سب کچھ ٹھیک ہے تو 36 وزرا کیوں جا رہے ہیں کشمیر؟... سہیل انجم

اگر سب کچھ نارمل اور معمول کے مطابق ہے تو پھر حکومت کے اس قدم کا کیا جواز ہے؟ حکومت اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے پا رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل انجم

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمے کو پانچ ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ ان پانچ مہینوں میں کشمیر کے لوگوں نے جو دکھ جھیلا ہے اس کا اندازہ باہر کے لوگ نہیں لگا سکتے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ کشمیر کو بغیر دیواروں والی ایک جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وہاں کے 80-85 لاکھ افراد اس جیل کے قیدی ہیں۔ ان کی زبانوں اور مواصلات پر پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں۔ ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اب اگر چہ رفتہ رفتہ کچھ لوگوں کو رہا کیا جا رہا ہے لیکن اب بھی بہت بڑی تعداد میں لوگ جیلوں میں بند ہیں۔

سیاحت کشمیر کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے۔ لیکن اب یہ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔ لوگ باہر سے وہاں جاتے ہوئے ڈر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر پابندی کا انتہائی برا اثر وہاں کی سیاحت پر بھی پڑا ہے۔ اس پابندی کی وجہ سے وہاں کی معیشت چوپٹ ہو گئی ہے۔ ان پانچ مہینوں میں پندرہ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔ اسپتالوں، بینکوں، تجارتی و سیاحتی اداروں اور دوسرے مراکز میں انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے لوگوں کو جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ حکومت نے رفتہ رفتہ انٹرنیٹ کھولنے کا فیصلہ کیا اور اب بعض مراکز اور اداروں میں ٹو جی انٹرنیٹ کھولے جا رہے ہیں۔

ان پانچ مہینوں میں کشمیر کو صرف مالی خسارہ ہی برداشت نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ لوگوں کا ذہنی و دماغی سکون بھی غارت ہو کر رہ گیا ہے۔ جب حکومت نے دفعہ 370 کے خاتمے کا اعلان کیا تھا تو کہا تھا کہ اس سے دہشت گردی کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ جموں و کشمیر ترقی کی دوڑ میں دوسری ریاستوں کے ساتھ آجائے گا۔ حالانکہ ترقی کی دوڑ میں وہ کسی بھی ریاست سے پیچھے نہیں تھا بلکہ آگے ہی تھا۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ دوسری ریاستوں کے لیے جو فلاحی اسکیمیں لانچ کی جاتی ہیں ان کا فائدہ کشمیر کے لوگوں کو بھی ملے گا۔

لیکن پانچ مہینوں کے شب و روز اس بات کے گواہ ہیں کہ حکومت کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ دہشت گردی اب بھی جاری ہے۔ معیشت تہس نہس ہو چکی ہے۔

اب لگتا ہے کہ حکومت کو بھی اس کا احساس ہو رہا ہے کہ جو کچھ سوچا گیا تھا وہ نہیں ہوا۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ نوٹ بندی کے وقت بہت سارے فائدے گنائے گئے تھے لیکن ہوا تھا بالکل اس کا الٹا۔ اب غالباً حکومت یہ سمجھنے لگی ہے کہ سب کچھ الٹا ہو رہا ہے اور ریاست کے عوام میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔

حکومت کو وادی کے عوام کی بظاہر کوئی فکر نہیں ہے۔ ہاں جموں کے عوام ناراض نہیں ہونے چاہئیں۔ جب دفعہ 370 کا خاتمہ کیا گیا تھا تو جموں میں خوشی منانے کے اکا دکا واقعات پیش آئے تھے۔ جس کا میڈیا کے ذریعے بہت پرچار کیا گیا تھا۔ وہاں کے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ حکومت جو کہہ رہی ہے ویسا ہی ہوگا۔ لیکن وہاں بھی کچھ نہیں ہوا۔ صرف وادی کے عوام ہی نہیں بلکہ جموں کے عوام بھی پریشان ہیں اور اب شاید وہاں کے لوگوں کی بے چینی بغاوت میں بدلنے والی ہے۔

گزشتہ دنوں وہاں کے ہائی کورٹ نے ملازمتوں کے لیے ایک اشتہار نکالا تھا جس میں پورے ملک کے لوگوں سے درخواستیں منگائی گئی تھیں۔ لیکن اس کی مخالفت شروع ہو گئی۔ جموں کے عوام کو لگا کہ جو ملازمتیں ہمیں ملنی چاہئیں جن کے ہم حقدار ہیں وہ دوسروں کو دی جا رہی ہیں۔ لہٰذا انھوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی۔ مجبور ہو کر ہائی کورٹ کو اپنا اشتہار واپس لینا پڑا۔

جموں ہندو اکثریتی خطہ ہے اور کشمیر مسلم اکثریتی خطہ۔ حکومت کا خیال ہے کہ کشمیر کے عوام بی جے پی کی طرف زیادہ جھکاؤ نہیں رکھتے۔ جموں کے عوام بی جے پی کے سپورٹر اور حمایتی ہیں۔ وہ اس کے ووٹر ہیں۔ اگر کشمیر کے عوام حکومت سے ناراض ہوتے ہیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اگر جموں کے لوگ ناراض ہو جائیں گے تو اس سے بہت فرق پڑ جائے گا۔ اس لیے اب حکومت نے عوام کی ناراضگی کو دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے 36 مرکزی وزرا کو جموں و کشمیر کے دورے پر بھیجا گیا ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جو 36 وزرا جا رہے ہیں ان میں سے 31 جموں جائیں گے اور صرف پانچ کشمیر جائیں گے۔ جو وزرا کشمیر جا رہے ہیں ان میں نرنجن جیوتی جیسے لوگ بھی شامل ہیں جن کی سمجھ کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے ہی ایک بار پارلیمنٹ میں یہ بیہودہ بیان دیا تھا کہ عوام حرام زادوں کو نہیں رام زادوں کو ووٹ دیں گے۔ بالآخر ان کو اپنے اس بیان پر پارلیمنٹ میں معافی مانگنی پڑی تھی۔

کشمیر میں بہت بڑی تعداد میں لوگ یا تو نظربند ہیں یا جیلوں میں ہیں۔ لہٰذا وہاں زیادہ وزرا جا کر کیا کریں گے۔ کس سے بات چیت کریں گے۔ البتہ جو پانچ وزرا جا رہے ہیں ان کی ملاقات کچھ لوگوں سے بالکل اسی طرح کروائی جائے گی جیسی کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے کچھ لوگوں کی کرائی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہاں حالات بہت پرسکون ہیں اور لوگ اس فیصلے سے خوش ہیں۔ ایک سڑک کے کنارے کچھ مقامی باشندوں کے ساتھ بریانی کھانے کی ان کی تصویر خوب وائرل ہوئی تھی۔ اب ایک بار پھر ویسی ہی تصویریں کھنچوائی جائیں گی اور کہا جائے گا کہ سب کچھ نارمل ہے۔

البتہ جموں میں زیادہ لوگوں سے بات چیت کی جائے گی۔ ان کی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی اور انھیں یہ بتایا جائے گا کہ حکومت نے جو فیصلہ کیا تھا وہ بہت اچھا تھا اور اس سے ان کو کوئی نقصان ہونے والا نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان وزرا کی باتیں ان کو کتنی پسند آتی ہیں یا وہ ان سے کتنے قائل ہوتے ہیں۔ کیونکہ لفاظی اور زمینی حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔

جیسے ہی وزرا کے دورے کا پلان بنایا گیا اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی سامنے آگئے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کی وجہ سے کشمیر میں بہت امن چین پیدا ہو گیا ہے۔ حالا ت نے بہت مثبت رخ اختیار کیا ہے اور لوگ بہت خوش ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ اگر حالات نے مثبت رخ اختیار کیا ہے اور لوگ بہت خوش ہیں تو پھر اتنے وزارا کی جو کہ مرکزی کابینہ کی نصف تعداد ہے، جانے کی کیا ضرورت ہے۔

حکومت ملکی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر بھی بار بار یہ بتانے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔ وہاں سب کچھ نارمل ہے۔ اگر سب کچھ نارمل ہے تو پہلی بات تو یہ کہ لوگوں کو اب بھی جیلوں میں کیوں بند رکھا گیا ہے۔ انھیں نظربند اور حراست میں کیوں رکھا گیا ہے۔ انھیں رہا کیوں نہیں کر دیا جاتا۔

دوسری بات یہ کہ اپنے ہی ملک کے عوامی نمائندوں کو وہاں جانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔ ہندوستانی ممبران پارلیمنٹ کے کشمیر دورے پر اب بھی پابندی کیوں ہے۔ بیرونی سفارتکاروں کے دورے کیوں کرائے جا رہے ہیں اور وہ بھی حکومت کی نگرانی میں۔ ان کو آزادانہ دورہ کرنے اور اپنی مرضی سے لوگوں سے ملنے اور بات کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔

تیسری بات یہ کہ اگر سب کچھ نارمل ہے تو پھر اتنی بڑی تعداد میں مرکزی وزرا جموں و کشمیر کا دورہ کیوں کر رہے ہیں۔ کیا وہ وہاں لوگوں کو کچھ سمجھانے جا رہے ہیں اور کیا اب بھی ان کو کچھ سمجھانے کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ عوام میں جو بے چینی پیدا ہو رہی ہے وہ بغاوت کا رخ نہ اختیار کر لے اسی لیے وزرا کو وہاں بھیجا جا رہا ہے۔

اگر سب کچھ نارمل اور معمول کے مطابق ہے تو پھر حکومت کے اس قدم کا کیا جواز ہے؟ حکومت اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے پا رہی ہے۔

Published: 19 Jan 2020, 10:11 PM