انسپکٹر نے میرٹھ میں ’جاگرن‘ کی نہیں دی اجازت تو بی جے پی لیڈر نے کہا ’جاگرن ہوگا، جتنی طاقت ہو لگا لینا‘

وائرل آڈیو میں بی جے پی لیڈر کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ’’یہ پروگرام روایتی طور پر ہر سال اسی تاریخ کو ہوتا آ رہا ہے، لہٰذا اسے بدلا نہیں جائے گا۔‘‘

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی لیڈر اور میرٹھ کے پولیس انسپکٹر کے درمیان بحث کی ایک آڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں بی جے پی لیڈر انتظامیہ سے اجازت لیے بغیر ہی علاقے میں ’جاگرن ‘ کرانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ معاملہ میرٹھ کے انتہائی حساس علاقہ ہاشم پورہ کا ہے جہاں بی جے پی لیڈر 2 مئی کی شب ’دیوی جاگرن‘ کرانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے پولیس انسپکٹر نے اجازت نہیں دی، ان کا کہنا ہے کہ وہ ہائیوے پر جاگرن کا پروگرام اس دن نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ 2 مئی کا یا تو چاند رات ہوگی یا پھر عید پڑ سکتی ہے۔ ایسے میں فرقہ وارانہ تشدد کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

وائرل آڈیو میں بی جے پی لیڈر کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ’’یہ پروگرام روایتی طور پر ہر سال اسی تاریخ کو ہوتا آ رہا ہے، لہٰذا اسے بدلا نہیں جائے گا۔‘‘ اس پر انسپکٹر نے کہا ’’گزشتہ سال کا اجازت نامہ ہے تو رمضان کے بعد جاگرن کروا دوں گا۔‘‘ اس پر بی جے پی لیڈر نے کہا ’’جاگرن روایتی طور سے ہو رہا ہے، اسے ہم ٹال نہیں سکتے۔‘‘ پھر انسپکٹر نے جواب دیا ’’آپ کے کہنے پر فساد کرا دوں کیا؟ مین روڈ پر (جاگرن) قطعی نہیں ہونے دوں گا۔‘‘ اس جواب سے بی جے پی لیڈر ناراض ہو گئے اور غضب ناک انداز میں کہا کہ ’’جتنی طاقت ہو لگا لینا۔ آپ کے بس کی ہو تو روک لینا جاگرن‘‘


آڈیو میں بی جے پی لیڈر پولیس انسپکٹر پر بری طرح ناراض ہوتے ہوئے سنائی پڑ رہے ہیں۔ وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ ’’تمھاری جتنی طاقت ہو لگا لینا، جاگرن ہو کر رہے گا۔‘‘ بی جے پی لیڈر کی بات سن کر انسپکٹر نے بھی جواباً کہا ’’تم کوشش کر لینا جاؤ، ہم نہیں کرنے دیں گے۔‘‘ پھر بی جے پی لیڈر کی آواز آتی ہے ’’مسلمانوں کے حساب سے ہم اپنی دیوی جی کا جاگرن نہیں بند کریں گے۔ کوتوال صاحب تم میں جتنا زور ہو لگا لینا اور ہم بھی اپنا زور لگا لیں گے۔‘‘ انسپکٹر بھی پورے عزم کے ساتھ کہتے ہوئے سنائی پڑتے ہیں کہ ’’یہ ملی جلی آبادی ہے، وہاں (ہائی وے پر) رمضان کے دوران (جاگرن) قطعی نہیں ہونے دیں گے۔ ملک آئین کے حساب سے چلتا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔