کورونا: تبلیغی جماعت معاملہ پر شرد پوار نے دہلی حکومت سے ہی پوچھ ڈالا سوال

این سی پی سربراہ شرد پوار نے ایک بات چیت کے دوران یہ سوال اٹھایا کہ مہاراشٹر حکومت نے ممبئی اور سولاپور میں ہونے والے بڑے اجلاس کی اجازت نہیں دی، لیکن تبلیغی جماعت کو دہلی میں جلسہ کی اجازت کس نے دی؟

این سی پی سربراہ شرد پوار
این سی پی سربراہ شرد پوار
user

قومی آوازبیورو

دہلی میں تبلیغی جماعت مرکز پر ہوئے جلسہ کے تعلق سے لگاتار میڈیا میں خبریں آ رہی ہیں اور تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کے لیے کئی جھوٹی خبریں بھی سوشل میڈیا پر خوب گشت کر رہی ہیں جو بعد میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ اس درمیان نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے پیر کے روز ایک ایسا سوال کیا جس نے دہلی حکومت کٹہرے میں کھڑی ہو گئی ہے۔ انھوں نے نئی دہلی کے نظام الدین واقع مرکز میں تبلیغی جماعت کے مذہبی جلسہ کے تعلق سے سوال کیا ہے کہ آخر اس کی اجازت کس نے دی؟

این سی پی سربراہ نے فیس بک پر لوگوں کے ساتھ لائیو بات چیت میں کہا کہ مہاراشٹر حکومت نے اس سے پہلے یہاں اس طرح کے انعقاد کی اجازت نہیں دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ "مہاراشٹر میں دو بڑے اجلاس، ایک ممبئی کے پاس اور دوسری سولاپور ضلع میں مجوزہ تھے۔ ممبئی کے پاس والے جلسہ کے لیے اجازت پہلے ہی نہیں دی گئی جب کہ پولس نے ریاست کی جانب سے جاری مشورے کی خلاف ورزی کرنے کے لیے سولاپور پروگرام کے منتظمین کے خلاف سخت کارروائی کی۔" شرد پوار نے پوچھا کہ "اگر مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ اور وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے ایسے فیصلے لے سکتے ہیں تو دہلی میں اسی طرح کے پروگرام کی اجازت دینے سے انکار کیوں نہیں کیا گیا اور کس نے اس کے لیے منظوری دی؟"

Posted by Sharad Pawar on Sunday, April 5, 2020

سابق مرکزی وزیر شرد پوار نے نظام الدین کے جلسہ کو میڈیا میں زور و شور سے اچھالے جانے پر بھی مایوسی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ "میڈیا کے لیے اس کو اتنا زیادہ اچھالنا کیوں ضروری ہے؟ یہ (میڈیا) بے وجہ ملک میں ایک طبقہ کو نشانہ بناتا ہے۔"

واضح رہے کہ تبلیغی جماعت مرکز کو کورونا وائرس کے ایک بڑے سنٹر کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس مذہبی انعقاد میں دو ہزار سے زیادہ لوگ جمع ہوئے تھے اور بعد میں ان میں سے کئی کورونا وائرس کے انفیکشن میں مبتلا پائے گئے۔ کورونا انفیکشن کے شکار ہونے کے بعد جلسہ میں شامل کئی لوگ اپنی ریاستوں کی طرف گئے اور مبینہ طور پر ریاستوں میں کورونا کا پھیلاؤ بڑھا۔ کئی میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ملک میں ہوئی تقریباً 15 اموات اور انفیکشن کے 400 سے زیادہ معاملے تبلیغی جماعت کے جلسہ کی وجہ سے سامنے آئے۔