کون ہے وہ سفید پوش جس نے منا بجرنگی کی موت سے پہلے بینک سے دس کروڑ نکالے؟

پولس ذرائع کے مطابق منا بجرنگی جونپور سے لوک سبھا چناؤ لڑنے کی تیاری کر رہا تھا، اس لئے اسے قتل کر کے راستہ سے ہٹانے کی سازش رچی گئی۔

باغپت: ڈان منا بجرنگی کے جیل میں ہوئے قتل کی تہیں اب کھلنے لگی ہیں۔ اتر پردیش پولس کی ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ منا بجرنگی کا قتل کرنے کے عوض میں 10 کروڑ روپے ادا کئے گئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ منا بجرنگی پر اندھادھند گولیاں برسا کر قتل کو انجام دینے والا سنیل راٹھی صرف ایک مہرہ ہے۔

پولس کی تفتیش میں سب سے حیران کر دینے والی بات یہ سامنے آئی ہے کہ منا بجرنگی کی موت سے دو روز قبل جونپور کے ایک بینک سے 7 کروڑ کی رقم نکالی گئی۔ یہیں کے ایک دوسرے بینک سے اگلے دن 3 کروڑ روپے نکالنے کی بھی اطلاع ہے۔ پولس کے مطابق یہ رقم پوروانچل (مغربی اتر پردیش) کے ایک سفیدپوش نے نکلوائی ہے۔

غورطلب ہے کہ پوروانچل کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ دھننجے سنگھ پر منا بجرنگی کی بیوی سیما سنگھ نے قتل کی سازش رچنے کا الزام عائد کیا تھا۔ سمجھا جا رہا ہے کہ پولس جس سفید پوش کی جانب اشارہ کر رہی ہے یہ وہی ہے۔

فی الحال پولس بینک کھاتوں کی تفصیلات نکلوا رہی ہے۔ میرٹھ کے آئی جی راج کمار واردات کا معمہ حل کر لینے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ پولس ذرائع کا کہنا ہے کہ منا بجرنگی جونپور سے لوک سبھا چناؤ لڑنے کی تیاری کر رہا تھا اور اس کو راستہ سے ہٹانے کے لئے ہی یہ سازش رچی گئی۔ باغپت کے ایس پی جے پرکاش کے مطابق وہ واقعہ کا پوری طرح پردہ فاش کرنے کے بے حد قریب ہیں۔

بجرنگی کی بیوی سیما سنگھ نے اس سے پہلے اپنی تحریر میں بھی تقریباً اسی طرح کی کہانی بیان کی تھی جو پولس کی کہانی سے میل کھا رہی ہے۔

پیر کے روز دو جولائی کو منا بجرنگی کا باغپت جیل میں قتل کر دیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب جیل میں جانچ کرنے والے افسران بھی بلیٹ پروف جیکٹ پہن کر تفتیش کرنے جا رہے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول