’طلبہ کو مارنے کا حکم کس نے دیا؟‘ راہل گاندھی نے امت شاہ کو خط لکھ کر اٹھائے کئی اہم سوالات
راہل گاندھی نے اپنے خط میں دوسرا بڑا سوال ان لوگوں کے بارے میں اٹھایا، جو مبینہ طور پر سادہ کپڑوں میں طلبہ کی پٹائی کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ لوگ پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر دہلی میں 20 جولائی کو ہونے والے طلبہ کے احتجاج کے دوران سیکورٹی فورسز کی کارروائی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ خط شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’طلبہ کو مارنے کا حکم کس نے دیا؟‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر وحشیانہ طریقے سے طاقت کا استعمال کیا گیا اور اس کی جوابدہی طے ہونی چاہیے۔
راہل گاندھی نے 25 جولائی 2026 کی تاریخ والے اپنے خط میں لکھا کہ طلبہ ایک منصفانہ اور جوابدہ تعلیمی نظام کا مطالبہ کر رہے تھے۔ لیکن ان کی بات سننے کے بجائے سیکورٹی فورسز نے ان پر اندھا دھند طاقت کا استعمال کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرے کے دوران مہلک ہتھیاروں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس سے سینکڑوں طلبہ زخمی ہوئے۔ راہل گاندھی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ طالبات کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مار پیٹ کی اور ان کے نازک اعضاء کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
راہل گاندھی نے اپنے خط میں دوسرا بڑا سوال ان لوگوں کے بارے میں اٹھایا، جو مبینہ طور پر سادہ کپڑوں میں طلبہ کی پٹائی کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ لوگ پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا کہ ان لوگوں کی تعیناتی کس کے حکم پر کی گئی تھی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دہلی میں تعینات سیکورٹی فورسز آخر کار مرکزی وزیر داخلہ کے تحت آتی ہیں، اس لیے اس کارروائی کی جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے۔
راہل گاندھی نے خط میں لکھا کہ پرامن احتجاج کسی بھی جمہوریت کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری مظاہرین کی حفاظت کو یقینی بنانا اور بات چیت کے ذریعے ان کے مسائل کا حل نکالنا ہوتا ہے۔ لیکن جس طرح کا تشدد ہوا، اس نے جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا ہے اور پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان اور طلبہ، جو ہندوستان کے مستقبل ہیں، جواب اور جوابدہی مانگ رہے ہیں۔ ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا اور ان کی بات سنی جائے گی۔
راہل گاندھی نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ طلبہ کا مطالبہ تعلیمی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا تھا۔ اس مطالبے کا جواب مذاکرات سے دیا جانا چاہیے تھا، لیکن اس کے بجائے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے اس پورے واقعے کی جوابدہی طے کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ یہ خط راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا اور بعد میں اپنی ’ایکس‘ پوسٹ پر شیئر کیا۔ خط میں انہوں نے حکومت سے طلبہ کے احتجاج کے دوران ہونے والی کارروائی پر واضح جواب دینے اور یہ بتانے کا مطالبہ کیا کہ طاقت کے استعمال کا فیصلہ کس سطح پر لیا گیا تھا۔
راہل گاندھی نے خط میں آگے لکھا کہ سب سے زیادہ حیران کن بات پیلٹ گن کا استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹس میں کئی لوگوں کے شدید زخمی ہونے کی بات کہی گئی ہے، جن میں ایک صحافی بھی شامل ہے۔ راہل گاندھی نے لکھا کہ انہوں نے 19 سالہ طالب علم ساحل لوچھاب سے ملاقات کی، جو پیلٹ گن لگنے کے بعد شدید درد میں مبتلا ہے اور اس کی ایک آنکھ کی بینائی جانے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے پوچھا کہ کیا طلبہ کے خلاف پیلٹ گن اور دیگر مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری انہوں نے دی تھی؟ اگر نہیں، تو یہ حکم کس نے دیا تھا؟
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
