دہشت گرد دیویندر کو کون خاموش کرنا چاہتا ہے؟ راہل گاندھی کا سوال

جموں و کشمیر پولیس سے معطل ڈی ایس پی دیویندر سنگھ معاملے کی جانچ این آئی اے کو سونپے جانے پر راہل گاندھی نے اعتراض کیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ ملزم سے راز اگلوانے کے بجائے اسے خاموش کرنے کی کوشش ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے دہشت گردوں سے ساز باز کے الزام میں جموں و کشمیر پولیس سے معطل ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کے معاملے کی جانچ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کو سونپے جانے پر اعتراض کیا ہے۔ راہل گاندھی نے شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملزم سے راز اگلوانے کے بجائے اسے خاموش کرنے کی کوشش ہے۔

راہل گاندھی نے آج اپنے ٹویٹ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا’’دہشت گر ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کو خاموش کرنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے کہ معاملے کی جانچ این آئی اے کو سوپنا۔این آئی اے کے سربراہ ایک دیگر مودی - وائی کے (مودی ) ہیں۔ جنہوں نے گجرات فساد اور ہیرین پانڈیا قتل معاملوں کی جانچ کی تھی۔ وائی کے کی نگرانی میں یہ معاملہ جیسے ختم ہو جائے گا۔

آگے انہوں نے ہیش ٹیگ کیا ہے- دہشت گرد دیویندر کو کون خاموش کرنا چاہتا ہے؟

واضح رہے کہ دیویندر سنگھ کو 11جنوری کو حذب المجاہدین کے دو مطلوب دہشت گردوں کے ساتھ گرفتار کیاتھا۔ میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق حکومت نے اس معاملے کی جانچ این آئی اے کو سونپ دی ہے۔

راہل گاندھی اس سے پہلے بھی اس معاملہ پر ٹوئٹ کر چکے ہیں۔ گزشتہ روز اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا تھا، ’’ڈی ایس پی داویندر سنگھ نے ایسے 3 دہشت گردوں کو اپنی پناہ میں رکھا جن کے ہاتھوں پر خون لگا ہوا ہے اور انہیں دہلی لے جانے کے دوران پکڑا گیا۔ اس پر 6 ماہ کے اندر فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعہ مقدمہ چلایا جانا چاہئے اور اگر وہ قصوروار پایا جاتا ہے تو اس کو غداری کے لئے سخت ترین سزا دی جانی چاہئے۔‘‘