ایکناتھ شندے کا سرپرست کون تھا اور وہ تنتر منتر پر کتنا یقین رکھتے ہیں!

ایکناتھ شندے کے سرپرست بھی بال ٹھاکرے سے الگ ہو گئے تھے اور اپنی علیحدہ پارٹی بنانا چاہتے تھے، اب 20 سال بعد شندے اپنے سرپرست کے نقش قدم پر چل رہے ہیں

شیو سینا کے باغی لیڈر ایکناتھ شندوے / یو این آئی
شیو سینا کے باغی لیڈر ایکناتھ شندوے / یو این آئی
user

سجاتا آنندن

ادھو ٹھاکرے کے خلاف بغاوت کی قیادت کرنے والے ایکناتھ شندے پہلے ہی شیوسینا میں نمبر دو آدمی تھے۔ ان کو اس حقیقت کا بھرپور علم ہے کہ ان کے نام کے ساتھ ٹھاکرے نہیں لگا ہوا ہے، اس لئے وہ نمبر دو سے نمبر ایک تو نہیں بن سکتے۔

آنند دیگھے کے سب سے زیادہ کٹر شیوسینکوں میں سے ایک تھے اور شندے ان کے حامیوں میں سے تھے۔ دیگھے کی دہشت بہت زیادہ تھی اور بال ٹھاکرے نے انہیں باغیوں کو ہوش میں لانے کے لیے استعمال کیا تھا۔ چھگن بھجبل جو اس وقت شیو سینا میں تھے اور آج این سی پی میں ہیں وہ شیوسینا سے الگ ہو گئے اور 1991 میں سرمائی اجلاس کے دوران غائب ہو گئے، تو ٹھاکرے نے اس وقت دیگھے کو اختیار دیا تھا کہ وہ بھجبل کو زندہ یا مردہ واپس لائیں!

جبکہ ٹھاکرے نے ناگپور اور بمبئی کے درمیان ہر ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن پر لوگوں کو تعینات کیا ہوا تھا، اس کے باوجود بھجبل کا کوئی پتہ نہیں لگا تھا۔ سینا کے رہنماؤں نے مایوسی کے عالم میں اخبارات سے رابطہ کیا اور ان سے یہ اطلاع دینے کی درخواست کی کہ دیگھے تھانے سے ناگپور جا رہے ہیں۔ انہیں امید تھی کہ یہ بھجبل کو اپنی چھپے ہوئے ٹھکانے سے باہر نکال دے گا۔

دیگھے اس کے بعد بہت طاقتور بن گئے اور ٹھاکرے نے ان کو زیر کرنے کی کوشش کی۔ دیگھے اپنی پارٹی بنانے ہی والے تھے کہ ریاستی ٹرانسپورٹ کی بس کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے اور اسپتال میں ان کی موت ہو گئی۔ ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ دیگھے کو ’اعلیٰ کمان‘ کی ہدایت پر راستہ سے ہٹایا گیا ہے، جس وجہ سے حامیوں نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور اسے نذر آتش بھی کر دیا تھا۔


تقریباً 20 سال بعد شندے نے دیگھے کی زندگی پر مبنی ایک مراٹھی فلم کی مالی اعانت کی، جس میں انہیں ’رابن ہڈ‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ فلم ’دھرمویر‘ نے اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ یہ دیگھے ہی تھے جنہوں نے ممبئی میں مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ شروع کیا تھا۔

دیگھے اور ٹھاکرے کے درمیان دراڑ کی بہت سی وجوہات میں سے یہ بھی ایک تھی۔ فلم ’دھرمویر‘ کو بنانے پر 5 کروڑ روپے لگے اور اس نے 25 کروڑ روپے کمائے یعنی شندے کو پانچ گنا منافع ہوا لیکن اس فلم کا اصل مقصد یہ تھا شندے خود کو دیگھے کے سیاسی وارث کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے۔

تاہم، شندے نے اپنے کارڈ بہت جلد کھول دئے۔ ان کی بغاوت نے تھانے کے اپنے علاقہ میں بھی شیوسینکوں کے درمیان اپنے لیے حمایت کھو دی۔ وہ اپنے حق میں اس طرح کی حمایت بھی حاصل نہیں کر سکے جو ان کے سرپرست نے حاصل کی تھی اور نہ شندے کی پارٹی پر اپنے سرپرست کی طرح کوئی گرفت ہے۔

بال ٹھاکرے نے مختلف اضلاع کا مکمل چارج اپنے خاص لوگوں کو سونپا ہوا تھا۔ نارائن رانے کو کونکن، چھگن بھجبل کو ناسک، گنیش نائک کو نوی ممبئی اور تھانے دیگھے کے کنٹرول میں تھا۔ یہ اضلاع ان لوگوں کی ایک طرح سے جاگیر تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دیگھے کو چھوڑ کر سبھی نے شیوسینا چھوڑ دی۔ یہاں تک کہ دیگھے بھی موت سے پہلے شیو سینا چھوڑنے پر غور کر رہے تھے۔


ادھو ٹھاکرے نے تاہم ہر ضلع میں اپنی پارٹی کا مجموعی کنٹرول برقرار رکھا ہے، اس لیے شندے کی جاگیر میں بھی وفاداریاں تقسیم ہونے کا امکان ہے۔ بہر حال، گنیش نائک کو چھوڑ کر سینا کا کوئی اور باغی حکمراں پارٹی کی حمایت کے باوجود شیو سینا کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس لیے شندے کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بیچ میں کھڑے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تانترک اور تنتر منتر کی سرگرمیوں میں بھی یقین رکھتے ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کا ’جادو‘ یا تنتر کا علم کتنا کامیاب ہوتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔