تمل ناڈو: اومیکرون کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ کا امکان، عالمی ادارہ صحت کے سائنسدان کا انتباہ

سوامی ناتھن نے جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ، وزیر صحت اور محکمہ صحت کے عہدیداران کے ساتھ جائزہ میٹنگ میں کہا کہ اومیکرون ویرینٹ صحت سے متعلق خدمات فراہم کرنے کی تیاری کرنے کے لئے وقت نہیں دیتا ہے۔

کورونا وائرس، تصویر یو این آئی
کورونا وائرس، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

چنئی: معروف سائنس دان سومیا سوامی ناتھن سمیت عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے تمل ناڈو کے محکمہ صحت کو اومیکرون کے معاملوں میں اچانک اضافہ کے امکان کا انتباہ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ تہواروں کے دوران ٹیکوں کی کم تعداد اور کورونا پروٹوکول پر عمل نہیں کرنے کے بعد اومیکرون کے معاملوں میں اضافہ کے امکان کا انتباہ دیا ہے۔

سوامی ناتھن نے جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ، وزیر صحت اور محکمہ صحت کے عہدیداران کے ساتھ جائزہ میٹنگ میں کہا کہ اومیکرون ویرینٹ صحت سے متعلق خدمات فراہم کرنے کی تیاری کرنے کے لئے وقت نہیں دیتا ہے۔


ریاست کے محکمہ صحت کے عہدیداران کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے چیف سائنسدان نے انتباہ دیا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ میں منتقلی کی شرح اعلیٰ ہے اور یہ اینٹی باڈی اور قوت مدافعت سے بچ جاتا ہے۔ ماہرین نے حکومت کو اور زیادہ بستر، آکسیجن سلینڈر، ادویات اور ٹیسٹ کٹ کے ساتھ تیار رہنے کے لئے آگاہ کیا ہے۔

ریاست کے صحت سکریٹری جے رادھاکرشنن نے لوگوں سے کرسمس، نئے سال اور پونگل کو محتاط انداز میں منانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مذہبی مقامات پر جسمانی طور پر نہ جا کر آن لائن ’درشن‘ اور ورچوئل جشن منانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ غلط اطلاع کو روکنے کے لئے محکمہ تعلیم مواد اور میڈیا بریف جاری کرے گا۔


تاہم، ریاستی حکومت کوئی نئی پابندی عائد نہیں کرے گی اور موجودہ شرائط 31 دسمبر تک جاری رہیں گی۔ دریں، اثنا، وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ایک سرکاری بیان میں لوگوں سے ریاست بھر میں کیمپوں کے ذریعے ٹیکہ کاری سہولات کا استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔