جب راجناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں جھوٹ بول رہے تھے، تب بی جے پی اراکین پارلیمنٹ تالیاں بجا رہے تھے: کانگریس
کانگریس لیڈر کرنل روہت چودھری نے کہا کہ مودی حکومت کی بنیاد جھوٹ پر ٹکی ہے، انھیں اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ملک پوچھ رہا ہے کہ ہمارے شہید جوانوں کے نام سامنے آنے میں 13 ماہ کیوں لگ گئے؟

گزشتہ دنوں مرکزی حکومت نے آپریشن سندور میں شہید ہونے والے 6 جانبازوں کے نام جاری کیے، جس کے بعد کانگریس مستقل حملہ آور نظر آ رہی ہے۔ ہنگامہ اس بات پر ہو رہا ہے کہ پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کسی بھی ہندوستانی جوان کے شہید نہ ہونے کا بیان دیا تھا، اور اب 6 شہیدوں کا نام جاری کر دیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس کے سینئر لیڈر کرنل روہت چودھری نے آج ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ’آپریشن سندور‘ کے شہیدوں کی بے عزتی کی ہے، ان کو نظر انداز کیا ہے۔ راجناتھ سنگھ نے ایوان میں جھوٹ بولا کہ ’آپریشن سندور‘ میں کسی بھی فوجی کی موت نہیں ہوئی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے اندر صرف جھوٹ بولا جاتا ہے اور فریب کیا جاتا ہے۔‘‘
مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کرنل روہت نے کہا کہ ’’مودی حکومت کی بنیاد جھوٹ پر ٹکی ہوئی ہے، انھیں اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ملک پوچھ رہا ہے کہ ہمارے شہید جوانوں کے نام سامنے آنے میں 13 مہینے کیوں لگ گئے؟‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’یہ نیشنل سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ ہے، کیونکہ جب فوجی ملک کے لیے شہید ہوتا ہے تو اس کی پلٹن فخر محسوس کرتی ہے اور اس کی شہادت ایک مثال قائم کرتی ہے۔‘‘
جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر میں ہر سال سیکورٹی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے 6 اپریل سے 8 اپریل 2025 کے دوران سیکورٹی کا جائزہ لیا اور وہاں 17 اپریل کو ہونے والا وزیر اعظم کا دورہ رد کر دیا۔ امت شاہ نے بتایا کہ سیکورٹی میں کوئی کمی نہیں ہے، لیکن اس کے 5 دن بعد ہی پہلگام حملہ ہو گیا۔‘‘ پہلگام واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’لوگوں کو ایک گھنٹے تک چن چن کر مارا گیا۔ اس دوران ٹورسٹ آپریٹرز کو حملے کی جانکاری ہو گئی، لیکن سیکورٹی ایجنسیوں کو اس کا پتہ ہی نہیں چلا۔ یہ کیسا حفاظتی انتظام تھا؟‘‘
کرنل روہت چودھری نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے مودی حکومت کی ناکامی پر ناراضگی ظاہر کی اور پریس کانفرنس میں کئی مثالیں سامنے رکھ دیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت نے آپریشن سندور کے وقت پاکستان مقبوضہ کشمیر کو لانے کا موقع گنوا دیا۔ ہماری خارجہ پالیسی بے حد کمزور رہی، ہمیں 60 اراکین پارلیمنٹ کو باہر بھیجنا پڑا تاکہ ہماری بات دنیا کو بتائیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’امریکہ کے صدر ٹرمپ نے عاصم منیر کو دعوت دی۔ پاکستان کو عالمی اداروں سے بڑے قرض ملے۔ دنیا کی سبھی دہشت گرد تنظیموں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری پاکستان کو سونپ دی گئی۔‘‘
کانگریس لیڈر نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی پر ہندوستانی فوجیوں کی بے عزتی کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی فوجیوں کی بات تو کرتی ہے، لیکن ان کے کندھوں پر رکھ بندوق چلاتی ہے، شہیدوں کے نام پر ووٹ مانگتی ہے، ان کی بے عزتی کرتی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’جب راجناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں جھوٹ بول رہے تھے کہ کسی بھی فوجی کا نقصان نہیں ہوا ہے، تب بی جے پی اراکین پارلیمنٹ تالیاں بجا رہے تھے۔ ان میں سے کسی کو بھی ایوان میں بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ملک کی فوج اور فوجیوں کی بے عزتی کی ہے، ہم ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وزیر دفاع کے خلاف خصوصی استحقاق کی خلاف ورزی کا قرارداد لایا جائے، ساتھ ہی راجناتھ سنگھ کے جھوٹ میں ساتھ دینے کے لیے نریندر مودی اور بی جے پی اراکین پارلیمنٹ معافی مانگیں۔ اگنی ویر منصوبہ کو پوری طرح ختم کرنے کا مطالبہ بھی کانگریس لیڈر نے کیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
