’مردم شماری 2021 میں تجویز کیا گیا ڈراپ ڈاؤن مینو اب کیوں ہٹایا؟‘ کانگریس کا مودی حکومت سے سوال

جے رام رمیش نے کہا، ’’اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مردم شماری 2027 میں وہ ڈراپ ڈاؤن مینو کیوں نہیں ہے، جس کی سفارش مودی حکومت نے ستمبر 2021 سپریم کورٹ میں جمع کیے گئے حلف نامے میں کی تھی؟‘‘

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

ذات پر مبنی مردم شماری کے حوالے سے اپوزیشن مسلسل مرکزی حکومت کی نریندر مودی حکومت پر سخت تنقید کر رہی ہے۔ اس درمیان کانگریس نے ایک بار پھر حکومت پر حملہ کیا۔ پارٹی کا الزام ہے کہ مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کو روکنا چاہتی ہے۔ پارٹی نے سوال کیا کہ 2027 کی مردم شماری میں ذاتوں کو منتخب کرنے کے لیے ’ڈراپ ڈاؤن مینو‘ کیوں نہیں ہے، جبکہ مرکزی حکومت نے ستمبر 2021 میں سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے اپنے حلف نامے میں اس کی سفارش کی تھی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے 30 اپریل 2025 کو ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان کرکے پوری طرح یو ٹرن لیا تھا، لیکن اب وہ اپنے ہی اس یو ٹرن پر دوبارہ یو ٹرن لے رہے ہیں۔

کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے حکومت کے ارادے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کو روکنا چاہتی ہے۔‘‘ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ’’21 ستمبر 2021 کو مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرکے ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔‘‘ حالانکہ حلف نامے کے پیراگراف 12 (ڈی) میں یہ کہا گیا ہے- ’2011 کی مردم شماری سے قبل ذاتوں کا کوئی رجسٹر تیار نہیں کیا گیا تھا۔ ذاتوں کے رجسٹر کے لیے یہ بہتر ہوتا کہ ذاتوں کو منتخب کرنے کے لیے ایک ڈراپ ڈاؤن مینو دیا جاتا، جس سے کچھ ایسا قابل اعتماد اور یکساں ڈاٹا حاصل ہو پاتا، جس پر یقین کیا جا سکے‘


کانگریس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ ’’اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مردم شماری 2027 میں وہ ڈراپ ڈاؤن مینو کیوں نہیں ہے، جس کی سفارش مودی حکومت نے ستمبر 2021 میں سپریم کورٹ میں جمع کیے گئے حلف نامے میں کی تھی؟۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’اصل میں بہار اور تلنگانہ میں ذات پر مبنی سروے سے قبل ایسا مینو تیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی 5 مئی 2025 کو وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا تھا، جس میں ایسے ہی مینو کا مشورہ دیا گیا تھا۔

جے رام رمیش نے کہا کہ ’’یہ بات صاف ہے مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کو براہ راست سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 30 اپریل 2025 کو مکمل طور پر یو ٹرن لیتے ہوئے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ اس سے قبل انہوں نے اسے اربن نکسل نظریہ قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی۔ وہیں اب انہوں نے اپنے پہلے یو ٹرن پر ایک اور یو ٹرن لے لیا ہے اور بغیر کچھ کہے ذات پر مبنی مردم شماری کے نظریے کو ہی ختم کر دیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے پی ایم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ یو ٹرن کے استاد ہیں۔