سیلاب کے پانی کا مالک کون؟ آندھر پردیش کے خلاف داخل کی گئی عرضی پر سماعت کرے گی سپریم کورٹ

تلنگانہ نے سپریم کورٹ سے سوال کیا ہے کہ ’’کیا کوئی ریاست بین ریاستی ندی میں سیلاب کے پانی کا استعمال یکطرفہ طریقے سے کرنے کی کوشش کر سکتا ہے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پوری دنیا میں ندیوں اور سمندروں کے پانی کی تقسیم ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہندوستان کی ریاستوں کے درمیان بھی ندی کے پانی کی تقسیم کے متعلق تنازعہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن ملک کی نئی ریاست تلنگانہ نے سپریم کورٹ میں ایک انوکھا معاملہ اٹھایا ہے۔ تلنگانہ نے آندھرا پردیش کے پولاورم-بنکاچرلا لنک پروجیکٹ (پی بی ایل پی) پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تلنگانہ نے سپریم کورٹ سے سوال کیا ہے کہ ’’کیا کوئی ریاست بین ریاستی ندی پر یکطرفہ طریقے سے سیلاب کے پانی کا استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے؟‘‘

تلنگانہ نے عدالت سے کہا کہ پی بی ایل پی پروجیکٹ گوداوری آبی تنازعات ٹریبونل کے فیصلہ کی خلاف ورزی کرتا ہے، ساتھ ہی یہ پروجیکٹ تلنگانہ کے باشندوں کو گوداوری ندی کے پانی میں ان کے حصے سے محروم کر دے گا۔ ریاست نے بتایا کہ ٹریبونل کے فیصلے میں اضافی سیلاب کے پانی پر کچھ نہیں کہا گیا ہے، آندھرا پردیش کے پروجیکٹس ہمارے حصے میں کٹوتی کرتے ہیں۔


سپریم کورٹ کے سامنے تلنگانہ نے کہا کہ ٹریبونل کے فیصلے میں اضافی سیلاب کے پانی کے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی ہے اور جب کہ آندھرا پردیش کے پروجیکٹس، سیلاب کے پانی کا استعمال کرنے کی آڑ میں بنائے گئے ہیں جو تلنگانہ کے گوداوری پانے کے حصے کو کم کر سکتے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ایسا کوئی نظام موجود ہی نہیں ہے جو یہ طے کر سکے کہ کس پروجیکٹ میں سیلاب کے پانی کا استعمال کیا جا رہا ہے یا آبی تنازاعات ٹریبونل کے فیصلے کے ذریعہ ریاستوں کو مختص پانی کے ایک مقرر کردہ حصے کا۔ ریونت ریڈی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ آندھرا پردیش حکومت کا اضافی سیلاب کے پانی کے استعمال کرنے کی آڑ میں پروجیکٹس کے ذریعہ زیادہ پانی کے استعمال کرنے کا فیصلہ پورے ملک میں ردعمل کا ایک سلسلہ پیدا کر دے گا۔ کرناٹک بھی اسی طرح کرشنا ندی کے زیادہ پانی کا استعمال کرنا چاہتا ہے، جس کی وجہ سے تلنگانہ میں پانی کی مزید کمی ہو سکتی ہے۔

سیلاب کے پانی کے استعمال کے متعلق تلنگانہ نے بتایا کہ مہاراشٹر نے بھی کہا ہے کہ اگر آندھرا پردیش کو سیلاب کے پانی پر مبنی پروجیکٹ بنانے کی منظوری دی جاتی ہے تو وہ بھی نام نہاد سیلاب کے پانی پر پروجیکٹ بنانا چاہے گا۔ اس سے بیسن والی ریاستوں میں پانی کے استعمال کا پیٹرن مکمل طور سے غیر مستحکم ہو جائے گا، جو گوداوری آبی تنازعات ٹریبونل (جی ڈبلیو ڈی ٹی) کے پابند فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی۔


واضح رہے کہ چیف جسٹس آن انڈیا (سی جے آئی) کی قیادت والی بنچ آئندہ ہفتہ پیر کو تلنگانہ حکومت کی جانب سے داخل ایک عرضی پر سماعت کرے گی۔ اس میں سنٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں آندھرا پردیش حکومت کو پولاورم-بنکاچرلا لنک پروجیکٹ (پی بی ایل پی) کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ پروجیکٹ فزیبلٹی رپورٹ (پی ایف آر) کے لیے کوئی اصولی منظوری نہیں ملی ہے، جبکہ ڈی پی آر تیار کرنے سے اسے لینا ضروری ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ پولاورم پروجیکٹ گوداوری ندی پر گوداوری آبی تنازعات ٹریبونل کے مطابق بنایا جانا تھا، جس کی وجہ سہ کرشنا ڈیلٹا سسٹم میں استعمال کے لیے اپنے نہری نظام کے ذریعہ کرشنا ندی میں 80 ہزار ملین کویبک فٹ (ٹی ایم سی) پانی لے جانا تھا۔ لیکن اب کرشنا ندی میں 80 ٹی ایم سی پانی کی منظور شدہ منتقلی کی جگہ آندھرا پریش حکومت بغیر کسی منظوری کے پولاورم پروجیکٹ کے انفراسٹرکچر کی توسیع کر رہی ہے۔ تاکہ گوداوری کے سیلاب کے پانی کو لے جانے کے بہانے پولاورم-بنکاچرلا لنک پروجیکٹ یا پولاورم-نلامالاساگر لنک پروجیکٹ کے ذریعہ کرشنا ندی اور اس سے آگے اضافی 200 ٹی ایم سی (بعد میں 300 ٹی ایم سے بڑھانے کا ارداہ ہے) پانی لے جایا جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔