزور قانونی تحفظ نیز صفائی مزدوروں کی خراب مالی حالت کی وجہ سے بھارت میں ہاتھوں سے غلاظت کی صفائی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ورلڈ بینک، ڈبلیو ایچ او، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن(آئی ایل او) اور واٹر ایڈ کی طرف سے مشترکہ طورپر کرائی گئی ایک تحقیق کے مطابق صفائی کرنے والے ان مزدوروں کو بہت معمولی اجرت ملتی ہے اور وہ بھی مستقل نہیں۔ تحقیقات میں پایا گیا کہ کئی مرتبہ تو ان مزدوروں کو پیسے بھی نہیں دیے گئے اور اس کے بدلے میں انہیں بچا کھچا کھانا یا دیگر خوردنی اشیاء لینے پر مجبور کیا گیا۔


حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق جولوگ غلاظت اٹھانے کا کام کرنے سے منع کرتے ہیں انہیں اعلیٰ ذات کے لوگوں کی طرف سے دھمکی اور زیادتی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اتر پردیش میں ایک مزدور نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’کوئی بھی اپنی مرضی سے یہ کام کرنا پسند نہیں کرتا ہے۔ ہم اس پیشے میں پھنس گئے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بہتر زندگی گزاریں۔ اس سماجی لعنت کی وجہ سے ہمیں اور ہمارے خاندان کو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔