مہاراشٹر میں صدارتی راج کا مطالبہ کرنے والے مونگیر فساد پر چپ کیوں ہیں، سنجے راؤت

سنجے راؤت نے کہا، اگر درگا پوجا پر ایسا حملہ یا فائرنگ مہاراشٹر، مغربی بنگال یا کسی دوسری ریاست میں ہوئی ہوتی جہاں اپوزیشن کی حکومت ہے، تو زبردست ہنگامہ برپا ہو سکتا تھا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: شیو سینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مونگیر میں ہونے والے تشدد پر بی جے پی اورریاستی گورنر کوشیاری کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مونگیر میں تاحال تشدد بند نہیں ہوا ہے، لیکن سبھی اس پر چپی سادھے ہوئے ہیں، کہتے ہیں کہ سنجے راؤت نے بی جے پی کو طنز کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہارمیں انتخابات جاری ہیں۔ مونگیر میں دیوی درگا کے وسرجن جلوس کے دوران تشدد پھوٹ پڑا ، جس کے بعد پولیس کی فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ایک نوجوان ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ مونگیر اور اس کے آس پاس بڑے پیمانے پر تشدد جاری ہے۔ تاحال تشدد بند نہیں ہوا ہے۔ لیکن سب اس پر خاموش ہیں۔ وہ جو خود کو ہندو نواز سمجھتے ہیں اور وہ لوگ جو بہار میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ سنجے راؤت نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ وہ سب خاموش کیوں ہیں؟

سنجے راؤت نے کہا، اگر درگا پوجا پر ایسا حملہ یا فائرنگ مہاراشٹر، مغربی بنگال یا کسی دوسری ریاست میں ہوئی ہوتی جہاں اپوزیشن کی حکومت ہے، تو زبردست ہنگامہ برپا ہوسکتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مہاراشٹر میں صدارتی راج اور مغربی بنگال میں صدارتی راج کے لئے اس طرح کا مطالبہ کیا گیا ہوتا۔ مہاراشٹر کے گورنر کو چاہئے کہ وہ بہار کے گورنر کو فون کریں اور انہیں آگاہ کریں۔ کہ آپ فوراہی کارروائی کریں۔ سنجے راؤت نے گورنر سے یہ بھی پوچھا ہے کہ حکومت سیکولر ہے یا نہیں ، انہیں یہ سوال پوچھنا چاہئے۔

    next