گجرات میں طلبا کا صرف اقلیتی ہونا کافی نہیں، بتانا ہوگا مسلمان ہیں یا نہیں

گجرات بورڈ امتحانات کے فارم میں اقلیتی طلبا سے پوچھا گیا ہے، آیا وہ مسلمان ہیں یا نہیں، بقیہ طلبا کو دیگر کا آپشن سلیکٹ کرنا ہے۔ اسے لے کر جہاں طلبا میں خوف ہے وہیں اپوزیشن نے حکومت کو گھیرا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گجرات میں 7 اقلیتی طبقات رہتے ہیں، اس کے باوجود بورڈ امتحانات کے فارم میں مذہب والے کالم کو صرف دو حصوں میں باٹا گیا ہے، مسلم اور دیگر۔ ’احمد آباد مرر‘ نے اس پر رپورٹ شائع کی ہے۔

اسے لے کر طلبا اور والدین کے دلوں میں کئی طرح کے خدشات ہیں۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ فارم کو 2013 سے بدلا نہیں گیا ہے۔ وہیں سماجی کارکنان سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر اس طرح کا ڈیٹا جمع کرنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے۔ اسے لے کر کچھ طلبا ناراض ہیں تو کچھ میں خوف بھی پایا جا رہا ہے وہیں اپوزیشن نے اسے لے کر حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔

بڑا سوال یہ ہے کہ گجرات حکومت بورڈ امتحانات میں بیٹھنے جا رہے طلبا سے ان کا مذہب کیوں پوچھ رہی ہے۔ 10ویں اور 12ویں کلاس میں بورڈ امتحان دینے جا رہے طلبا کو فارم میں اقلیتی طبقہ کا انتخاب کرنے کے بعد دو متبادل ملتے ہیں۔ اقلیتی ہاں کرنے پر آن لائن فارم میں دو ہی متبادل آتے ہیں، ایک مسلم اور دوسرا دیگر۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گجرات میں کئی اقلیتی طبقات رہتے ہیں جن میں سکھ، عیسائی، جین اور بودھ شامل ہیں۔ فارم میں صرف یہ پوچھا گیا ہے اسٹوڈنٹ مسلم ہے یا نہیں۔ گجرات میں اسٹیٹ بورٹ ایگزام گجرات سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ (جی ایس ایچ ایس ای بی) کراتا ہے۔

عموماً بورڈ کا فارم اسکول انتظامیہ پُر کرتی ہے۔ 12 ویں کلاس کے ایک طالب علم کے والد نے خود فارم بھرنا چاہا تو اس پر غور کیا۔ نام شائع نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے میڈیا کو بتایا، ’’میں اپنے بیٹے کا فارم پُر کروانے ہی اسکول گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ فارم میں مسلم یا دیگر پوچھا گیا ہے۔ مجھے اس کی ضرورت سمجھ نہیں آئی اور میں خوف زدہ ہوں کیوں کہ اس ڈیٹا کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

’گجرات فساد سے قبل جمع کیا گیا تھا ڈیٹا‘

ایک دیگر طالب علم کے والد ریستراں چلاتے ہیں، انہوں نے کہا، ’’میں ڈرا ہوا ہوں۔ 2002 سے قبل گجرات حکومت نے پولس کے ذریعہ اسی طرح سے مسلم کاروباریوں اور ان کی دکانوں کی شانخت کرائی تھی۔ میرا ریستراں بھی شناخت کے بعد جلا دیا گیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ فسادیوں نے اسی ڈیٹا کا استعمال کیا تھا جو پولس اور مردم شماری کرنے والوں نے جمع کیا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنے بیٹے کے لئے ڈرا ہوا ہوں، حکومت کیوں جاننا چاہتی ہے کہ اسٹوڈنٹ مسلم ہے یا نہیں؟‘‘

اسکول انتظامیہ کا بھی خیال ہے کہ اس طرح ڈیٹا جمع کرنے کا غلط پیغام گیا ہے اور طلبا بھی اس کو لے کر غیر آرام دہ صورت حال میں ہیں۔ احمد آباد کے جمال پور اور دانی لمڈا علاقہ کے دو اسکولوں کے پرنسپل کہہ چکے ہیں کہ یہ چونکانے والا ہے اور حکومت کو ایسے کسی بھی قدم کو اٹھانے سے گریز کرنا چاہئے، خاص طور پر اس وقت جب پہلے ہی حکومت پر مسلم مخالف ہونے کے الزامات لگتے رہے ہوں۔

وڈگام کے رکن اسمبلی جگنیش میوانی نے اسے غیر آئینی قرار دیا ہے۔ پاٹیدار رہنما ہاردک پٹیل نے بھی اسے لے کر بی جے پی حکومت پر نشانہ لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اتحاد اور قومیت کی باتیں کرتی ہے اور دوسری جانب تقسیم کاری کی پالیسی اختیار کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Nov 2018, 9:09 PM