مسلم خواتین کے لیے ’’انصاف‘‘ ہندو خواتین کے لیے ’’سب صاف‘‘

حکومت اور بی جے پی مسلم عورتوں کو حقوق دلانے کے لیے میدان میں آگئی تھی لیکن اب ہندو عورتوں کو حقوق دلانے سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہے۔ کیا ہندو عورتیں مظلوم نہیں ہیں۔

جب سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی آئینی بینچ نے 17 اکتوبر کو کیرالہ کے سبریمالہ مندر کے دروازے تمام عمر کی خواتین کے لیے کھول دینے کا فیصلہ سنایا تو اس کی بڑی ستائش ہوئی تھی۔ پوری دنیا کے میڈیا نے اسے ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ آٹھ سو برسوں سے خواتین کو ان کے جس حق سے محروم رکھا گیا تھا وہ اب ان کو مل گیا۔ خیال رہے کہ سبریمالہ مندر کے دیوتا لارڈ ایپّا ہیں۔ مندر کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ مجرد یعنی غیر شادی شدہ ہیں اس لیے اگر ماہواری کی عمر والی خواتین مندر میں درشن کرنے کے لیے جائیں گی تو اس سے ایپّا کی توہین ہوگی۔ لہٰذا دس سال سے لے کر پچاس سال تک کی خواتین کے مندر میں داخلے پر پابندی تھی۔

لیکن جب سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ہر عمر کی خواتین کو مندر میں درشن کا حق ہے تو اس کی جہاں کئی سیاسی جماعتوں نے پذیرائی کی وہیں بی جے پی نے بہت محتاط رد عمل ظاہر کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک مذہبی معاملہ تھا اور بی جے پی کو لگ رہا تھا کہ اگر اس فیصلے کی حمایت کی جائے گی تو اس سے سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس نے حالات کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے خود کو تیار کیا اور جب اسے معلوم ہو گیا کہ شردھالووں کی اکثریت اس فیصلے کے خلاف ہے وہ نہیں چاہتی کہ صدیوں پرانی ایک روایت کا خاتمہ ہو تو اس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کا تہیہ کر لیا۔ جس روز مندر کے دروازے کھلنے والے تھے اس سے دو روز قبل اس نے ایک بڑی ریلی نکالی اور فیصلے کی مخالفت اور شردھالووں کی حمایت کی۔

ادھر کیرالہ کی ریاستی حکومت نے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کا تہیہ کر لیا تھا۔ لیکن شردھالووں کی جانب سے شدید مخالفت کی وجہ سے یہ فیصلہ رو بہ عمل نہیں لایا جا سکا۔ مندر کی جانب جانے والے راستوں پر احتجاجیوں کے غول کے غول موجود تھے۔ وہ کسی بھی خاتون کو ادھر جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ ایک روز قبل ادھر جانے والی گاڑیوں میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی کہ ان میں عورتیں تو نہیں ہیں۔

جس روز مندر کا دروازہ کھلنا تھا اس روز صبح سے ہی وہاں زبردست ہنگامہ آرائی تھی۔ احتجاجیوں نے خاتون صحافیوں کو بھی نہیں بخشا اور ان کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، انھیں رپورٹنگ سے روکا۔ مندر کی طرف جانے والی عورتوں کو جبراً واپس کیا گیا۔ سرکاری املاک کو نذر آتش کیا گیا۔ پولس کا زبردست بندو بست ہونے کے باوجود ایک بھی خاتون مندر میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ جب ایک عورت چھپتے چھپاتے مندر کے زینوں تک پہنچ گئی تو احتجاجیوں کی اس پر نظر پڑی اور انھوں نے اسے واپس کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب اس نے آدھار کارڈ دکھا کر یہ ثابت کیا کہ اس کی عمر پچاس سال سے زائد ہے تب اسے جانے کی اجازت ملی۔ ریاستی پولس کی کوشش کے باوجود سپریم کورٹ کے فیصلے کو نافذ کرنے میں ناکام رہی۔ اب اس نے گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔ دو ہزار سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور بہت سے لوگوں کے خلاف لک آوٹ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

بی جے پی کو اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی رنگ دیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا بی جے پی صدر امت شاہ کنور پہنچ گئے اور اعلان کر دیا کہ بی جے پی شردھالووں کے ساتھ چٹان کی مانند کھڑی ہے۔ ظاہر ہے یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسے توہین عدالت بھی کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر کسی کو کسی فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ اسے چیلنج کرے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ لیکن بی جے پی نے دستور و آئین کی خلاف ورزی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جب ضرورت پڑتی ہے تو وہ دستور کی دہائی دینے لگتی ہے اور کورٹ کے حکم کی پابندی کی بات کرتی ہے اور جب اسے عدالتی فیصلہ سوٹ نہیں کرتا تو وہ اس کی کھلم کھلا مخالفت کرتی ہے۔ اس درمیان مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے ایک ایسا بیان دیا جس پر خود بی جے پی کی خاتون رہنماؤں نے اعتراض کیا ہے۔ بی جے پی کی ایک خاتون لیڈر نے تو یہاں تک کہا کہ اسمرتی کو حکومت میں رہنے کا حق نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اب ملک میں عورتوں کو ان کے وہ حقوق ملنے لگے ہیں جن سے وہ صدیوں سے محروم تھیں۔ لیکن جب مرکزی حکومت اور بی جے پی کی جانب سے سست روی کا مظاہرہ کیا گیا تو انھی خاتون کارکنوں نے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ایک خاتون کارکن وینا سبرامنین نے راقم الحروف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور موجودہ حکومت مسلم خواتین کو انصاف دلانے کے لیے تو ایڑی چوٹی کا زور لگائے رہتی ہیں لیکن ہندو خواتین کو انصاف کیوں نہیں دلایا جاتا۔ اب جبکہ سبری مالا مندر کے دروازے عدالت عظمیٰ نے کھول دیئے ہیں تو اس فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ مسلم عورتوں کے لیے انصاف اور ہندو عورتوں کے لیے سب صاف، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ یہ تو سراسر ناانصافی ہے۔ ایک دوسری خاتون کارکن شبنم ہاشمی نے کہا کہ گزشتہ چار ساڑھے چار برسوں کے دوران اس ملک میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو قانون و انصا ف کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ وہ کھلے عام دستور کی دھجیاں اڑاتا ہے مگر اس طبقے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔

بعض دوسرے کارکنوں کا خیال ہے کہ بی جے پی تو بیٹیوں کو حقوق دینے کی بات بہت کرتی ہے اور بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ کا نعرہ لگاتی ہے لیکن انھیں بیٹیوں کو مندر میں داخل ہونے کے ان کے حق کو بازیاب کرانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتی۔ بلکہ حقوق سے محروم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تین طلاق کے نام پر ایسا ہنگامہ برپا کیا گیا کہ جیسے سارے مسلمان اپنی بیویوں کو تین تین طلاقیں دے کر گھر سے نکال رہے ہیں۔ حکومت اور بی جے پی ان عورتوں کو حقوق دلانے کے لیے میدان میں آگئی تھی لیکن اب ہندو عورتوں کو حقوق دلانے سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہے۔ کیا ہندو عورتیں مظلوم نہیں ہیں۔

ایک سیاسی تجزیہ کار کے مطابق بی جے پی ہر معاملے کو سیاسی نفع نقصان کے ترازو پر تولتی ہے۔ اسے جو معاملہ سیاسی فائدے کا نظر آتا ہے اس کی حمایت کرتی ہے اور جس سے سیاسی خسارہ ہونے کا اندیشہ ہو اسے چھوڑ دیتی ہے یا اس کی مخالفت کرتی ہے۔ امت شاہ کا یہ کہنا کہ بی جے پی شردھالووں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ بی جے پی آخر یہ دوہرا پیمانہ کب تک اختیار کیے رکھے گی۔ حالانکہ یہی بی جے پی کے لوگ تھے جو ممبئی کی حاجی علی درگاہ میں خواتین کے داخلے کے لیے شور مچائے ہوئے تھے۔ لیکن اب وہ اپنی عورتوں کے مندر میں جانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول