پورا ملک جانتا ہے میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے: اعظم خان

صحافیوں کو امید تھی کہ اعظم خان کا لہجہ بجھا ہوا ہوگا اور حکومت کے تئیں وہ نرم رُخ اختیار کریں گے لیکن انہوں نے اسی انداز میں جواب دیا کہ ان کا بیٹا عبداللہ بھی اپنے والد کا چہرہ دیکھتا رہ گیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

لکھنؤ: اعظم خان کو ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ اور بیٹے عبد اللہ اعظم کے ساتھ جمعرات کی صبح رامپور سے سیتاپور جیل منتقل کر دیا گیا۔ علی الصبح جب انہیں منتقل کیا جا رہا تھا تو صحافیوں نے جب یہ سوال کیا کہ آپ کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے؟ تو اعظم خان نے جواب میں اپنا وہی پرانا بیباک انداز برقرار رکھا جس کے لئے وہ جانے جاتے ہیں۔ اعظم خان نے صحافیوں سے کہا، ’’آپ کو نظر نہیں آ رہا! کیا ہو رہا ہے! سارا ملک جانتا ہے۔ اب یہ کسی سے پوشیدہ نہیں رہ گیا ہے۔ مگر ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔

پورا ملک جانتا ہے میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے: اعظم خان

دراصل صحافیوں کو امید تھی کہ اعظم خان، جو ہمیشہ بیباک انداز میں بات کرتے ہیں آج ان لہجہ بجھا ہوا ہوگا اور حکومت کے تئیں وہ نرم رُخ اختیار کریں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ 71 سالہ اعظم خان کی اہلیہ تنزین فاطمہ کو سہارا دے کر چل رہا ان کا بیٹا بھی اپنے والد کے اس انداز کو دیکھتا ہی رہ گیا۔

سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما نے بیٹے اور اہلیہ کے ساتھ گزشتہ روز رامپور کی ایک مقامی عدالت میں خودسپردگی کی تھی۔ جہاں سے عدالت نے انہیں دو مارچ تک عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا تھا لیکن رامپور ضلع انتظامیہ کی جانب سے اعظم خان کے حراست میں ہونے کی وجہ سے نظم و نسق پر تحفظات کا اظہار کیے جانے کے بعد انہیں سیتاپور جیل منتقل کر دیا گیا۔

ادھر، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے جمعرات کو دن میں اعظم خان کنبے سے سیتاپور جیل میں ملاقات کی۔ ایس پی سربراہ نے آج رامپور جانے کے لئے نجی طیارہ بک کر لیا تھا، پہلے وہ بریلی جاتے اور پھر وہاں سے بذریعہ کار رامپور پہنچتے لیکن انہوں نے رامپور اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے اور پھر سیتا پور پہنچ کر پارٹی لیڈر سے ملاقات کی۔

جج کے فیصلے پر کوئی سوال اٹھائے بغیر ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی حکومت بدلے کی سیاست کے تحت کام کر رہی ہے۔ بی جے پی لیڈر آکاش سکسینہ نےضلع رامپور کے گنگ پولیس اسٹیشن میں 03 جنوری 2019 کو فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

سیتاپور جیل سپرنٹنڈنٹ ڈی سی مشرا نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمان اعظم خان ان کے بیٹے عبداللہ کو جیل کے اندر خصوصی سیکورٹی فراہم کی جائے گی جبکہ ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ اعظم کو خاتون بیرک میں رکھا جائے گا۔

اس سے قبل پیر کو رامپور اڈیشنل ڈسٹرکٹ جج دھیریندر کمار نے اعظم کے کنبے کی ضمانت کی عرضی خارج کرتے ہوئے غیر ضمانتی وارنٹ کے ساتھ ان کی ملکیت ضبط کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔ تینوں نے بدھ کو عدالت کے سامنے خودسپردگی کی جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔

پورا ملک جانتا ہے میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے: اعظم خان

رام پور سے تعلق رکھنے والے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان نے حالیہ لوک سبھا انتخابات میں بالی ووڈ اداکارہ جیہ پردا کو شکست دی ہے۔ وہ رامپور سے 9 بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور اترپردیش کی سیاست میں وہ ایک اہم نام ہیں۔ پولیس نے اپریل 2019 میں عدالت میں چارج شیٹ فائل کی تھی۔ چارج شیٹ کے مطابق اعظم کے بیٹے عبداللہ کے پاس دو پاسپورٹ، دو پین کارڈ کے ساتھ دو پیدائش سرٹیفکیٹ ہیں۔ پہلا پیدائش سرٹیفکیٹ جو کہ رام پور نگر پالیکا کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اس پر عبداللہ کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1993 ہے جبکہ دوسرا سرٹیفکیٹ جس میں کہا گیا ہے کہ وہ لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور اس میں ان کی تاریخ پیدائش 30 ستمبر 1990 ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں عبداللہ کے ساتھ ساتھ اعظم اور بیوی تزئین کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی گئی ہے کیونکہ دونوں نے دوسرے سرٹیفکیٹ کے لئے تصدیق نامہ داخل کیا تھا۔

اعظم خان رامپور پارلیمانی حلقے سے رکن پارلیمان ہیں جبکہ ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ رامپور اسمبلی سیٹ سے ایم ایل اے ہیں وہیں بیٹے عبداللہ اعظم سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں سوار اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ دسمبر میں بی جے پی امیدوار کاظم علی خان کی جانب سے داخل عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عبداللہ کی رکنیت کو منسوخ کردیا تھا۔ کاظم خان نے اپنی عرضی میں الزام عائد کیا تھا کہ سال 2017 میں پرچہ نامزدگی داخل کرتے وقت عبداللہ اعظم کی عمر 25 سال سے کم تھی۔عبداللہ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ اس معاملے کی 25 مارچ کو سماعت کرے گا۔

اسی ہفتے پولیس نے اعظم خان کے گھر پر قرقی کا نوٹس بھی چسپاں کیا تھا۔ گزشتہ روز انہوں نے اس معاملہ میں عدالت میں خود سپردگی کر دی، جس کے بعد شام کو انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ اعظم خان کے جیل جانے کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’رامپور میں بجلی چمک رہی ہے۔‘

سماج وادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو کے دائیں ہاتھ کے سمجھے جانے والے اعظم خان تین دہائیوں سے ہندوتوا طاقتوں کی آنکھ کی کرکری بنے رہے ہیں۔ ان کے بیانات اکثر زیر بحث رہتے ہیں اور میڈیا میں انہیں ’فائر برانڈ‘ لیڈر کا لقب دیا جاتا ہے۔ 2017 میں یوگی آدتیہ ناتھ کے اترپردیش کا وزیر اعلی بننے کے بعد سے ہی ان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اعظم خان کے خلاف 80 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم کے مطابق ’’حکومت جان بوجھ کر ان کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ ایک ہی ایماندار سیاست دان ہیں۔ انہوں نے ایک شاندار یونیورسٹی بنائی ہے۔ بس یہ یونیورسٹی ہی کچھ لوگوں کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’اعظم خان صاحب نے ساری زندگی جدوجہد کی ہے اور وہ اس سے ٹوٹنے والے نہیں ہیں۔ تکلیف اس بات کی ہے کہ ان کی اہلیہ بیمار ہیں اور ان کو بھی سازشاً جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یہ سرکاری مشینری کے غلط استعمال کا معاملہ ہے اور حکومت کی انتقامی کارروائی ہے۔‘‘

خیال رہے کہ اکھلیش حکومت میں اعظم خان کو ’سپر سی ایم‘ کے لقب سے نوازا جاتا تھا اور ان کی بھینس کے چوری ہونے کے بعد پورے ضلع کی پولیس کو تلاش کرنے پر لگا دیا گیا تھا۔ اتفاق سے اب ان کے خلاف بھینس کی چوری کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے!

اعظم خان کے نزدیکی اور سہارنپور سے سماج وادی پارٹی کے رہنما فیروز آفتاب کے مطابق پورے ملک میں انتقامی کارروائی جاری ہے۔ یہ کارروائی بھی لالو پرساد یادو اور پی چدمبرم کی طرح بددیانتی سے پُر ہے لیکن وہ اعظم خان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہمت نہیں ہاریں گے۔ وہ ایمرجنسی کے دوران بھی جیل میں رہے اور انہوں نے بہت جدوجہد کی۔‘‘

اعظم خان، جو 1974 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے سکریٹری تھے، وہ موجودہ وقت میں سماج وادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری بھی ہیں۔ انہیں سماج وادی پارٹی کا مرکزی مسلم لیڈر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ان کے بیانات سے سماج وادی پارٹی کو بعض اوقات پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اعظم خان نے رامپور میں ’مولانا محمد علی جوہر‘ کے نام سے ایک یونیورسٹی بنائی ہے، جس کے اقلیتی درجے کے لئے بھی انہیں کافی جدوجہد کرنی پڑی۔

رکشہ یونین قائد کے طور پر اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والے اعظم خان کی رامپور نواب کے خاندان کے ساتھ ان بن چلتی رہتی ہے۔ اعظم خان کے والد معمولی ٹائپسٹ تھے انہوں نے اے ایم یو سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور دبے کچلے لوگوں کی آواز بن گئے۔

ادھر، رامپور میں اعظم خان کی گرفتاری پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اعظم خان فی الحال یہاں سے رکن پارلیمان ہیں جبکہ ان کی اہلیہ رکن اسمبلی ہیں۔ رام پور کے فیاض خان کہتے ہیں، ’’اعظم صاحب نے عدالت میں خود سپردگی کی، کیوں کہ انہیں عدلیہ پر بھروسا ہے لیکن انہیں انصاف نہیں ملا۔ رامپور کے لوگ سخت نالاں ہیں اور ہم سب ان کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایسا ہی چلتا رہا تو ہم سب بھی ان کے ساتھ جیل میں جائیں گے، رامپور کے ہزاروں لوگ جیل جانے کو تیار ہیں۔‘‘

Published: 27 Feb 2020, 4:11 PM