سی بی آئی ڈائریکٹر کی دوڑ میں سبودھ جیسوال، وائی سی مودی اور او پی سنگھ سب سے آگے

کون بنے گا سی بی آئی ڈائریکٹر؟ آلوک ورما کو ہٹائے جانے کے بعد یہ سوال سبھی کے ذہن میں ہے۔ مرکزی حکومت کے ڈی او پی ٹی نے اس کی تلاش شروع کر دی ہے اور کچھ ناموں پر غور بھی ہو رہا ہے۔

قومی آوازبیورو

آلوک ورما کو سی بی آئی سے ہٹانے اور اس کے بعد ان کے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد مرکزی حکومت نے نئے سی بی آئی ڈائریکٹر کا نام طے کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس کے لیے ملک کے 10 ڈائریکٹر جنرل سطح کے آئی پی ایس افسران کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدہ کی دوڑ میں اس وقت جو تین نام موضوع بحث ہیں ان میں 1985 بیچ کے آئی پی ایس افسر اور ممبئی کے پولس کمشنر سبودھ کمار جیسوال، اتر پردیش کے پولس ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ اور قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کے سربراہ وائی سی مودی شامل ہیں۔

ڈی او پی ٹی یعنی ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ تقریباً 3 یا 4 افسران کے نام کی فہرست طے کرے گا اور اس پر غور کے لیے فہرست سلیکشن کمیٹی کے پاس بھیجی جائے گی۔ اس کمیٹی میں وزیر اعظم نریندر مودی، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے شامل ہیں۔ یہ کمیٹی ہی دو سال کی طے مدت کار کے لیے ان میں سے ایک نام پر آخری فیصلہ لے گی۔

غور طلب ہے کہ آلوک ورما کی مدت کار 31 جنوری کو ختم ہونے والی تھی۔ ایسے میں نئے سی بی آئی ڈائریکٹر کے نام کا فیصلہ 31 جنوری سے پہلے ہی ہونا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ ڈی او پی ٹی کو دسمبر 2018 میں سی بی آئی ڈائریکٹر کے سلیکشن کے لیے 17 افسران کی فہرست بھیجی گئی تھی۔ وہیں ایک دیگر افسر نے بتایا کہ ڈی او پی ٹی کے افسر کے ناموں کی چھوٹی فہرست بنانے کے عمل میں مصروف ہیں۔ اس فہرست میں ایسے افسران کے نام شامل کیے جائیں گے جنھیں بدعنوانی کے معاملوں کی جانچ میں تجربہ، سی بی آئی میں پہلے کام کرنے کا تجربہ، کیڈر میں وجلنس کے معاملوں کو نمٹانے کا تجربہ ہو۔ اس کے علاوہ افسر کی ایمانداری کو بھی بنیاد بنایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہہ سپریم کورٹ نے 2004 میں جو گائیڈ لائنس طے کیے تھے اس کے مطابق آئی پی ایس کے چار سب سے پرانے بیچ کے افسر سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدہ پر تعینات کیے جاتے ہیں۔ سینئرٹی اور انسداد بدعنوانی کے معاملوں کی جانچ میں تجربہ کے سبب افسران کی فہرست میں 1983 بیچ کے افسر اور وزارت داخلہ میں خصوصی سکریٹری (داخلی سیکورٹی) رینا مترا، اتر پردیش کے پولس ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ اور سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل راجیو رائے بھٹناگر کے نام شامل ہیں۔

دوسری طرف 1984 بیچ کے کچھ اہم ناموں میں این آئی اے سربراہ وائی سی مودی، نیشنل سیکورٹی گارڈی یعنی این ایس جی کے ڈائریکٹر جنرل سدیپ لکھ ٹکیا، پولس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بیورو کے سربراہ اے پی ماہیشوری، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کریمنولوجی اینڈ فورنسک سائنس کے ڈائریکٹر ایس جاوید احمد، بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل رجنی کانت مشرا اور آئی ٹی بی پی کے سربراہ ایس ایس دیسوال کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 1985 بیچ کے آئی پی ایس افسر اور ممبئی پولس کمشنر سبودھ کمار جیسوال بھی دعویدار ہیں۔

رینا مترا اور مودی کے پاس سی بی آئی اور بدعنوانی روکنے والے برانچ میں کام کرنے کا طویل تجربہ ہے۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ سبودھ کمار جیسوال کے نام پر مہر لگنے کا امکان ہے۔ جیسوان نے ریسرچ اینڈ انالیسس وِنگ (را) میں رہ چکے ہیں اور ممبئی پولس کمشنر بننے سے قبل کابینہ سکریٹری میں بطور ایڈیشنل سکریٹری مامور تھے۔

رینا مترا کے علاوہ او پی سنگھ اور راجیو رائے بھٹناگر 1983 بیچ کے افسر ہیں اور سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے بیچ کے ہیں۔ راکیش استھانہ ان کے خلاف ان کی ہی ایجنسی کے ذریعہ داخل ایف آئی آر کو ختم کروانے کی قانونی کارروائی لڑ رہے ہیں۔